'کوئی شرم ہوتی ہے': مولانا فضل الرحمان نے خواجہ آصف کا مشہور جملہ انہی پر لوٹا دیا
#مولاناکی_للکار کیوں ٹرینڈ کر رہا ہے: تہران مذاکرات پر وزیرِ دفاع پر مولانا کا طنز، وائرل کلپ اور تقریر کی باقی باتیں۔

“کوئی شرم ہوتی ہے، کوئی حیا ہوتی ہے” برسوں سے خواجہ آصف کی پہچان ہے۔ بدھ، 28 اکتوبر کو مولانا فضل الرحمان نے یہی جملہ قومی اسمبلی میں وزیرِ دفاع کی طرف اشارہ کر کے دہرایا اور پورا ایوان ہنس پڑا۔ جمعرات کی صبح تک کلپ ہر جگہ تھا اور #مولاناکی_للکار جیسے ہیش ٹیگ پاکستان میں ٹرینڈ کر رہے تھے۔
مولانا فضل الرحمان نے خواجہ آصف سے کیا کہا؟
جے یو آئی (ف) کے سربراہ پیر کو تہران میں ہونے والی ملاقات کا ذکر کر رہے تھے، جہاں فیلڈ مارشل عاصم منیر، سعودی وزیرِ دفاع شہزادہ خالد بن سلمان اور ترک انٹیلی جنس چیف ابراہیم قالن نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کی۔ اگست میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے مکہ دفاعی معاہدے کے نمائندوں کی ایرانی قیادت سے یہ پہلی ملاقات تھی۔
مولانا کا نکتہ سیدھا تھا: ایران میں دفاعی معاہدے کی بات ہو رہی ہے اور وزیرِ دفاع یہاں بیٹھے ہیں۔ انہوں نے کہا، “خواجہ آصف صاحب بھی یہاں تشریف رکھتے ہیں”، اور پوچھا کہ کیا وزیرِ خارجہ اور وزیرِ دفاع کی وہاں بھی کوئی اور ڈیوٹی ہے۔ پھر خواجہ آصف کی طرف دیکھ کر بولے: “کوئی شرم ہوتی ہے، کوئی حیا ہوتی ہے۔”
خواجہ آصف مسکرائے اور اپنی نشست پر بیٹھے رہے۔ دونوں طرف کے ارکان ہنس پڑے۔
کلپ وائرل کیوں ہو رہا ہے؟
کیونکہ یہ جملہ پہلے سے میم ہے۔ خواجہ آصف نے برسوں پہلے قومی اسمبلی میں یہ پی ٹی آئی ارکان کے لیے کہا تھا، اور تب سے یہ ری ایکشن ویڈیوز، واٹس ایپ اسٹیکرز اور کمنٹس میں چلتا آ رہا ہے۔ وہی جملہ اسی ایوان میں اس شخص کو واپس سنانا جس نے اسے مشہور کیا، یہی بات لوگوں کو شیئر کرنے پر مجبور کر گئی۔
جے یو آئی (ف) کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے یہ لمحہ ایکس پر پوسٹ کیا اور چند گھنٹوں میں ویڈیو کو ہزاروں لائکس مل گئے۔
مولانا کی تقریر میں اور کیا تھا؟
طنز والا حصہ شیئر ہو رہا ہے، مگر تقریر زیادہ تر سنجیدہ تھی:
- انہوں نے الزام لگایا کہ 11 اکتوبر کو خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج لگاتے وقت حکومت نے آئین کا غلط استعمال کیا اور وہاں اقتدار “طاقت کے زور پر” منتقل ہوا۔
- حکومت اور اپوزیشن کو ایک میز پر بیٹھ کر نیا میثاقِ جمہوریت بنانے کی دعوت دی اور کہا کہ برداشت ختم ہو چکی ہے۔
- کہا کہ انہوں نے پی ٹی آئی کے اسلام آباد مارچ کا معاملہ سلجھانے کی کوشش کی، اور بعد میں نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے فون کر کے بتایا کہ کابینہ ان کی تجویز سے متفق نہیں۔ یہ مولانا کا مؤقف ہے، حکومت نے اس فون کال پر اپنا مؤقف نہیں دیا۔
- بلوچستان میں امن و امان پر سوال اٹھائے۔
اسپیکر ایاز صادق نے تقریر مکمل کرنے دی مگر کہا کہ غیر پارلیمانی الفاظ حذف کیے جائیں گے، اور ایک جملہ کارروائی سے نکال دیا گیا۔ جے یو آئی (ف) کے حامیوں کا کہنا ہے کہ تقریر کے کچھ حصے کاٹے گئے، #سنسرڈ_پارلیمنٹ_نامنظور اسی سے نکلا ہے؛ اسمبلی نے حذف شدہ جملے کے سوا کچھ نہیں کہا۔
حکومت نے کیا جواب دیا؟
وزیرِ پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے جواب میں کہا کہ کے پی میں گورنر راج چھ ماہ رہے گا اور ایمرجنسی صرف دہشت گردی سے متاثرہ چند اضلاع میں ہے۔ خواجہ آصف نے ایوان میں اب تک اس طنز کا جواب نہیں دیا۔ اگر دیا، تو امکان یہی ہے کہ ایک بار پھر اپنا ہی جملہ استعمال کریں گے۔



