تائیوانی ایئرلائنز پر پاکستانی فضائی حدود بند؟ خواجہ آصف کی تصدیق، ڈان کو مارچ تک اجازت نامے ملے
بلومبرگ کے مطابق پاکستان نے چائنا ایئرلائنز اور ایوا ایئر کے لیے فضائی حدود بند کیں، مگر ڈان نے مارچ 2027 تک اجازت کی دستاویزات کا بتایا۔ اب تک کیا معلوم ہے؟

تائیوان کی دو بڑی ایئرلائنز، چائنا ایئرلائنز اور ایوا ایئر، ہفتہ 25 اکتوبر کی صبح سے پاکستان کے اوپر سے نہیں گزریں۔ یہ بات بلومبرگ نے فلائٹ ریڈار 24 کے ڈیٹا کی بنیاد پر بتائی۔ بدھ کو وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے بلومبرگ کو وجہ بتائی: ایوی ایشن ڈویژن ون چائنا پالیسی پر عمل کرتا ہے، صرف مین لینڈ چین کو اجازت ہے۔
لیکن بدھ کی شام تک معاملہ الجھ گیا۔ ڈان نے، جس نے پہلے بلومبرگ کی خبر شائع کی تھی، اپنی خبر اپ ڈیٹ کی اور بتایا کہ اس کے پاس موجود دستاویزات کے مطابق دونوں ایئرلائنز کو 28 اکتوبر سے 27 مارچ 2027 تک پاکستانی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔
خواجہ آصف نے کیا کہا؟
بلومبرگ سے بات کرتے ہوئے وزیرِ دفاع نے کہا کہ ہم نے صرف چینی ایئرلائنز کو پاکستان کے اوپر سے پرواز کی اجازت دی ہے۔ بلومبرگ نے اسے کسی بھی ملک کی طرف سے اپنی نوعیت کا پہلا قدم قرار دیا، اور بزنس ریکارڈر اور پرو پاکستانی سمیت پاکستانی اداروں نے بھی یہی بات دہرائی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ چین خود تائیوانی طیاروں کو اپنی فضائی حدود سے گزرنے دیتا ہے، یعنی اگر پاکستان مکمل پابندی لگائے تو وہ چین سے بھی زیادہ سخت ہوگی۔
پروازوں کا ڈیٹا کیا بتاتا ہے؟
اب تک سب سے ٹھوس ثبوت فلائٹ ٹریکنگ ہے۔ بلومبرگ کے مطابق اتوار سے دونوں ایئرلائنز کی ایشیا اور یورپ کے درمیان کم از کم ایک درجن پروازیں پاکستان کے بجائے روس کے اوپر سے گئیں۔
یہ خود ایک بڑی بات ہے، کیونکہ فروری 2022 میں یوکرین جنگ شروع ہونے کے بعد سے تائیوانی ایئرلائنز بھی زیادہ تر بین الاقوامی کمپنیوں کی طرح روسی فضائی حدود سے بچتی آئی تھیں۔ تائیوان کے ایوی ایشن ادارے نے راستے کی تبدیلی پر تبصرہ نہیں کیا، صرف یہ کہا کہ اس نے روس کے اوپر پرواز پر کبھی باقاعدہ پابندی نہیں لگائی۔ دونوں ایئرلائنز نے بھی کچھ کہنے سے انکار کیا۔
تو پابندی ہے یا نہیں؟
فی الحال دو مختلف باتیں سامنے ہیں۔ وزیر کا بیان کہتا ہے کہ صرف چینی ایئرلائنز کو اجازت ہے، جبکہ ڈان کی دستاویزات کے مطابق دونوں تائیوانی کمپنیوں کو سرمائی شیڈول کے لیے اجازت نامہ ملا ہے، جو ہوابازی میں مارچ کے آخر تک چلتا ہے۔
ممکن ہے دونوں باتیں جزوی طور پر درست ہوں: 25 اکتوبر سے عارضی رکاوٹ اور پھر 28 اکتوبر سے نیا اجازت نامہ۔ لیکن بدھ کی شام تک نہ حکومت، نہ سول ایوی ایشن اتھارٹی اور نہ دفترِ خارجہ نے اس پر کوئی باضابطہ بیان دیا تھا۔ سرکاری مؤقف آنے پر ہم یہ خبر اپ ڈیٹ کریں گے۔
پاکستان کے لیے اہمیت
اوور فلائٹ فیس ہوابازی کے اداروں کی مستقل آمدن ہے، اور جو ایئرلائن پاکستان سے ہٹ کر راستہ لیتی ہے وہ یہ آمدن بھی ساتھ لے جاتی ہے۔ 2025 کی کشیدگی کے بعد سے پاکستان نے بھارتی ایئرلائنز کے لیے فضائی حدود بند رکھی ہوئی ہے، جس کی مدت حال ہی میں 24 نومبر تک بڑھائی گئی۔
پاکستان 1950 کی دہائی کے آغاز سے بیجنگ کو چین کی واحد حکومت مانتا ہے اور تائیوان سے اس کے سرکاری تعلقات نہیں ہیں۔
آگے کیا دیکھنا ہے: آنے والے دنوں میں چائنا ایئرلائنز اور ایوا ایئر کی پروازیں دوبارہ پاکستان کے اوپر سے گزرتی ہیں یا نہیں۔ اس کا جواب کسی پریس ریلیز سے پہلے فلائٹ ٹریکنگ دے دے گی۔
ذرائع
- Bloomberg: Pakistan Shuts Out Taiwan Airlines, Citing One-China Policy
- Dawn: Pakistan allows Taiwanese airlines to use airspace till March 2027
- Business Recorder: One-China policy: Pakistan bars Taiwan carriers from airspace: report
- ProPakistani: Pakistan Closes Airspace to Taiwanese Airlines in Support of China
یہ خبر اے آئی کی مدد سے تحقیق اور تحریر کی گئی، پھر شائع کرنے سے پہلے ہمارے ایڈیٹر نے اس کی جانچ اور تدوین کی۔



