اسرائیلی انتخابات کے نتائج: نیتن یاہو 53، آئزنکوٹ 48، حکومت کون بنائے گا؟
نیتن یاہو کا اتحاد اکثریت کھو بیٹھا، عرب جماعتوں نے ریکارڈ 19 نشستیں جیتیں اور کوئی اکیلا حکومت نہیں بنا سکتا۔ آگے کیا ہوگا؟

اسرائیل کے انتخابات کسی واضح فاتح کے بغیر ختم ہو گئے ہیں۔ بدھ کو تقریباً 86 فیصد ووٹوں کی گنتی کے بعد اندازہ تھا کہ بنیامین نیتن یاہو کا دائیں بازو اور مذہبی جماعتوں کا اتحاد 120 رکنی پارلیمان (کنیسٹ) میں 53 نشستیں جیتے گا، جو اکثریت کے لیے درکار 61 سے کم ہیں، جبکہ گادی آئزنکوٹ کے اپوزیشن اتحاد کو 48 نشستیں مل رہی ہیں۔
یہی وہ نئی بات ہے جو ہمارے انتخابات سے پہلے کے تجزیے کے بعد سامنے آئی: سروے سخت مقابلے کی پیش گوئی کر رہے تھے، اور نتیجہ تعطل نکلا۔ اسی لیے بدھ کو پاکستان میں “israeli elections netanyahu” گوگل پر سب سے زیادہ تلاش کی جانے والی چیزوں میں تھا، پانچ ہزار سے زیادہ سرچز کے ساتھ۔
اب تک کے اعداد و شمار
- نیتن یاہو کا اتحاد (لیکوڈ، انتہائی دائیں بازو اور الٹرا آرتھوڈوکس جماعتیں): 53 نشستیں متوقع۔ پچھلی اکثریت ختم۔
- آئزنکوٹ کا اتحاد (نیتن یاہو مخالف جماعتیں): 48 نشستیں، جو انتخابی سروے سے کم ہیں۔
- عرب جماعتیں: ریکارڈ 19 نشستیں۔
- ٹرن آؤٹ: 77.7 فیصد، جو دو دہائیوں میں سب سے زیادہ ہے، اور اس میں اسرائیل کے فلسطینی شہریوں کا بڑا حصہ ہے۔
حتمی سرکاری نتائج جمعرات کی شام یا جمعہ تک متوقع ہیں، اور ایک دو نشستوں کا فرق آ سکتا ہے۔
حکومت کون بنائے گا؟
ابھی کوئی نہیں۔ آئزنکوٹ عرب جماعتوں کی حمایت کے بغیر 61 تک نہیں پہنچ سکتے، اور انتخابی مہم میں وہ کہہ چکے ہیں کہ عرب ارکان کے ساتھ حکومت نہیں بنائیں گے۔ ان کے اتحاد میں بائیں بازو کی بڑی جماعت کے سربراہ یائر گولان اب یہی چاہتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ یہودی اور عرب ووٹوں کی تقسیم اب قبول نہیں کی جانی چاہیے۔
66 سالہ آئزنکوٹ نے نیتن یاہو کو ایسا نگران وزیرِ اعظم کہا جس کے پاس “نہ مینڈیٹ ہے نہ عوام کا اعتماد” اور جلد حکومت بنانے کا وعدہ کیا۔ نیتن یاہو نے “مضبوط، دائیں بازو کی قومی حکومت” کا مطالبہ کیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلیوں سے نیتن یاہو کو اقتدار میں رکھنے کی اپیل کی۔
آگے کیا ہوگا؟
فیصلہ اب صدر اسحاق ہرزوگ کے ہاتھ میں ہے۔ اگلے ہفتے سرکاری نتائج ملنے کے بعد وہ تمام جماعتوں سے مشاورت کریں گے اور اس شخص کو حکومت بنانے کی دعوت دیں گے جو ان کے خیال میں اتحاد بنا سکتا ہے، چاہے وہ سب سے بڑی جماعت کا سربراہ نہ ہو۔ ہرزوگ کہہ چکے ہیں کہ وہ نئے انتخابات سے بچنا چاہتے ہیں، نیتن یاہو اور آئزنکوٹ کی مشترکہ حکومت کی حمایت کریں گے، اور یہ کہ امریکی صدر سمیت کوئی ان کے فیصلے میں مداخلت نہیں کر سکتا۔
نئی حکومت بننے تک نیتن یاہو نگران وزیرِ اعظم رہیں گے اور ایران کے ساتھ جنگ سمیت ان کے اختیارات برقرار رہیں گے۔
پاکستانی کیوں دیکھ رہے ہیں؟
پاکستان ایران جنگ کے حوالے سے ثالثی کا حصہ رہا ہے، اور نیتن یاہو نے انتخابی رات ٹرمپ کے ساتھ ایران کے خلاف نئی مشترکہ فوجی کارروائی کا ذکر کیا۔ اکثریت کے بغیر مگر پورے جنگی اختیارات کے ساتھ نگران نیتن یاہو خطے کے لیے سب سے غیر یقینی صورتحال ہے۔ منڈیوں نے بھی یہ محسوس کیا: بدھ کو اسرائیلی کرنسی شیکل تقریباً 1.6 فیصد گری اور تل ابیب کے بڑے انڈیکس 3 فیصد سے زیادہ نیچے آئے۔
اگلی اہم تاریخ ہرزوگ کی مشاورت ہے، جو اگلے ہفتے سرکاری نتائج ملنے کے بعد شروع ہوگی۔



