ایل پی جی کی قیمت: وزیر پٹرولیم نے ایران بارڈر کی بندش کو ذمہ دار قرار دیا، سلنڈر 7 ہزار سے اوپر

وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ ایل پی جی اوگرا کے ریٹ سے کئی گنا مہنگی کیوں ہے اور سردیوں سے پہلے حکومت کیا کر رہی ہے۔

Two LPG tanker trucks parked by a roadside in Pakistan
تصویر: Arab News / Reuters

وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے پیر 26 اکتوبر کو قومی اسمبلی کو بتایا کہ پاک ایران سرحد کی بندش ایل پی جی مہنگی ہونے کی بڑی وجوہات میں سے ایک ہے۔ ڈان کے مطابق انہوں نے کہا کہ حکومت اب سمندری راستے سے گیس منگوانے کی کوشش کر رہی ہے۔

سلنڈر پر کھانا پکانے والے گھرانوں کے لیے یہ وجہ تو سمجھ آتی ہے، مگر ریلیف ابھی نظر نہیں آ رہا۔ اوگرا کا سرکاری ریٹ تقریباً 280 روپے فی کلو ہے، جبکہ اراکین اسمبلی کے مطابق دور دراز اور شمالی علاقوں میں لوگ 700 سے 800 روپے فی کلو دے رہے ہیں۔

ایل پی جی اتنی مہنگی کیوں ہوئی؟

وزیر نے ایوان کو دو اہم اعداد بتائے۔ ان کے مطابق پاکستان کی 50 سے 60 فیصد ایل پی جی ایران سے آتی تھی اور باقی قطر سے۔ ملک کا کہنا تھا کہ امریکہ ایران جنگ کی وجہ سے قطر سے سپلائی معطل ہے، اور ایران والا راستہ سرحد بند ہونے سے کٹ گیا۔

بلوچستان میں گبد ریمدان اور تفتان کراسنگ 17 اکتوبر کو بند ہوئیں۔ روئٹرز کے مطابق بلوچستان حکومت نے اس کی وجہ سیکیورٹی اور اسمگلنگ بتائی، جبکہ ایرانی وزارت خارجہ نے اسے تکنیکی مسئلہ کہا۔ پاکستان ایل پی جی ایسوسی ایشن نے روئٹرز کو بتایا کہ ملک روزانہ تقریباً 7 ہزار ٹن ایل پی جی ایران سے منگوا رہا تھا، جس میں سے 4 ہزار ٹن سے زیادہ صرف گبد ریمدان سے آتی تھی۔

تاجروں کے مطابق چند دنوں میں 12 کلو کا سلنڈر ساڑھے 4 ہزار سے 7 ہزار روپے تک پہنچ گیا۔ روئٹرز نے لاہور میں تقریباً ساڑھے 7 ہزار اور اسکردو میں 8 ہزار 200 روپے کی قیمت رپورٹ کی۔ لاہور کے ایک شہری نے بتایا کہ پہلے وہ 250 روپے کلو خریدتے تھے، اب 500 سے 600 روپے دے رہے ہیں۔

قومی اسمبلی میں کیا کہا گیا؟

یہ معاملہ ایل پی جی کی “غیر معمولی” قیمتوں پر توجہ دلاؤ نوٹس کے ذریعے اٹھا، جو ایم این ایز عالیہ کامران، شاہدہ بیگم اور نعیمہ کشور خان نے پیش کیا۔ عالیہ کامران نے کہا کہ جہاں پائپ والی گیس نہیں وہاں ایل پی جی ہی بنیادی ایندھن ہے، اور سردیوں میں اس کی مانگ اور قیمت دونوں بڑھ جاتی ہیں۔ نعیمہ کشور خان نے سوال کیا کہ ایران کے ساتھ سرحدی تجارت روکی ہی کیوں گئی۔

وزیر نے مانا کہ سرکاری قیمت 280 روپے کلو ہے، اور ساتھ ایک تلخ اعتراف بھی کیا: سپلائی زیادہ ہو تب بھی گیس سرکاری ریٹ پر نہیں بکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ پورے نظام کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور بیرون ملک سے گیس لینے کی پالیسی موجود ہے۔

کیا سرحد دوبارہ کھل گئی ہے؟

ہم جتنا تصدیق کر سکے، صرف جزوی طور پر۔ روئٹرز کے مطابق گبد ریمدان پچھلے ہفتے پاکستان کی جلد خراب ہونے والی برآمدات کے لیے کھولی گئی، مگر ایل پی جی کی درآمد رکی رہی اور گوادر چیمبر کے سابق صدر کے مطابق دونوں طرف سینکڑوں ٹرک پھنسے ہوئے تھے۔ وزیر کا سمندری راستے سے گیس لانے کا منصوبہ بتاتا ہے کہ حکومت زمینی راستہ جلد کھلنے پر انحصار نہیں کر رہی۔

آپ کے کچن کے لیے اس کا مطلب

  • سرکاری قیمت اور دکان کی قیمت الگ ہیں۔ اوگرا کا نوٹیفائیڈ ریٹ مانگیں، جو ریگولیٹر ہر ماہ اپنی ویب سائٹ پر جاری کرتا ہے۔
  • سردی قیمت مزید بڑھاتی ہے۔ نومبر سے مانگ بڑھتی ہے، اس لیے سپلائی بحال ہونے کے بعد بھی قیمت جلدی نہیں گرتی۔
  • نیا ریٹ آنے والا ہے۔ اوگرا عموماً اکتوبر کے آخری دنوں میں نومبر کی قیمت کا اعلان کرتا ہے۔

سلنڈر زیادہ دن چلانے کے طریقے ہماری ایل پی جی بچت گائیڈ میں موجود ہیں۔ اس ہفتے دیکھنے کی بات اوگرا کا نومبر کا ریٹ ہے، اور یہ کہ سمندر سے آنے والی پہلی کھیپ کوئٹہ، لاہور اور گلگت بلتستان میں سلنڈر کی قیمت کم کرتی ہے یا نہیں۔

ذرائع

  1. Dawn: Minister blames closure of border for LPG price hike
  2. Reuters via Arab News: Pakistan faces LPG shortages, price surge as Iran border trade stalls

یہ خبر اے آئی کی مدد سے تحقیق اور تحریر کی گئی، پھر شائع کرنے سے پہلے ہمارے ایڈیٹر نے اس کی جانچ اور تدوین کی۔

مزید پڑھیں