مولانا فضل الرحمان کی معافی والی ویڈیو جعلی ہے: اسمبلی تقریر پر اے آئی آواز
قومی اسمبلی میں مولانا فضل الرحمان کے معافی مانگنے کی وائرل ویڈیو اے آئی سے بنی ہے۔ اصل ویڈیو کہاں ہے، اور اس ماہ کی دوسری جعلی کلپ۔

سوشل میڈیا پر بدھ سے گردش کرنے والی وہ ویڈیو جعلی ہے جس میں مولانا فضل الرحمان قومی اسمبلی میں معافی کی درخواست کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ تصویریں اصلی ہیں، یعنی 28 اکتوبر کو ایوان میں ان کی تقریر کی ہیں، مگر “میں نے معافی مانگ لی ہے، پھر بھی قبول نہیں کر رہے” والی آواز اے آئی سے بنا کر ویڈیو پر چڑھائی گئی ہے۔
یہ اسی اجلاس کی اگلی کڑی ہے جس میں جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے خواجہ آصف کا مشہور جملہ “کوئی شرم ہوتی ہے” انہی پر لوٹا دیا تھا۔ وہ تقریر وائرل ہونے کے چند گھنٹے بعد ہی اس کا جعلی روپ پھیلنا شروع ہو گیا۔
جعلی کلپ میں کیا ہے
26 سیکنڈ کی ویڈیو میں مولانا بظاہر کہتے ہیں: “میرا قصور کیا ہے؟ یہ میرے پیچھے کیوں پڑے ہیں؟ میں نے معافی مانگ لی ہے مگر یہ قبول نہیں کر رہے۔” ایک اکاؤنٹ نے لکھا کہ مولانا “آج اسمبلی میں معافیاں مانگتے رہے”۔ صرف اسی پوسٹ کو 20 ہزار سے زیادہ بار دیکھا گیا۔ اسے آگے بڑھانے والوں میں خود کو وزیراعظم آفس کا کوآرڈینیٹر بتانے والے جلال شیرازی اور پنجاب حکومت کے سابق ترجمان شہزاد یونس شیخ بھی شامل تھے۔
ان اکاؤنٹس میں سے زیادہ تر، ان کے تعارف اور پرانی پوسٹس کے مطابق، مسلم لیگ (ن) کے حامی ہیں۔
یہ جعلی کیسے ثابت ہوئی
- اصل تقریر میں کوئی معافی نہیں۔ یہ مناظر قومی اسمبلی کے اپنے یوٹیوب چینل پر 28 اکتوبر کی تقریر کے 3:25 سے 3:51 منٹ والے حصے سے لیے گئے ہیں۔ اصل میں مولانا بیرسٹر گوہر اور اسد قیصر کا ذکر کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ چار پانچ ماہ سے وزیراعظم سے نہیں ملے، اور نئے میثاقِ جمہوریت کی بات کرتے ہیں۔ معافی کا کہیں ذکر نہیں۔
- جماعت کی اپنی ویڈیو بھی یہی کہتی ہے۔ جے یو آئی کی ڈیجیٹل میڈیا ٹیم نے اسی دن ایکس پر تقریر شیئر کی تھی، اس میں بھی یہ جملے نہیں۔
- ہونٹ اور آواز میل نہیں کھاتے۔ غور سے دیکھیں تو الفاظ اور ہونٹوں کی حرکت میں فرق صاف نظر آتا ہے۔
- اے آئی ٹولز نے آواز پکڑ لی۔ فیکٹ چیک کرنے والوں نے آواز کئی اے آئی ڈیٹیکٹرز سے گزاری تو مصنوعی آواز ہونے کا امکان ایک ٹول پر تقریباً 67 فیصد اور دوسرے پر 100 فیصد آیا، جبکہ ایک ٹول کو اوپن اے آئی ماڈل کا ڈیجیٹل واٹرمارک بھی ملا۔
اس ماہ یہ پہلی جعلی ویڈیو نہیں
22 اکتوبر کو فیس بک پر ایک اور کلپ پھیلا جس میں دعویٰ تھا کہ مولانا نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی پر اپنی تنقید پر معافی مانگ لی ہے۔ وہ ویڈیو اصلی مگر پرانی تھی: جولائی 2026 کا ایک پیغام جو انہوں نے آزاد کشمیر کی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے لیے ریکارڈ کیا تھا اور جے یو آئی کے یوٹیوب چینل پر موجود ہے۔ اس کی آواز بدل کر اے آئی آواز ڈال دی گئی تھی۔ جے یو آئی کے ڈیجیٹل ونگ نے اسی وقت اسے جھوٹی خبر قرار دیا تھا۔
اسی ہفتے قومی احتساب بیورو نے بھی ایک اور اے آئی ویڈیو کو غلط قرار دیا جس میں کہا گیا تھا کہ نیب نے مولانا کے خلاف تحقیقات تیز کر دی ہیں۔ نیب کے مطابق کسی انکوائری کی حیثیت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔
یہ کیوں اہم ہے
مولانا فضل الرحمان خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے سب سے بڑے ناقدین میں سے ہیں اور ان کی تقریریں ان دنوں پاکستان میں سب سے زیادہ شیئر ہونے والے سیاسی کلپس میں ہیں۔ اسمبلی کے 26 اصلی سیکنڈ اور ایک نقلی آواز، تیزی سے اسکرول کرنے والے کو دھوکا دینے کے لیے کافی ہیں، اور واٹس ایپ پر پہنچتے پہنچتے کلپ کا سیاق و سباق بھی غائب ہو جاتا ہے۔
آسان طریقہ: کسی سیاستدان کی چونکا دینے والی ویڈیو آگے بھیجنے سے پہلے قومی اسمبلی کے یوٹیوب چینل یا اس شخص کے اپنے صفحے پر پوری تقریر دیکھ لیں۔ اگر وہ جملہ وہاں نہیں، تو کبھی کہا ہی نہیں گیا۔



