پیٹرول کی قیمت آج: 3.19 روپے کمی کے بعد 376.06 روپے، ڈیزل 2.25 روپے مہنگا

بدھ 28 اکتوبر سے پیٹرول 376.06 روپے اور ڈیزل 398.07 روپے فی لیٹر۔ دونوں کی قیمتیں الگ سمت میں کیوں گئیں اور ہر لیٹر میں ٹیکس کتنا ہے۔

Fuel nozzle at a petrol station in Pakistan
تصویر: Business Recorder

آج بدھ 28 اکتوبر 2026 سے پیٹرول تھوڑا سستا اور ڈیزل تھوڑا مہنگا ہو گیا ہے۔ ڈان اور بزنس ریکارڈر کے مطابق پیٹرولیم ڈویژن نے منگل کی رات پیٹرول 3.19 روپے کم کر کے 376.06 روپے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل 2.25 روپے بڑھا کر 398.07 روپے کر دیا۔

نئی قیمتیں (28 اکتوبر سے)

ایندھن کل آج فرق
پیٹرول 379.25 روپے 376.06 روپے 3.19 روپے کمی
ہائی اسپیڈ ڈیزل 395.82 روپے 398.07 روپے 2.25 روپے اضافہ

ایک دن پہلے معاملہ الٹ تھا۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق پیر کو حکومت نے پیٹرول 1.54 روپے اور ڈیزل 2.16 روپے مہنگا کیا تھا۔ یعنی آج کی کمی نے پیٹرول کا پیر والا اضافہ ختم کر دیا، جبکہ ڈیزل دو دن میں کل 4.41 روپے مہنگا ہو چکا ہے۔

قیمتیں اب روز کیوں بدلتی ہیں؟

17 جولائی سے ایندھن کی قیمتوں کا جائزہ ہر پندرہ دن کے بجائے روزانہ ہوتا ہے۔ ڈان کے مطابق ایران اور امریکہ کی لڑائی دوبارہ بھڑکنے کے بعد وزیر پیٹرولیم نے یہ اعلان کیا تھا اور اب اوگرا عالمی منڈی کے حساب سے روز قیمت طے کرتا ہے۔ اس سے پہلے مارچ کے شروع سے قیمتیں ہفتہ وار بدل رہی تھیں۔

پیٹرولیم ڈویژن نے اس بار بھی وجہ عالمی عوامل بتائی: پلیٹس کے نرخ، درآمدی پریمیم اور دیگر اخراجات۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق مشرق وسطیٰ میں امن مذاکرات کی امید پر برینٹ خام تیل 2.09 ڈالر گر کر 113.72 ڈالر فی بیرل پر آیا، مگر سعودی عرب پر حوثی حملوں کی وجہ سے تیل اب بھی چھ ماہ کی بلند سطح کے قریب ہے۔

پیٹرول سستا اور ڈیزل مہنگا کیوں؟

دونوں ایندھن الگ عالمی نرخوں اور پریمیم پر طے ہوتے ہیں، اس لیے اکثر الگ سمت میں جاتے ہیں۔ اثر بھی الگ لوگوں پر پڑتا ہے۔ پیٹرول زیادہ تر موٹر سائیکل، رکشے اور نجی گاڑیوں میں جاتا ہے، جبکہ ڈیزل ٹرک، بسیں، ٹریکٹر اور جنریٹر چلاتا ہے۔ اسی لیے ڈیزل مہنگا ہو تو کچھ دن بعد کرایوں اور پھر کھانے پینے کی چیزوں میں نظر آتا ہے۔

10 لیٹر پیٹرول ڈلوانے والے موٹر سائیکل سوار کو آج تقریباً 32 روپے کی بچت ہوگی۔ 100 لیٹر ڈیزل لینے والا ٹرک کل کے مقابلے میں تقریباً 225 روپے زیادہ دے گا۔

جو نہیں بدلا: ہر لیٹر میں ٹیکس

ڈان کے مطابق حکومت اب بھی پیٹرول پر تقریباً 114 روپے فی لیٹر اور ڈیزل پر تقریباً 100 روپے ٹیکس اور ڈیوٹی لیتی ہے۔ یہ لیوی اب سیاسی مسئلہ بن چکی ہے۔ جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن نے وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات کی اور کہا کہ اگر بڑا ریلیف نہ ملا تو نومبر کے وسط میں اسلام آباد کی طرف مارچ ہوگا۔ جماعت اسلامی اور حکومت کی مشترکہ کمیٹی فیول ریلیف اسکیم کو بڑھانے پر غور کر رہی ہے۔

ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق 13 ستمبر کو اعلان کی گئی اس اسکیم میں موٹر سائیکل، رکشے اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کو پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر رعایت ملتی ہے، جس کی حد دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں کے لیے 2,000 روپے اور چھوٹی کاروں کے لیے 3,000 روپے ماہانہ ہے۔ ستمبر کے بچت اقدامات بھی برقرار ہیں: بازار رات 9 بجے اور شادی ہال 10 بجے بند۔

پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے لوگوں سے کہا ہے کہ گھبرا کر زیادہ ایندھن نہ خریدیں کیونکہ اس سے سپلائی متاثر ہو سکتی ہے۔ قیمتیں اب روز بدلتی ہیں، اس لیے اگلی تبدیلی کل ہی متوقع ہے۔

ذرائع

  1. Dawn: Govt cuts petrol price by Rs3.19 per litre, ups high-speed diesel rate by Rs2.25
  2. The Express Tribune: Govt cuts petrol by Rs3.19, increases diesel by Rs2.25 for Oct 28
  3. Business Recorder: Govt cuts petrol price by Rs3.19, hikes diesel by Rs2.25 per litre

یہ خبر اے آئی کی مدد سے تحقیق اور تحریر کی گئی، پھر شائع کرنے سے پہلے ہمارے ایڈیٹر نے اس کی جانچ اور تدوین کی۔

مزید پڑھیں