ایس ایس جی سی گیس کے اوقات کراچی: سردیوں میں روزانہ صرف 8 گھنٹے گیس

سوئی سدرن گیس نے سندھ اور بلوچستان کے گھروں کے لیے سردیوں کا شیڈول جاری کر دیا: گیس صرف ناشتے، دوپہر اور رات کے کھانے کے وقت ملے گی۔

Blue flame on a gas stove burner
تصویر: Express Tribune

کراچی سمیت سندھ اور بلوچستان کے گھروں کو اس سردی میں گیس صرف کھانا پکانے کے اوقات میں ملے گی۔ سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس ایس جی سی) نے بدھ، 4 نومبر کو اعلان کیا کہ گھریلو صارفین کو تین حصوں میں، کل تقریباً آٹھ گھنٹے گیس دی جائے گی، اور یہ شیڈول فوری طور پر نافذ ہے۔

گیس کے نئے اوقات

  • ناشتہ: صبح 6 بج کر 30 منٹ سے 9 بجے تک
  • دوپہر کا کھانا: دوپہر 12 بجے سے 2 بج کر 30 منٹ تک
  • رات کا کھانا: شام 6 بجے سے رات 9 بجے تک

ان اوقات کے علاوہ گھروں کو گیس کی امید نہیں رکھنی چاہیے، یعنی دن کے تقریباً 16 گھنٹے، جن میں رات اور صبح سویرے کے وہ ٹھنڈے گھنٹے بھی شامل ہیں جب گرم پانی کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔

ایس ایس جی سی کا کہنا ہے کہ وہ “کھانے کے اوقات میں گیس یقینی بنا کر گھریلو صارفین کو ترجیح دے رہی ہے” اور یہ شیڈول وفاقی حکومت کی ہدایات کے مطابق ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ اوقات اس کی ویب سائٹ اور سوشل میڈیا پر بھی موجود ہیں۔

اب کیوں؟

یہ اعلان منگل کو کراچی میں گیس کے شدید بحران کے ایک دن بعد آیا، جب بہت سے گھروں کا کہنا تھا کہ کھانا پکانے کو بھی گیس نہیں ملی۔ پیر سے واٹس ایپ اور سوشل میڈیا پر ایس ایس جی سی کے نام سے کئی مختلف شیڈول گردش کر رہے تھے اور کمپنی نے منگل کی رات تک کوئی واضح بیان جاری نہیں کیا، جس سے لوگ الجھن میں رہے۔

کمی کی وجہ سیدھی ہے: درآمدی ایل این جی کم دستیاب ہے اور ہر نومبر میں ہیٹنگ اور گرم پانی کی مانگ بڑھ جاتی ہے۔ اس خزاں خلیج کے علاقے میں کشیدگی نے بھی توانائی کی ترسیل کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔ ایس ایس جی سی نے صنعتوں کی گیس مزید کم کرنے کو بھی خارج از امکان قرار نہیں دیا۔

آپ کیا کر سکتے ہیں

  • انہی تین اوقات میں کھانا پکائیں اور تھرماس یا گیزر بھر لیں۔
  • گیس آنے کے انتظار میں چولہے کا والو کبھی کھلا نہ چھوڑیں۔ دباؤ واپس آنے پر بغیر جلی گیس کمرے میں بھر سکتی ہے۔ وقت ختم ہوتے ہی سب والو بند کریں۔
  • بند کمرے میں رات بھر گیس ہیٹر نہ چلائیں؛ ہر سردی میں گیس لیکیج اور کاربن مونو آکسائیڈ سے اموات ہوتی ہیں۔
  • اعلان کردہ اوقات میں بھی گیس نہ آئے تو ایس ایس جی سی کی ہیلپ لائن 1199 پر شکایت درج کرائیں۔

آگے کیا دیکھنا ہے

اصل امتحان یہ ہے کہ ان اوقات میں گیس مناسب پریشر کے ساتھ آتی بھی ہے یا نہیں، خاص طور پر اونچی عمارتوں کے فلیٹس اور اورنگی، کورنگی اور گلستانِ جوہر جیسے دور کے علاقوں میں، جہاں شکایات سب سے زیادہ ہیں۔ پنجاب اور خیبر پختونخوا کے لیے سوئی ناردرن کا شیڈول الگ سے آتا ہے۔

مزید پڑھیں