مہمند میں پولیو ٹیم پر حملہ: سیکیورٹی پر مامور 2 پولیس اہلکار شہید
مہمند میں موٹر سائیکل سوار مسلح افراد کی فائرنگ سے پولیو ٹیم کی حفاظت پر مامور دو پولیس اہلکار شہید اور ایک زخمی ہو گیا۔ اب تک کیا معلوم ہے؟

خیبر پختونخوا کے ضلع مہمند میں منگل 3 نومبر کو پولیو ٹیموں کی حفاظت پر مامور دو پولیس اہلکار فائرنگ سے شہید اور ایک زخمی ہو گیا۔ موٹر سائیکل سوار مسلح افراد نے پولیس گاڑی پر اس وقت فائرنگ کی جب وہ افغان سرحد کے قریب ایک گاؤں جا رہی تھی جہاں ویکسینیٹرز کام کر رہے تھے۔
پولیس افسر علی رحمان خان کے مطابق گاڑی میں پولیو عملے کا کوئی فرد موجود نہیں تھا اور ہیلتھ ورکرز محفوظ رہے۔ حملے کے بعد علاقے میں مہم کچھ دیر کے لیے روک دی گئی۔
مہمند میں کیا ہوا؟
یہ اہلکار گھر گھر جانے والی مہم کی سیکیورٹی کا حصہ تھے، جو اتوار سے شروع ہوئی ہے۔ پولیس افسر شکیل خان نے تصدیق کی کہ کم از کم دو اہلکار شہید اور ایک زخمی ہوا۔ اب تک کسی گروہ نے ذمہ داری قبول نہیں کی۔
صدر آصف علی زرداری نے ایکس پر لکھا کہ یہ واقعہ “انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت” ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیو ٹیموں کی حفاظت کرنے والے پولیس اہلکار قومی فریضہ انجام دے رہے ہیں اور ان کی قربانیاں بھلائی نہیں جائیں گی۔
مہم کے لیے مسلسل دوسرا برا دن
یہ حملہ خیبر پختونخوا میں ایک اور واقعے کے اگلے روز ہوا۔ پیر کو ضلع ٹانک میں پولیو ڈیوٹی پر موجود چار افراد لاپتہ ہو گئے اور ان کی تلاش جاری ہے۔ میڈیا رپورٹس میں یہ واضح نہیں کہ وہ پولیس اہلکار تھے یا ہیلتھ ورکرز، اور حکام نے ابھی ان کے نام نہیں بتائے۔
یہ مہم کیوں اہم ہے؟
موجودہ مہم میں ملک کے 97 زیادہ خطرے والے اضلاع میں تقریباً 2 کروڑ 40 لاکھ بچوں کو قطرے پلانے کا ہدف ہے۔ وزارت صحت کے مطابق افغانستان میں بھی اسی وقت مہم چل رہی ہے، کیونکہ دنیا میں صرف یہی دو ملک ہیں جہاں جنگلی پولیو وائرس اب بھی موجود ہے۔
اتوار کو اس سال کا آٹھواں پولیو کیس سامنے آیا، ضلع خیبر کی 13 ماہ کی بچی۔ اس سال کے چھ کیس خیبر پختونخوا اور دو سندھ سے ہیں۔ پچھلے سال 31 کیس تھے، یعنی اس سال تعداد کافی کم ہے، مگر ہر وہ بچہ جو قطرے نہیں پیتا، وائرس کو زندہ رکھتا ہے۔
پولیو ٹیموں پر حملے کون کرتا ہے؟
پاکستان میں ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے پولیو ورکرز اور ان کے محافظ نشانہ بن رہے ہیں۔ ماضی میں ایسے حملوں کی ذمہ داری کالعدم ٹی ٹی پی اور دیگر مسلح گروہ قبول کرتے رہے ہیں، جو یہ جھوٹا دعویٰ کرتے ہیں کہ ویکسین بچوں کو بانجھ کرنے کی سازش ہے۔ حکام کے مطابق سرحدی اضلاع میں تشدد کی وجہ سے ہر مہم میں ہزاروں بچے قطروں سے رہ جاتے ہیں۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ مہمند میں مہم بدھ کو اضافی سیکیورٹی کے ساتھ دوبارہ شروع ہوتی ہے یا نہیں، اور ٹانک کے لاپتہ افراد کے بارے میں کیا خبر آتی ہے۔



