پاکستان نے طالبان کا 'صلاحیت نہیں' والا دعویٰ اور خلیل زاد کے الزامات مسترد کر دیے
پاکستان نے طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے بیان کو توجہ ہٹانے کی کوشش قرار دیا، ٹی ٹی پی پر اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کا حوالہ دیا اور خلیل زاد کے دعوے رد کیے۔

پاکستان نے افغان طالبان کو اس وقت سخت جواب دیا جب ان کے ترجمان نے کہا کہ کابل نہ تو پاکستان میں بدامنی پھیلانے میں دلچسپی رکھتا ہے اور نہ ہی اس کی صلاحیت۔ ہفتہ 24 اکتوبر کو جاری بیان میں وزارتِ اطلاعات نے اسے “توجہ ہٹانے والا” ردعمل قرار دیا اور کہا کہ طالبان کو ٹی ٹی پی اور بی ایل اے جیسے شدت پسند گروہوں کی “ہر قسم کی رواداری، سہولت کاری یا حمایت” ختم کرنا ہوگی۔
اسی دن وزارت نے سابق امریکی ایلچی زلمے خلیل زاد کے اس دعوے کو بھی “بے بنیاد اور گمراہ کن” کہہ کر مسترد کر دیا کہ پاکستان طالبان سے لڑنے کے لیے افغانوں کو مسلح کر رہا ہے۔
ذبیح اللہ مجاہد نے کیا کہا؟
عرب نیوز اور ڈان کے مطابق طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے جمعہ کی رات ایکس پر اپنے بیانات میں کہا کہ پاکستان میں بدامنی پیدا کرنا افغانستان کے مفاد میں نہیں، اور طالبان کے پاس بیرونِ ملک تشدد کی مالی مدد یا اسے ہوا دینے کے وسائل نہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جب بھی پاکستان کی فوجی اسٹیبلشمنٹ اور سیکیورٹی ادارے امن قائم رکھنے میں ناکام ہوتے ہیں تو کابل پر الزام ڈال دیتے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان میں عدم استحکام سے افغانستان کو بھی معاشی نقصان ہوگا۔
پاکستان کا جواب
وزارت نے کہا کہ پاکستان کے خدشات “قیاس آرائی پر مبنی نہیں” اور دو بیرونی رپورٹس کا حوالہ دیا:
- افغانستان میں شدت پسند گروہوں پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی پابندیوں کی نگرانی کرنے والی ٹیم کی رپورٹ۔
- جنوری سے مارچ 2026 تک کی امریکی لیڈ انسپکٹر جنرل رپورٹ، جس کے مطابق طالبان اب بھی ٹی ٹی پی کو افغان سرزمین سے کام کرنے دے رہے ہیں، اور اس کے جنگجوؤں کی تعداد 4 ہزار سے 6 ہزار کے درمیان ہے، جو فہرست میں شامل گروہوں میں سب سے بڑا ہے۔
وزارت نے سرحد پار دراندازی کی کوششوں، انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں میں مارے گئے افغان شہریوں، شدت پسندوں سے برآمد غیر ملکی اسلحے، اور قندھار سمیت طالبان حکام کی جانب سے شدت پسندوں کی مبینہ مدد کا بھی ذکر کیا۔ وزارت نے کہا: “پاکستان کے سیکیورٹی اداروں پر الزام لگانے سے طالبان حکومت اپنی ذمہ داری سے بری نہیں ہو جاتی۔” ساتھ ہی کہا کہ پاکستان کے اقدامات شدت پسندوں کے خلاف ہیں، عام افغانوں کے خلاف نہیں، اور وہ “قابلِ تصدیق اقدامات” کی بنیاد پر بات چیت کے لیے تیار ہے۔
خلیل زاد نے کیا دعویٰ کیا تھا؟
2020 کے امریکا طالبان معاہدے کے مذاکرات کار خلیل زاد نے 23 اکتوبر کو ایکس پر لکھا کہ ایسی “بہت سی رپورٹس” ہیں کہ پاکستان طالبان سے لڑنے کے لیے افغانوں کو مسلح کر رہا ہے اور پاکستان کو نشانہ بنانے والے شدت پسندوں کے خلاف افغانوں کو بھرتی کر رہا ہے، اور خبردار کیا کہ تعلقات “مزید خراب” ہو سکتے ہیں۔ پاکستان نے کہا کہ وہ طالبان کی حمایت میں پرانی قیاس آرائیاں دہرا رہے ہیں۔ پاکستان نے ان گروہوں کا بھی ذکر کیا جنہیں وہ بھارت کے حمایت یافتہ قرار دیتا ہے؛ بھارت پاکستان میں شدت پسندوں کی حمایت کی تردید کرتا ہے۔
خلیل زاد اب کسی امریکی سرکاری عہدے پر نہیں۔ ڈان کے مطابق پاکستان اس سے پہلے 2023 اور نومبر 2025 میں بھی ان سے کھل کر اختلاف کر چکا ہے۔
یہ کیوں اہم ہے؟
یہ اس تعلق کا تازہ دور ہے جو 2021 میں طالبان کی واپسی کے بعد سے مسلسل خراب ہو رہا ہے۔ ڈان کے مطابق ستمبر میں خیبر پختونخوا میں حملوں کے بعد پاکستان نے سرحدی علاقے میں فضائی حملے کیے، پھر افغانستان کی طرف سے ڈرون آئے جنہیں مار گرایا گیا، اور پاکستان نے دو بار مزید جوابی کارروائی کی۔
خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے لوگوں کے لیے یہ بیانات محض الفاظ نہیں۔ ماضی میں کشیدگی کے ادوار میں سرحدیں بند ہوئیں اور طورخم اور چمن جیسی گزرگاہوں پر تجارت متاثر ہوئی۔ آج کسی فریق نے الفاظ کے سوا کوئی نیا قدم نہیں اٹھایا، اس لیے دیکھنا یہ ہے کہ سرحدی گزرگاہیں کھلی رہتی ہیں یا نہیں اور کیا کسی مذاکرات کا اعلان ہوتا ہے۔
ذرائع
- Dawn: Islamabad rebuts Kabul's stance on 'lacking capacity' to fuel insecurity in Pakistan
- Arab News: Pakistan seeks Afghan action on militants after Kabul denies facilitating cross-border attacks
- The Express Tribune: Pakistan rejects Afghan Taliban 'diversionary' allegations, demands action against TTP and BLA
- Geo News: Pakistan slams Afghan Taliban's 'diversionary claims', demands verifiable counterterror action
یہ خبر اے آئی کی مدد سے تحقیق اور تحریر کی گئی، پھر شائع کرنے سے پہلے ہمارے ایڈیٹر نے اس کی جانچ اور تدوین کی۔



