میر رضا کیس: سندھ حکومت نے آئی ایس آئی، آئی بی اور رینجرز پر مشتمل جے آئی ٹی بنا دی
سندھ حکومت نے میر رضا علی کے قتل کی ازسرِنو تفتیش کے لیے ڈی آئی جی عرفان علی بلوچ کی سربراہی میں جے آئی ٹی بنا دی، پولیس افسران اور ڈاکٹر کے خلاف کارروائی۔

سندھ حکومت نے کراچی کے 25 سالہ نوجوان میر رضا علی کے قتل کی ازسرِنو تفتیش کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم یعنی جے آئی ٹی بنا دی ہے۔ میر رضا وافلز کا کاروبار چلاتے تھے اور پولیس نے شروع میں ان کی موت کو خودکشی قرار دیا تھا۔ ہفتہ 24 اکتوبر کو اعلان کی گئی اس ٹیم کی سربراہی ڈی آئی جی ویسٹ کراچی عرفان علی بلوچ کریں گے، اور اس میں آئی ایس آئی، انٹیلی جنس بیورو، سندھ رینجرز اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے افسران شامل ہوں گے۔
ایکسپریس ٹریبیون اور دی نیوز کے مطابق صوبائی حکومت نے دو پولیس افسران کو معطل کر دیا ہے، پہلا پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر کے خلاف کارروائی کا حکم دیا ہے، اور وفاقی وزارتِ داخلہ سے ایف آئی اے کا ایک سینئر افسر مانگا ہے تاکہ کیس کی ابتدائی تفتیش کی جانچ ہو سکے۔
سندھ نے تفتیش دوبارہ کیوں شروع کی؟
یہ فیصلہ سندھ ہائی کورٹ کے جج جسٹس عمر سیال پر مشتمل یک رکنی جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ کے بعد کیا گیا، جو 15 اکتوبر کو وزیرِ اعلیٰ مراد علی شاہ کو پیش کی گئی تھی۔
کمیشن نے قرار دیا کہ میر رضا کو قتل کیا گیا، یہ خودکشی نہیں تھی۔ اس نے پولیس کی تفتیش کو “مکمل ناکامی” کہا اور لکھا کہ اس کیس میں سندھ پولیس پر عوام کا اعتماد “تقریباً ناقابلِ تلافی” حد تک ٹوٹ چکا ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق کمیشن نے یہ بھی کہا کہ ابتدائی مرحلے میں پردہ ڈالنے کی کوشش کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اسی لیے کمیشن نے کہا کہ عام پولیس تفتیش سے اعتماد بحال نہیں ہوگا اور دوسرے اداروں پر مشتمل جے آئی ٹی کی سفارش کی۔
محکمہ داخلہ کے خط کے مطابق اداروں کو اپنے افسران کے نام دینے کے لیے سات دن دیے گئے ہیں۔
کس کے خلاف کارروائی ہو رہی ہے؟
- ایس ایچ او کامران قریشی اور انسپکٹر غوث معطل کر دیے گئے ہیں۔ ایڈیشنل آئی جی ذوالفقار علی لاڑک کی یک رکنی کمیٹی دیکھے گی کہ جائے وقوعہ جلانے میں انسپکٹر غوث کا کیا کردار تھا اور کیا ایس ایچ او نے شواہد مٹانے میں مدد کی۔
- ایس ایچ او فیروزآباد عدیل افضل اور ایس آئی شبیر لغاری کی معطلی اور محکمانہ کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔
- ڈاکٹر اسامہ شیخ، جن کی پہلی اور دوسری پوسٹ مارٹم رپورٹ میں تضاد تھا، معطل کیے جائیں گے اور مزید تربیت کے لیے بھیجے جائیں گے۔
- اسپیشل سیکریٹری صحت شہریار میمن کے خلاف میڈیکل بورڈ کی تبدیلی پر انکوائری ہوگی، جسے کمیشن نے “انتہائی بے قاعدہ” قرار دیا۔
لاڑک کمیٹی رپورٹ میں نامزد 13 افسران کے کردار کا جائزہ لے گی۔ وزیرِ اعلیٰ نے کابینہ کی ذیلی کمیٹی کی سفارشات منظور کر لی ہیں۔
میر رضا کیس کب کیا ہوا؟
- 28 جولائی: آئی بی اے سے فارغ التحصیل اور وافلکس کے مالک میر رضا صبح سویرے پی ای سی ایچ ایس میں اپنے گھر سے نکلے۔ گھر والوں نے گمشدگی کی اطلاع دی۔
- 29 جولائی: گلستانِ جوہر سے ان کی لاش ملی۔ پولیس نے خودکشی کہا اور اسی دن تدفین ہو گئی۔ گھر والوں کا کہنا تھا کہ جسم پر تشدد کے نشانات تھے۔
- 8 اگست: پولیس سرجن کی جانب سے پہلے پوسٹ مارٹم پر اعتراضات کے بعد قبر کشائی کی گئی۔
- تقریباً 31 اگست: حتمی میڈیکل رپورٹ میں پیچھے سے گولی لگنے کا زخم سامنے آیا اور خودکشی کو مسترد کر دیا گیا۔ بعد میں تفتیشی افسر نے سندھ ہائی کورٹ کو بتایا کہ یہ قتل تھا۔
- 15 اکتوبر: جسٹس سیال کمیشن نے رپورٹ پیش کی۔
- 24 اکتوبر: جے آئی ٹی بنا دی گئی۔
یہ کیوں اہم ہے؟
کراچی کے بہت سے خاندانوں کے لیے یہ کیس اس بات کا امتحان بن گیا ہے کہ جس موت کو پولیس آسانی سے خودکشی کہہ دے، اس کی سنجیدہ تفتیش ہوتی ہے یا نہیں۔ ایک قتل کے لیے انٹیلی جنس اداروں پر مشتمل جے آئی ٹی غیر معمولی بات ہے، اور یہ دکھاتی ہے کہ اعتماد کتنا ٹوٹ چکا ہے۔
یہ ابھی صرف آغاز ہے۔ جے آئی ٹی نے کسی ملزم کا نام نہیں لیا اور قتل کے الزام میں ابھی تک کسی پر فردِ جرم عائد نہیں ہوئی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ سات دن میں افسران کے نام آتے ہیں یا نہیں، اور ایف آئی اے کی سربراہی میں جانچ کا باقاعدہ نوٹیفکیشن کب ہوتا ہے۔
ذرائع
- The Express Tribune: Sindh govt forms JIT, committees to implement judicial commission's recommendations in Mir Raza case
- The News: Sindh forms JIT including ISI, IB officials to probe Mir Raza murder case
- The Express Tribune: Mir Raza death not a suicide, SHC told
- 24 News: Sindh govt forms JIT in Mir Raza murder case
یہ خبر اے آئی کی مدد سے تحقیق اور تحریر کی گئی، پھر شائع کرنے سے پہلے ہمارے ایڈیٹر نے اس کی جانچ اور تدوین کی۔



