پنجاب میں کیمرے والی اسمارٹ عینک اور خفیہ کیمروں پر 30 دن کی پابندی
پنجاب حکومت نے کیمرے والی اسمارٹ عینکوں اور خفیہ کیمروں والی اشیا کی فروخت اور استعمال پر 30 دن کے لیے پابندی لگا دی۔ کون سی چیزیں شامل ہیں اور کیوں؟

اگر آپ کے پاس کیمرے والی اسمارٹ عینک ہے اور آپ پنجاب میں رہتے ہیں تو اب اسے عوامی مقامات پر پہننا یا استعمال کرنا منع ہے۔ ڈان کے مطابق محکمہ داخلہ پنجاب کے 22 اکتوبر کے نوٹیفکیشن کے تحت کیمرے والی اسمارٹ عینکوں اور روزمرہ اشیا میں چھپے چھوٹے کیمروں کی فروخت اور استعمال پر فوری طور پر 30 دن کی پابندی لگا دی گئی ہے۔
یہ حکم وزیر اعلیٰ مریم نواز کی صدارت میں 19 اکتوبر کو صوبائی کابینہ کی منظوری کے تین دن بعد آیا۔
پابندی کس چیز پر ہے؟
ڈان نے نوٹیفکیشن کے حوالے سے لکھا کہ کوئی شخص خفیہ ریکارڈنگ کی صلاحیت والی کیمرہ اسمارٹ عینک نہ پہنے گا نہ چلائے گا۔ پابندی میں قلم اور چابی کے چھلے جیسی عام چیزوں میں چھپے چھوٹے کیمرے بھی شامل ہیں۔ ڈیلی پاکستان اور پاکستان آبزرور کے مطابق حکومت کے پہلے بیانات میں گھڑیوں کا بھی ذکر تھا۔
یہ پابندی صرف استعمال کرنے والوں پر نہیں۔ ریٹیلرز، ہول سیلرز، تاجر اور ڈسٹری بیوٹرز بھی دکان یا آن لائن کہیں بھی یہ آلات نہ بیچ سکیں گے نہ ان کی تشہیر کر سکیں گے۔
کیا چیزیں اس سے باہر ہیں؟
آپ کا موبائل فون محفوظ ہے۔ حکم میں موبائل فون، لیپ ٹاپ، ٹیبلٹ اور پی ٹی اے سے منظور شدہ دیگر آلات کو استثنا دیا گیا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے مجاز اہلکار بھی اس سے مستثنیٰ ہیں۔
حکومت نے یہ قدم کیوں اٹھایا؟
نوٹیفکیشن میں امن عامہ، ذاتی رازداری، خواتین اور بچوں کی عزت، اور حساس معلومات و تنصیبات کی سلامتی کو خطرہ بتایا گیا ہے۔ اس میں ایئرپورٹس، امتحانی مراکز، سرکاری دفاتر، اسپتالوں، شاپنگ مالز اور عدالتوں کا خاص طور پر ذکر ہے۔
ڈیلی پاکستان کے مطابق پنجاب حکومت نے اس ہفتے کے شروع میں کہا تھا کہ خفیہ ریکارڈنگ کے ذریعے ہراسانی اور بلیک میلنگ کی شکایات ملی ہیں، اور خواتین و بچوں کا تحفظ اس فیصلے کا بڑا مقصد ہے۔
پس منظر میں عدالتی مقدمہ
یہ معاملہ حکومت سے پہلے لاہور ہائی کورٹ پہنچ چکا تھا۔ ٹیک جوس کے مطابق شہری حسنین العابدین کی مفاد عامہ کی درخواست میں عدالت سے کیمرے والی اسمارٹ عینکوں کی درآمد روکنے، پی ٹی اے کی منظوریوں پر نظرثانی اور عدالتوں، ایئرپورٹس اور سرکاری دفاتر میں ان پر پابندی کی استدعا کی گئی ہے۔ ان کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ رے بین میٹا عینکیں لاہور کے حفیظ سینٹر میں کھلے عام بک رہی ہیں، حالانکہ میٹا پاکستان کو باقاعدہ مارکیٹ کے طور پر درج نہیں کرتا۔ عدالت نے وفاقی حکومت، پی ٹی اے اور وزارت تجارت کو نوٹس جاری کیے۔
آگے کیا ہو گا؟
حکومت نے ابھی تک عوامی سطح پر یہ نہیں بتایا کہ خلاف ورزی پر کیا سزا ہو گی۔ یہ حکم 30 دن کے لیے ہے جب تک پہلے واپس نہ لیا جائے، اس لیے اصل سوال یہ ہے کہ اس کے بعد کیا ہو گا: توسیع، مستقل قانون، یا درآمد کے بڑے سوال پر لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ۔ اس کا پہلا اثر حفیظ سینٹر جیسی ٹیک مارکیٹوں کے دکانداروں پر پڑے گا۔
ذرائع
- Dawn: Sale of camera-enabled smart glasses, gadgets banned for 30 days
- Daily Pakistan: Punjab announces ban on spy gadgets to protect citizens' privacy
- Pakistan Observer: Punjab moves to ban hidden cameras, spy glasses, recording pens
- TechJuice: LHC asked to restrict smart glasses over privacy concerns
یہ خبر اے آئی کی مدد سے تحقیق اور تحریر کی گئی، پھر شائع کرنے سے پہلے ہمارے ایڈیٹر نے اس کی جانچ اور تدوین کی۔



