اسد محمود کو نیب کا نوٹس: پاکستان پوسٹ میں 4,252 بھرتیوں پر طلبی

نیب نے سابق وزیر اسد محمود کو 10 نومبر کو طلب کر لیا ہے۔ پاکستان پوسٹ کی 2022-23 کی بھرتیوں میں کیا الزامات ہیں اور ایف آئی اے کیس کیا ہے؟

Former communications minister Asad Mahmood speaking at a desk
تصویر: Aaj English

قومی احتساب بیورو نے جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے بیٹے اور سابق وفاقی وزیر مواصلات اسد محمود کو پاکستان پوسٹ میں مبینہ غیر قانونی بھرتیوں کے کیس میں طلب کر لیا ہے۔ نیب راولپنڈی نے انہیں منگل 10 نومبر کو صبح 11 بجے تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہونے کا کہا ہے۔

یہ نوٹس بدھ 4 نومبر کو جاری ہوا۔ اسد محمود پی ڈی ایم حکومت میں 2022 اور 2023 کے دوران وزیر مواصلات تھے، اور پاکستان پوسٹ اسی وزارت کے ماتحت ہے۔

نیب کے نوٹس میں کیا الزامات ہیں؟

کیس کی بنیاد اعداد و شمار ہیں۔ نوٹس کے مطابق اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے پاکستان پوسٹ کو 3,938 افراد بھرتی کرنے کی اجازت دی تھی، مگر 4,252 لوگ بھرتی کیے گئے، یعنی اجازت سے تقریباً 300 زیادہ۔

نیب کا کہنا ہے کہ 2,646 ایسی آسامیوں پر بھی بھرتیاں ہوئیں جو پہلے ہی ختم کی جا چکی تھیں، اور یہ کابینہ کمیٹی کی ہدایات کے خلاف تھا۔ کمیٹی نے ٹیسٹنگ ایجنسی کے ذریعے کنٹریکٹ پر بھرتی کی سفارش کی تھی، مگر بہت سے لوگوں کو مستقل نوکری دے دی گئی جس سے ادارے پر مستقل مالی بوجھ پڑا۔

تحقیقات میں یہ نکات بھی شامل ہیں:

  • کچھ امیدواروں کی جانب سے جعلی دستاویزات کا استعمال
  • عمر کی حد سے زیادہ افراد کی بھرتی
  • ڈومیسائل کوٹے کی خلاف ورزی
  • کچھ منتخب افراد کی سیاسی وابستگیاں

نوٹس میں خبردار کیا گیا ہے کہ پیش نہ ہونے پر قومی احتساب آرڈیننس 1999 کی دفعہ 31 کے تحت کارروائی ہو سکتی ہے۔

ایف آئی اے میں الگ کیس

اسی معاملے پر ایف آئی اے کا اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد بھی انکوائری نمبر 197/2026 کر رہا ہے۔ اس نے 30 اکتوبر کو اسد محمود کو نوٹس بھیج کر 2 نومبر کو بیان ریکارڈ کرانے کے لیے بلایا تھا۔ یہ واضح نہیں کہ وہ پیش ہوئے یا نہیں۔

بدھ کی شام تک اسد محمود یا جے یو آئی ف کی جانب سے نیب کے نوٹس پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا تھا۔ طلبی تحقیقات کا ایک مرحلہ ہے، جرم ثابت ہونا نہیں۔

یہ کیوں اہم ہے؟

پاکستان پوسٹ حکومت کے بڑے اداروں میں سے ایک ہے اور برسوں سے خسارے میں ہے۔ چھوٹے شہروں میں یہاں کی نوکری بہت قیمتی سمجھی جاتی ہے، اسی لیے قواعد سے ہٹ کر بھرتی میرٹ پر درخواست دینے والوں کا حق مارتی ہے اور عوام کے پیسے سے دہائیوں تک تنخواہیں اور پنشن جاتی ہیں۔

اب اگلی تاریخ 10 نومبر ہے جب نیب نے اسد محمود کو راولپنڈی بلایا ہے۔

مزید پڑھیں