دہلی پولیس ہیڈکوارٹر کے باہر احتجاج کی قیادت کرنے والی اے سی پی منسوی وششٹھ معطل
دہلی پولیس نے منگل کو اے سی پی منسوی وششٹھ کو معطل کر دیا، جنہوں نے ایک دن پہلے تقریباً 150 اہلکاروں کے احتجاج کی قیادت کی تھی۔ پس منظر اور مطالبات۔

دہلی پولیس نے منگل 3 نومبر کو اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس منسوی وششٹھ کو معطل کر دیا۔ ایک دن پہلے انہوں نے نئی دہلی میں پولیس کے اپنے ہیڈکوارٹر کے باہر تقریباً 150 اہلکاروں کے غیر معمولی احتجاج کی قیادت کی تھی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق معطلی “نظم و ضبط کی خلاف ورزی” پر ہوئی؛ دہلی پولیس نے حکم نامہ شائع نہیں کیا۔
بھارت میں پولیس اہلکاروں کا اپنے ہی محکمے کے خلاف احتجاج کم ہی دیکھنے میں آتا ہے، اسی لیے یہ خبر وہاں ٹرینڈ کر رہی ہے اور پاکستان میں بھی دیکھی جا رہی ہے۔
معاملہ کہاں سے شروع ہوا؟
میڈیا رپورٹس کے مطابق 23 اکتوبر کو مشرقی دہلی کے شاہدرہ تھانے میں ہاتھا پائی میں وکیل للت بنسل کے سر پر شدید چوٹ آئی۔ پھر جب وکلا ملزمان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ لے کر تھانے آئے تو ایک اور تصادم ہوا۔ وکلا کا کہنا تھا کہ اس وقت گاندھی نگر کی ایس ڈی پی او منسوی وششٹھ اور شاہدرہ کے ایس ایچ او انسپکٹر ارون کمار نے انہیں دھمکایا۔
وکلا نے غیر معینہ ہڑتال کی اور دونوں افسروں کے خلاف کارروائی مانگی۔ 28 اکتوبر کو دہلی پولیس نے وششٹھ کو خواتین اور بچوں کے خصوصی یونٹ اور ارون کمار کو سیکیورٹی یونٹ میں تبدیل کر دیا۔ سینٹرل دہلی کورٹ بار ایسوسی ایشن سمیت وکلا تنظیمیں وششٹھ کی معطلی کا مطالبہ کر رہی تھیں۔
ہیڈکوارٹر کے باہر احتجاج
پیر 2 نومبر کو بہت سی خواتین سمیت اہلکار جے سنگھ روڈ پر پولیس ہیڈکوارٹر کے گیٹ نمبر 1 پر جمع ہوئے، ہاتھوں میں پلے کارڈ تھے اور نعرہ تھا “وردی کا اپمان نہیں سہیں گے”۔ احتجاج کئی گھنٹے چلا۔ وششٹھ نے کہا کہ انہیں کمشنر سے ملنا ہے، اور ایسے تنازعات کے لیے باقاعدہ طریقہ کار اور تھانوں کے اندر بہتر سیکیورٹی کا مطالبہ کیا۔
ان کی قیادت میں سات رکنی وفد نے پولیس کمشنر انوراگ کمار سے ملاقات کی اور پانچ مطالبات دیے:
- وششٹھ اور ارون کمار کو پرانی پوسٹنگ پر بحال کیا جائے۔
- شاہدرہ تصادم میں ملوث وکلا کے خلاف کارروائی ہو۔
- عدالتی احاطوں میں خصوصی فورس تعینات کی جائے۔
- پانچ سے زیادہ وکلا تھانے میں آ کر ہنگامہ کریں تو مقدمہ درج ہو۔
- پولیس کو دھمکانے والے وکلا کے لائسنس منسوخ کروانے سمیت کارروائی ہو اور شاہدرہ کیس میں چالان پیش کیا جائے۔
دہلی پولیس نے کیا کہا؟
دہلی پولیس نے کہا کہ کمشنر اور سینئر افسروں نے مختلف رینک کے اہلکاروں کی بات سنی، جو زیادہ تر فورس کے وقار اور سروس معاملات کے بہتر نظام سے متعلق تھی، اور یقین دلایا کہ مسائل حل کیے جائیں گے۔ بار کونسل آف دہلی اور ضلعی بار ایسوسی ایشنز سے بات چیت کے بعد ضلع اور ہیڈکوارٹر کی سطح پر مشترکہ رابطہ کمیٹیاں بنانے کا اعلان کیا گیا۔
اس کے ایک دن بعد معطلی کا حکم آیا۔ اس خبر کے لکھے جانے تک وششٹھ یا احتجاجی اہلکاروں کا کوئی عوامی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ پولیس اور وکلا کے جھگڑے پاکستان میں بھی جانے پہچانے ہیں، 2019 میں لاہور کے کارڈیالوجی اسپتال کے واقعے سے لے کر عدالتوں میں ہاتھا پائی تک، اسی لیے دہلی کا یہ تنازع یہاں بھی دلچسپی سے دیکھا جا رہا ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ رابطہ کمیٹی کب بیٹھتی ہے اور کیا تبادلوں کے احکامات، جو احتجاج کی اصل وجہ ہیں، پر نظرثانی ہوتی ہے۔



