تلنگانہ میں ریسکیو کشتیاں الٹ گئیں، کھمم میں تقریباً 10 اہلکار لاپتا
بھارتی ریاست تلنگانہ کے ضلع کھمم میں سیلابی جھیل میں پھنسے ماہی گیروں کو بچانے جانے والی دو کشتیاں الٹ گئیں۔ کیا ہوا، کون لاپتا ہے اور تلاش کہاں تک پہنچی۔

بھارت کی ریاست تلنگانہ میں بدھ 4 نومبر کی رات تقریباً دس ریسکیو اہلکار لاپتا ہو گئے جب انہیں لے جانے والی دو کشتیاں ضلع کھمم کی ایک بپھری جھیل میں الٹ گئیں۔ وہ سیلابی پانی میں پھنسے ماہی گیروں کو بچانے گئے تھے۔
حکام نے حتمی تعداد نہیں بتائی۔ ابتدائی اعداد کے مطابق تقریباً دس افراد لاپتا ہیں: کوتھاگوڈیم میں قائم اسٹیٹ ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (ایس ڈی آر ایف) کے چھ اہلکار اور فائر بریگیڈ کے چار ملازم۔ پانی میں پھنسنے والے فائر بریگیڈ کے تین اور اہلکاروں کو بچا لیا گیا۔
بیتھوپلی جھیل پر کیا ہوا
اس ہفتے پڑوسی ریاست آندھرا پردیش سے ٹکرانے والے سمندری طوفان مراسو سے جڑی شدید بارش کے بعد ستھوپلی منڈل کی بیتھوپلی جھیل بھر کر باہر بہنے لگی۔ جال لگانے گئے پانچ ماہی گیر بڑھتے پانی میں پھنس گئے۔
ایس ڈی آر ایف اور فائر بریگیڈ کی ٹیمیں دو کشتیوں میں انہیں واپس لانے نکلیں۔ حکام کے مطابق تیز بہاؤ میں کشتیاں اس وقت الٹیں جب اہلکار پھنسے ہوئے لوگوں کی طرف جا رہے تھے۔ بدھ کی رات تک واضح نہیں تھا کہ ماہی گیروں تک پہنچا جا سکا یا نہیں۔
تلاش
- موقع پر: کھمم کے ڈسٹرکٹ کلکٹر دیواکر ٹی ایس اور مقامی رکن اسمبلی راگامائی جھیل پر پہنچ کر آپریشن کی نگرانی کر رہے ہیں۔ بھدرا چلم سے مزید ایس ڈی آر ایف اہلکار بلائے گئے اور ٹیموں نے ایک اور کشتی سے تلاش شروع کی۔
- ریاستی حکومت: وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی نے ہر ممکن کوشش کا حکم دیا اور چیف سیکریٹری سنجے جاجو کو صورتحال پر نظر رکھنے کو کہا۔ ریونیو منسٹر پونگولیٹی سرینواس ریڈی نے ایکس پر لکھا کہ ٹیموں نے لاپتا اہلکاروں کی ممکنہ جگہ کی نشاندہی کر لی ہے۔ وزیر تمالا ناگیشور راؤ نے افسروں کو آپریشن ختم ہونے تک موقع پر رہنے کی ہدایت کی اور پھنسے ماہی گیروں سے فون پر بات کی۔
- مرکزی حکومت: بھارت کے وزیر مملکت برائے داخلہ بندی سنجے کمار نے کہا کہ نیشنل ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (این ڈی آر ایف) تعینات کر دی گئی ہے اور وہ صورتحال پر قریب سے نظر رکھے ہوئے ہیں۔
یہ کیوں اہم ہے
سمندری طوفان مراسو اس ہفتے آندھرا پردیش میں اونگول کے قریب ساحل سے ٹکرایا تھا اور اس کی بارش تلنگانہ کے اندر تک پھیل گئی ہے۔ ریسکیو ٹیموں کو اکثر رات کے وقت تیز سیلابی پانی میں بھیجا جاتا ہے جہاں غلطی کی گنجائش بہت کم ہوتی ہے، اور دوسروں کو بچانے والے خود لاپتا ہو جاتے ہیں۔
پاکستانیوں کے لیے یہ منظر اپنے مون سون سیلابوں جیسا ہے، جب ریسکیو 1122 اور فوج کی کشتیاں ایسے ہی حالات میں کام کرتی ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ لاپتا اہلکار اور پانچ ماہی گیر زندہ مل پاتے ہیں یا نہیں۔



