پیوٹ پلان پنجاب: مریم نواز کا 1995 ارب روپے کا منصوبہ، 1 لاکھ 62 ہزار نوکریوں کا وعدہ

کاروبار کے لیے 300 ارب روپے کے 0 سے 5 فیصد قرض، چار ایگرو پارکس اور 4 لاکھ افراد کی تربیت۔ پیوٹ پلان میں کیا ہے، کس کے لیے ہے اور کیا ابھی واضح نہیں۔

Maryam Nawaz and guests hold up PIVOT plan booklets at the launch ceremony in Lahore
تصویر: Punjab government / Daily Pakistan

وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے جمعہ 30 اکتوبر کو لاہور میں صوبے کے “پیوٹ” معاشی منصوبے کا باقاعدہ آغاز کیا۔ اس کے تحت تین سال میں 1995.3 ارب روپے کی سرکاری اور نجی سرمایہ کاری سے پنجاب کو برآمدات پر چلنے والا صنعتی مرکز بنانے کا ہدف ہے۔ حکومت کے مطابق اس سے برآمدات میں 6.8 ارب ڈالر کا اضافہ ہوگا، 1 لاکھ 62 ہزار براہ راست نوکریاں پیدا ہوں گی اور دس لاکھ سے زیادہ افراد کے روزگار کو سہارا ملے گا۔

پیوٹ (PIVOT) کا مطلب ہے پنجاب انوویشن، ویلیو ایڈیشن اینڈ اکنامک ٹرانسفارمیشن۔ صوبائی کابینہ نے دس دن پہلے اس کا خاکہ منظور کیا تھا؛ جمعہ کی تقریب اس کا رسمی آغاز تھی، جس میں گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد، بینکوں کے سربراہان، سفارت کار اور عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک اور اقوام متحدہ کے نمائندے شریک تھے۔

پیسہ کہاں سے آئے گا

پنجاب حکومت 1089 ارب روپے لگائے گی۔ باقی 906 ارب روپے نجی سرمایہ کاری کا ہدف ہے، یعنی یہ اس پر منحصر ہے کہ کاروباری لوگ واقعی سرمایہ لگائیں۔

نوکریوں کے اعداد میں بھی یہ فرق اہم ہے۔ 1 لاکھ 62 ہزار براہ راست نوکریاں ہیں، جبکہ تقریب میں بتایا گیا “دس لاکھ” کا عدد وسیع روزگار اور ذریعہ معاش کو سہارا دینے کا ہے، دس لاکھ نئی نوکریوں کا نہیں۔

کاروبار کے لیے کیا ہے

چھوٹے اور درمیانے کاروبار کے لیے سب سے اہم حصہ اسٹریٹیجک ٹریڈ اینہانسمنٹ پروگرام (اسٹیپ) ہے۔ اس میں 300 ارب روپے اہل شعبوں کو 0 سے 5 فیصد رعایتی شرح پر قرض کے لیے رکھے گئے ہیں، جو ایک نئے ڈیجیٹل پورٹل کے ذریعے ملیں گے۔ حکومت نے ابھی یہ نہیں بتایا کہ کون اہل ہوگا، ہر کاروبار کتنا قرض لے سکے گا اور پورٹل کب کھلے گا۔

دیگر اہم حصے:

  • 753.7 ارب روپے ٹیکسٹائل، گارمنٹس، کھیلوں کا سامان، چمڑا اور جوتے، سرجیکل آلات، ادویات، پنکھے، کٹلری، اسٹیل اور سرامکس کی پیداوار اور برآمدی مسابقت کے لیے۔
  • 50 ارب روپے صنعتوں کے لیے سولر اور بیٹری اسٹوریج، اور مزید 50 ارب روپے نئی مشینری پر ڈیوٹی کی واپسی کے لیے۔
  • ٹیسٹنگ لیبز اور سرٹیفیکیشن سینٹرز تاکہ سیالکوٹ، گوجرانوالہ اور لاہور کے برآمد کنندگان کو نمونے بیرون ملک نہ بھیجنے پڑیں، اور تیار صنعتی یونٹس۔
  • ای بز، جس کے تحت 300 سرکاری خدمات آن لائن کرنے اور 2000 کاروباروں کو ای کامرس پر لانے کا ہدف ہے۔

کسانوں اور ہنرمندوں کے لیے

سرگودھا، خانیوال، اوکاڑہ اور بھکر میں چار ایگرو پروسیسنگ پارکس بنیں گے۔ 20 اضلاع میں ہارٹیکلچر اتھارٹیز قائم ہوں گی، پھل اور پھول اگانے والوں کے لیے برآمدی فنانسنگ ہوگی، اور کینو، آلو، آم، ڈیری، ماہی گیری اور حلال گوشت پر خاص توجہ دی جائے گی۔

منصوبے میں تین سال میں 4 لاکھ 2 ہزار 60 افراد کو صنعت کی ضرورت کے مطابق تربیت دینے کا وعدہ بھی ہے۔

وزیر اعلیٰ نے کیا کہا

مریم نواز نے کہا کہ “حکومت سہولت دے گی، صنعت قیادت کرے گی۔” ان کا کہنا تھا کہ پیوٹ صرف اہداف اور وعدوں کی دستاویز نہیں رہے گا اور اسے حقیقی سرمایہ کاری، برآمدات اور نوکریوں سے پرکھا جانا چاہیے۔

اسی تقریب میں کاروباری شخصیت عارف حبیب نے لاہور کے سی بی ڈی ون میں پاکستان کی سب سے اونچی کمرشل عمارت بنانے کا اعلان کیا۔

آگے کیا ہوگا

سینئر وزیر مریم اورنگزیب پیوٹ بورڈ کی سربراہی کریں گی، محکمہ منصوبہ بندی و ترقی میں سیکریٹریٹ ہوگا، ڈپٹی کمشنر اضلاع میں فوکل پرسن ہوں گے اور اہداف کی نگرانی کے لیے ڈیش بورڈ بنے گا۔ چیف سیکریٹری زاہد اختر زمان کے مطابق منصوبہ چھ ماہ میں مکمل طور پر فعال ہو جائے گا۔

اسٹیپ قرض کے خواہشمند افراد کو ڈیجیٹل پورٹل کے آغاز اور اہلیت کی شرائط کا انتظار کرنا ہوگا۔ جب تک پنجاب حکومت یہ شرائط جاری نہیں کرتی، پیوٹ فنڈنگ کے لیے “رجسٹریشن” کے نام پر فیس مانگنے والوں سے ہوشیار رہیں۔

مزید پڑھیں