اسٹاک مارکیٹ: وال اسٹریٹ میں جون کے بعد بدترین دن، انٹیل کے شیئر 28.6 فیصد گر گئے

جمعہ کو اے آئی کے خدشات پر نیسڈیک 2.9 اور ایس اینڈ پی 500 میں 1.8 فیصد کمی۔ انٹیل کیوں گرا، بٹ کوائن اور تیل کہاں گئے اور پاکستان پر کیا اثر ہوگا۔

Two traders watch market screens and a tablet at a trading desk
تصویر: AP Photo

جمعہ 30 اکتوبر کو امریکی اسٹاک مارکیٹ کا جون کے بعد سب سے برا دن رہا۔ ٹیکنالوجی کمپنیوں میں فروخت پھیل گئی اور سرمایہ کار یہ سوال اٹھانے لگے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر خرچ ہونے والی بھاری رقم کبھی واپس آئے گی بھی یا نہیں۔ نیسڈیک کمپوزٹ 747.73 پوائنٹس یعنی 2.9 فیصد گر کر 25,437 پر اور ایس اینڈ پی 500 انڈیکس 1.8 فیصد کمی کے ساتھ 7,580.07 پر بند ہوا۔

ڈاؤ جونز 572.25 پوائنٹس یعنی 1.1 فیصد کم ہو کر 51,770.31 پر آ گیا۔ مارکیٹ پاکستانی وقت کے مطابق ہفتے کی رات ایک بجے بند ہوئی۔ ایس اینڈ پی 500 کے لیے یہ مسلسل تیسرا خسارے والا ہفتہ تھا اور انڈیکس اس مہینے کے ریکارڈ سے 3.1 فیصد نیچے ہے۔

انٹیل 28.6 فیصد کیوں گرا

سب سے بڑی خبر انٹیل تھی، جس کے شیئر 28.6 فیصد گرے۔ یہ 1974 کے بعد اس کی ایک دن کی سب سے بڑی گراوٹ ہے، حالانکہ تازہ سہ ماہی میں اس کا منافع تجزیہ کاروں کی توقع سے بہتر تھا۔ مسئلہ آگے کی پیشگوئی تھی: کمپنی نے سال کی آخری سہ ماہی کے لیے کم منافع کا اندازہ دیا اور اس کے سی ای او نے کہا کہ پی سی انڈسٹری دباؤ میں ہے، میموری چپس مہنگی ہونے سے مانگ متاثر ہو رہی ہے۔

این ویڈیا 4.2 فیصد گرا اور اپنے بڑے حجم کی وجہ سے اس نے ایس اینڈ پی 500 کو انٹیل سے بھی زیادہ نیچے کھینچا۔ ایمیزون کے شیئر 1.4 فیصد کم ہوئے کیونکہ گرمیوں کی سہ ماہی کا منافع توقع سے کم رہا۔ کمپنی کے مطابق پچھلے 12 ماہ میں اس نے 42.4 ارب ڈالر کا فری کیش فلو خرچ کیا جبکہ عمارتوں اور آلات پر 94.8 ارب ڈالر لگائے، جن کا بڑا حصہ اے آئی ڈیٹا سینٹرز کے لیے تھا۔ ایک دن پہلے الفابیٹ (گوگل) کے شیئر 12 فیصد سے زیادہ گرے تھے، جو اس کا تاریخ کا بدترین دن تھا۔

اے آئی کا “ثابت کرو” مرحلہ

ایکویٹی آرمر انویسٹمنٹس کے پورٹ فولیو مینیجر جو ٹیگے نے کہا کہ اے آئی میں سرمایہ کاری “امیدوں اور خوابوں” کے مرحلے سے نکل کر اب “ثابت کرو” کے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔

سب کچھ نہیں گرا۔ ایس اینڈ پی 500 کی تقریباً اتنی ہی کمپنیاں اوپر گئیں جتنی نیچے آئیں۔ منافع کی توقعات سے بہتر نتائج پر مونڈیلیز 3.9، ایکسون موبل 2.2 اور شیورون 1.8 فیصد بڑھے۔ پیسہ سرکاری بانڈز کی طرف گیا تو 10 سالہ امریکی ٹریژری کی شرح 4.98 سے کم ہو کر 4.93 فیصد ہو گئی۔

بٹ کوائن 77 ہزار ڈالر سے نیچے، تیل 113 ڈالر سے اوپر

کرپٹو کے لیے بھی دن برا رہا۔ بائنانس ایکسچینج پر 6 ارب ڈالر سے زیادہ کی ریکارڈ چوری کے بعد بٹ کوائن 77 ہزار ڈالر سے نیچے آ گیا، جو اکتوبر کے شروع میں 86 ہزار ڈالر سے اوپر تھا۔ کوائن بیس کے شیئر 10.6 فیصد اور دنیا کے تقریباً 4 فیصد بٹ کوائن رکھنے والی کمپنی اسٹریٹیجی کے شیئر 7.8 فیصد گرے۔

برینٹ خام تیل الٹی سمت گیا اور 2.4 فیصد بڑھ کر 113.43 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا، جو ایران جنگ شروع ہونے کے بعد کی حد کے اوپری حصے کے قریب ہے۔

ایشیا میں جنوبی کوریا کا کوسپی 3.5 اور جاپان کا نکی 2.1 فیصد گرا، جبکہ ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ 1.5 فیصد بڑھا۔

پاکستان کے لیے اس کا مطلب

پاکستان اسٹاک ایکسچینج جمعہ کو پہلے ہی نیچے بند ہوئی تھی: منافع لینے کے باعث چار دن کی تیزی ختم ہوئی اور کے ایس ای 100 انڈیکس 0.47 فیصد کمی کے ساتھ 166,409.25 پر بند ہوا۔ عالمی ٹیک گراوٹ عموماً کراچی پر زیادہ اثر نہیں ڈالتی، مگر اگر غیر ملکی سرمایہ کار ابھرتی منڈیوں سے پیسہ نکالیں تو اثر پڑ سکتا ہے۔ پیر کو مارکیٹ کھلنے پر پتا چلے گا۔

عام پاکستانی کے لیے اصل فکر تیل ہے۔ برینٹ 110 ڈالر سے اوپر رہنے کا مطلب ہے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں پر دباؤ، جو حکومت اب ہر چند دن بعد طے کرتی ہے، اور درآمدی بل پر بوجھ جو روپے کو کمزور کرتا ہے۔ فری لانسرز اور آئی ٹی برآمد کنندگان کو بھی دیکھنا ہوگا کہ اگر امریکی ٹیک کمپنیاں اے آئی پر خرچ کم کرتی ہیں تو بیرون ملک بھیجے جانے والے سافٹ ویئر کام پر کیا اثر پڑتا ہے۔

پاکستان میں کرپٹو کے قواعد ابھی پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی طے کر رہی ہے، اس لیے کسی غیر ملکی ایکسچینج کے مسئلے کی صورت میں صارفین کا تحفظ محدود ہے۔

یہ معلومات ہیں، سرمایہ کاری کا مشورہ نہیں۔

مزید پڑھیں