پیٹرول کی قیمت آج: 2 نومبر تک 377.91 روپے، ڈیزل 2.29 روپے مہنگا ہو کر 402.96 روپے

اوگرا کی نئی قیمتیں 31 اکتوبر سے 2 نومبر تک۔ ڈیزل اس ہفتے دوسری بار مہنگا، پیٹرول برقرار۔ مکمل ریٹ، ہر لیٹر میں ٹیکس اور لیوی پر جاری بحث۔

A driver fills a car with fuel at a pump
تصویر: Nukta

ڈیزل ایک بار پھر مہنگا ہو گیا۔ ہفتہ 31 اکتوبر سے ہائی اسپیڈ ڈیزل 402.96 روپے فی لیٹر ملے گا، جو جمعہ کے 400.67 روپے کے ریٹ سے 2.29 روپے زیادہ ہے۔ پیٹرول کی قیمت 377.91 روپے فی لیٹر برقرار ہے۔

آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے جمعہ کی شام نئی قیمتیں جاری کیں اور پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق یہ پیر 2 نومبر تک لاگو رہیں گی۔ یوں دو دن میں ڈیزل دوسری بار مہنگا ہوا ہے؛ پچھلے نوٹیفکیشن میں بھی 85 پیسے بڑھائے گئے تھے اور پیٹرول برقرار رکھا گیا تھا۔

31 اکتوبر سے 2 نومبر تک قیمتیں

  • پیٹرول: 377.91 روپے فی لیٹر (کوئی تبدیلی نہیں)
  • ہائی اسپیڈ ڈیزل: 402.96 روپے فی لیٹر (2.29 روپے اضافہ)

ہر لیٹر میں کتنا ٹیکس

پیٹرول کے ہر لیٹر پر تقریباً 114 روپے اور ڈیزل پر تقریباً 100 روپے ٹیکس اور ڈیوٹیاں ہیں، جن کا بڑا حصہ پیٹرولیم لیوی ہے۔ اسی لیوی کی بنیاد پر اپوزیشن جماعتیں کہتی ہیں کہ حکومت چاہے تو قیمتیں کم کر سکتی ہے۔

جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن نے منگل کو وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات کی، جس میں فیول ریلیف بڑھانے پر غور کے لیے مشترکہ کمیٹی بنانے پر اتفاق ہوا۔ حافظ نعیم کہہ چکے ہیں کہ اگر بڑا ریلیف نہ ملا تو ان کی جماعت نومبر کے وسط میں اسلام آباد کی طرف مارچ کرے گی۔

قیمتیں اب ہر چند دن بعد کیوں بدلتی ہیں

17 جولائی سے اوگرا ہفتہ وار کے بجائے مختصر وقفوں سے قیمتیں طے کر رہی ہے۔ وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا تھا کہ ایران اور امریکہ کی لڑائی دوبارہ شروع ہونے کے بعد عالمی قیمتیں اتنی تیزی سے بدل رہی ہیں کہ پرانا نظام کام نہیں کرتا۔ قیمتیں حالیہ عالمی اوسط کے مطابق طے ہوتی ہیں۔

عالمی قیمتیں اب بھی بلند ہیں۔ جمعہ کو برینٹ خام تیل 2.4 فیصد بڑھ کر تقریباً 113 ڈالر فی بیرل رہا۔ موازنے کے لیے، 28 فروری کو جنگ شروع ہوئی تو ڈیزل تقریباً 281 روپے تھا اور 3 اپریل کو 520.35 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچا، جبکہ پیٹرول اسی دن 458.41 روپے تک گیا تھا۔

ڈیزل 402 روپے کا آپ پر اثر

ٹرک، بسیں، ٹریکٹر اور بہت سے ٹیوب ویل ڈیزل پر چلتے ہیں، اس لیے چند روپے کا اضافہ بھی کرایوں اور سبزی، گندم اور سیمنٹ کی ترسیل کی لاگت میں شامل ہو جاتا ہے۔ پیٹرول استعمال کرنے والوں کو فی الحال کچھ دن کا وقفہ ملا ہے۔

17 ستمبر سے جاری حکومتی فیول ریلیف اسکیم موٹر سائیکلوں، رکشوں اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے لیے برقرار ہے۔ اگلا نوٹیفکیشن پیر 2 نومبر کو متوقع ہے۔

مزید پڑھیں