تیل کی قیمت آج: ہرمز میں ٹینکر پر حملے کے بعد برینٹ 117 ڈالر کے قریب، پاکستان پر اثر

عمان کے قریب ایک ٹینکر کو آگ لگنے کے بعد جمعہ کو برینٹ خام تیل تقریباً 117 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔ پاکستان میں پیٹرول، ڈیزل اور روپے پر کیا اثر ہوگا۔

Aerial view of an oil tanker sailing on open sea
تصویر: OilPrice.com

دنیا میں تیل کی بنیادی قیمت، برینٹ خام تیل، جمعہ 30 اکتوبر کو تقریباً 117 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔ وجہ آبنائے ہرمز میں ایک ٹینکر کو لگنے والی آگ اور ایران کا یہ دعویٰ ہے کہ کئی اور جہاز بارودی سرنگوں سے ٹکرائے۔ پاکستان اپنا تقریباً سارا تیل باہر سے خریدتا ہے اور اب پیٹرول کی قیمت روزانہ طے ہوتی ہے، اس لیے یہ اضافہ چند دن میں پیٹرول پمپ تک پہنچ جاتا ہے۔

آبنائے ہرمز میں کیا ہوا؟

برطانیہ کا ادارہ یو کے ایم ٹی او، جو بحری جہازوں پر حملوں کا ریکارڈ رکھتا ہے، کہتا ہے کہ جمعرات کو عمان کے علاقے خصب سے تقریباً 25 ناٹیکل میل شمال مشرق میں ایک ٹینکر کو آگ لگ گئی۔ ایک چھوٹی کشتی نے جہاز کے ڈھانچے پر پانی کی سطح سے اوپر دو دھماکا خیز آلے لگائے، جن کے پھٹنے سے انجن روم میں آگ لگی۔ جہاز کا نام پاناما کے پرچم والا لوئیز 1 بتایا گیا ہے۔

ادارے کے مطابق آگ بجھا دی گئی، عملہ محفوظ ہے، ماحول کو کوئی نقصان نہیں ہوا اور جہاز اگلی بندرگاہ کی طرف روانہ ہے۔ کسی نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

ایران کی پاسداران انقلاب نے اس سے آگے کا دعویٰ کیا کہ آبنائے میں چار ٹینکر بارودی سرنگوں سے ٹکرائے، کیونکہ وہ ایران کے بقول “غیر مجاز راستے” استعمال کر رہے تھے۔ ترجمان حسین محبی نے کہا کہ معاملہ “سوشل میڈیا اور امریکی میڈیا کے وار رومز میں” طے نہیں ہوگا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے یہ دعویٰ رد کیا اور کہا کہ امریکی فورسز جہاز رانی کے بڑے راستوں سے سرنگیں پہلے ہی صاف کر چکی ہیں۔

عمان کی بحریہ نے الگ سے بتایا کہ اس نے مسندم سے تقریباً 196 کلومیٹر دور “نشانہ بنائے گئے” ایک جہاز کے 25 افراد کو بچا لیا۔

تیل کتنا مہنگا ہوا؟

برینٹ جمعہ کو تقریباً 117 ڈالر فی بیرل کو چھو گیا اور لگاتار چوتھے مہینے اضافے کی طرف جا رہا ہے۔ قیمت دونوں طرف کھنچ رہی ہے: ہر حملہ اسے اوپر لے جاتا ہے، اور امریکا ایران معاہدے کی ہر امید، جیسے اس ہفتے قطری ثالثوں کی تہران واپسی، اسے نیچے لاتی ہے۔ امریکا بازار کو سنبھالنے کے لیے اپنے ہنگامی ذخیرے سے بھی تیل نکال رہا ہے۔

پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل پر اثر

پاکستان میں اب ایندھن کی قیمت روزانہ، عالمی قیمتوں کی سات دن کی اوسط پر طے ہوتی ہے، اس لیے برینٹ کا اضافہ کوئی دور کی خبر نہیں۔ آج پیٹرول 377.91 روپے اور ڈیزل 400.67 روپے فی لیٹر ہے، ڈیزل پہلی بار 400 روپے سے اوپر گیا ہے (آج کے ریٹ پر ہماری رپورٹ)۔

اگر تیل 117 ڈالر کے آس پاس رہا تو سات دن کی اوسط بڑھتی رہے گی اور پمپ کی قیمت بھی اوپر جانے کا امکان ہے۔ تیل کا بل بڑھنے کا مطلب ہے زیادہ ڈالر ملک سے باہر جانا، جس سے روپے اور مہنگائی پر دباؤ آتا ہے، وہی مہنگائی جس سے نمٹنے کے لیے اسٹیٹ بینک نے اس ہفتے پالیسی ریٹ 12 فیصد کیا۔

ایک چھوٹی سی ڈھارس بھی ہے۔ دنیا بھر میں شرح سود اونچی رہنے کی توقع پر آج پاکستان میں سونا سستا ہوا، اور اگر سفارت کاری آگے بڑھی تو یہی ماحول تیل کو بھی ٹھنڈا کر سکتا ہے۔

آگے کیا دیکھنا ہے

تہران میں قطر کی بات چیت، ہفتے کے آخر میں مزید جہازوں پر حملے، اور اوگرا کا روزانہ کا قیمتوں کا نوٹس جو ایک دن پہلے آتا ہے۔ یہ بازار کی قیمتوں کی معلومات ہے، سرمایہ کاری کا مشورہ نہیں۔

مزید پڑھیں