مجھ سے کیوں بیر کیا: درِ نجات کا نیا او ایس ٹی ایک دن میں 12 لاکھ ویوز سے آگے

اے آر وائی کا درِ نجات کا نیا گانا نوید نوشاد اور سحر گل خان کی آواز میں، ابوبکر اور زریاب کے مناظر پر بنا ہے۔ کس نے بنایا، کیا کہتا ہے، مداحوں کا ردعمل۔

Dur-e-Fishan Saleem and Sheheryar Munawar as Zaryab and Abu Bakar in a dinner scene from Dar-e-Nijaat
تصویر: ARY Digital
ARY Digital HDاصل ویڈیو دیکھیں (YouTube)

درِ نجات کا دوسرا گانا آ گیا ہے، اور ہر طرف چھا گیا ہے۔ اے آر وائی ڈیجیٹل نے ہفتہ 31 اکتوبر کو “مجھ سے کیوں بیر کیا” کی آفیشل ویڈیو جاری کی، اور اتوار کی صبح تک، ایک دن سے بھی کم وقت میں، یوٹیوب پر اس کے ویوز 12 لاکھ سے بڑھ چکے تھے۔

مجھ سے کیوں بیر کیا کس نے بنایا؟

اے آر وائی ڈیجیٹل کے کریڈٹس کے مطابق:

  • گلوکار: نوید نوشاد اور سحر گل خان
  • بول: قمر نوشاد
  • موسیقی اور کمپوزیشن: نوید نوشاد
  • ارینجمنٹ، مکسنگ اور ماسٹرنگ: سلمان نصیر

یہ ایک دوگانا ہے، جو ڈرامے کے موجودہ موڈ سے میل کھاتا ہے۔ چار منٹ سے کچھ زیادہ کی ویڈیو ابوبکر (شہریار منور) اور زریاب (درِ فشاں سلیم) کے مناظر سے بنی ہے، جن کی آہستہ آہستہ بنتی شادی ہی اب لوگوں کے ڈرامہ دیکھنے کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ اے آر وائی نے خود اسے اس جوڑی کی “دلکش کیمسٹری” کو زندہ کرنے والا گانا کہا ہے۔

عنوان کا مطلب کیا ہے؟

“مجھ سے کیوں بیر کیا” کا مطلب ہے “مجھ سے دشمنی کیوں رکھی” یا “مجھ سے کیوں رخ پھیرا”۔ “بیر” دشمنی یا کینے کے لیے پرانا لفظ ہے، جو روزمرہ بول چال سے زیادہ لوک گیتوں اور قوالی میں سنائی دیتا ہے۔

یہ جوڑی کی کہانی پر پورا اترتا ہے۔ زریاب اس شادی میں سرد مہری اور شک کے ساتھ آئی تھی، اور ڈرامے کا بڑا حصہ ابوبکر کے صبر سے اس دیوار کے آہستہ آہستہ گرنے کا ہے۔ گانا وہ سوال پوچھتا ہے جو دونوں ایک دوسرے سے پوچھ سکتے ہیں۔

یہ کیوں چل پڑا

زیادہ تر وقت کی بات ہے۔ عمیرہ احمد کا لکھا اور ثاقب خان کی ہدایت میں بنا درِ نجات اس سیزن کا اے آر وائی کا سب سے بڑا ڈرامہ ہے، اور ہر جمعہ اور ہفتے کی رات ابوبکر اور زریاب کے مناظر کلپ ہو کر شیئر ہوتے ہیں۔ صرف انہی لمحوں سے بنا گانا مداحوں کو تیار شدہ ایڈٹ دے دیتا ہے۔ ویڈیو نئی قسط والے دن صبح آئی اور اسی شام قسط 27 نشر ہوئی۔

ڈرامے کا پہلے سے ایک مقبول ٹائٹل گانا “ہجرِ محبت” ہے۔ انٹرٹینمنٹ ویب سائٹ ریویو اِٹ کے مطابق نئے گانے پر مداحوں کا ردعمل گرمجوش ہے: ناظرین نے دھن، بولوں اور مرکزی جوڑی کی کیمسٹری کی تعریف کی اور مناظر کی عکسبندی کو سراہا۔ کچھ کا کہنا ہے کہ یہ “ہجرِ محبت” کا مقابلہ نہیں کر سکتا، جو عموماً دوسرے او ایس ٹی کے ساتھ ہوتا ہے۔

ہماری رائے

نوید نوشاد کی کمپوزیشن ٹک ٹاک کے ہک کے پیچھے بھاگنے کے بجائے کلاسیکی، کچھ پرانے انداز کی دھن پر ٹکی ہے، جو روحانی رنگ والے ڈرامے کے لیے سمجھداری کا فیصلہ ہے۔ سحر گل خان کی آواز دوگانے کو نرمی دیتی ہے۔ یہ ٹائٹل گانے سے آگے نکلے گا یا نہیں، اس کا فیصلہ اگلی چند قسطیں کریں گی؛ ڈراموں کے گانے کہانی کے ساتھ چڑھتے اترتے ہیں۔

درِ نجات ہر جمعہ اور ہفتے کو رات 8 بجے اے آر وائی ڈیجیٹل پر نشر ہوتا ہے، اور قسط 28 جمعہ 6 نومبر کو متوقع ہے۔

مزید پڑھیں