مجبور کا لوسٹ فریکوئنسیز ریمکس: ایک پاکستانی گیت بیلجیئم کے ڈی جے تک کیسے پہنچا
شہریار ریحان اور زوہا وسیم کے گیت مجبور کا آفیشل ریمکس لوسٹ فریکوئنسیز نے بنایا ہے۔ یہ کیسے ہوا، گیت کس نے بنایا اور کیا ریمکس میں اس کی روح باقی ہے؟


شہریار ریحان اور زوہا وسیم کا گیت “مجبور”، جو ایک سال سے پاکستانی پلے لسٹس میں چھایا ہوا ہے، اب بیلجیئم کے ڈی جے لوسٹ فریکوئنسیز کے آفیشل ریمکس میں آ گیا ہے۔ یہ وہی پروڈیوسر ہیں جن کا گیت “آر یو وِد می” دنیا بھر میں ہٹ ہوا تھا۔ ریمکس ویڈیو جمعرات 22 اکتوبر کو لوسٹ فریکوئنسیز کے اپنے یوٹیوب چینل پر آئی اور ہفتے کے آخر میں پاکستانی اخبارات نے یہ خبر دی۔
مجبور کس نے بنایا؟
ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق گیت شہریار ریحان نے لکھا اور کمپوز کیا، اور وہ اسے زوہا وسیم کے ساتھ گاتے ہیں، جن کی غزل کے رنگ والی آواز گیت کا درد بنتی ہے۔ یہ ستمبر 2025 میں ریلیز ہوا اور اس کی ویڈیو مرتضیٰ نیاز نے ڈائریکٹ کی۔ آفیشل اپلوڈ کے کریڈٹس کے مطابق اسے کبیر خان نے پروڈیوس کیا، گٹار شیری خٹک نے بجایا اور مکسنگ جولائی سونک نے کی۔ ذوالفقار جبار خان (ژلفی) کی شریک بانی کمپنی جراف میوزک بھی اس منصوبے سے وابستہ ہے۔
اعداد بتاتے ہیں کہ یورپی ڈی جے کی نظر کیوں پڑی۔ ایکسپریس ٹریبیون اور دی نیشن دونوں کے مطابق گیت کی اسٹریمز 25 کروڑ سے زیادہ ہیں، یہ اسپاٹیفائی کے گلوبل وائرل ٹاپ 50 میں آیا، اور پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش اور امارات میں خوب سنا گیا۔ صرف اصل ویڈیو کے شہریار ریحان کے یوٹیوب چینل پر اس تحریر کے وقت 12 کروڑ سے زیادہ ویوز تھے۔
ریمکس کیسے بنا
یہ کسی دفتر میں طے ہونے والی ڈیل نہیں تھی۔ دونوں اخبارات کے مطابق لوسٹ فریکوئنسیز، جن کا اصل نام فیلکس ڈی لاٹ ہے، اپنے لائیو شوز میں “مجبور” کا اپنا ورژن بجانے لگے، پھر ایک پرفارمنس کا کلپ انسٹاگرام پر ڈالا، اور یوں آفیشل ریلیز کا راستہ بنا۔ ژلفی کے مطابق انہوں نے یہ گیت بھارت میں بھی بجایا۔ ریمکس ویڈیو کے کریڈٹس میں بھارتی ٹیم کے نام ہیں اور کاسا بکارڈی اور پیراڈوکس انڈیا کا شکریہ ادا کیا گیا ہے۔
لوسٹ فریکوئنسیز نے کہا: “مجبور میں کچھ لازوال ہے۔” ان کے مطابق انہیں ان خوبصورت دھنوں کو اپنی آواز کے ساتھ ملا کر ڈانس فلور تک لانا بہت اچھا لگا۔ شہریار ریحان نے دی نیشن سے کہا کہ “مجبور” کو نئے سامعین تک پہنچتے دیکھنا بہت پرجوش ہے۔
ریمکس میں کیا بدلا؟
اصل گیت دھیرے دھیرے سلگتا دل ٹوٹنے کا گیت ہے، اور ریمکس کے یوٹیوب کیپشن میں اس کا مکھڑا “کیوں کیتا اے مجبور” لکھا ہے۔ ڈانس ریمکس کا خطرہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اس احساس کو ایک عام بیٹ میں دبا دے۔
ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق شہریار ریحان کا کہنا ہے کہ ریمکس میں اصل گیت کا جذبہ برقرار ہے اور آواز نئی ہے۔ لوسٹ فریکوئنسیز سریلے، ریڈیو پر چلنے والے ہاؤس میوزک کے لیے جانے جاتے ہیں، فیسٹیول کے شور کے لیے نہیں، جو جدائی پر بنے گیت کے لیے فطری میل ہے۔ اوپر دونوں ورژن سنیں اور خود فیصلہ کریں: رات دو بجے کے لیے اصل، گاڑی اور ڈھولکی کے لیے ریمکس۔
یہ کیوں اہم ہے
پاکستانی پاپ کے عالمی لمحات پہلے بھی آئے ہیں، “پسوڑی” سے حسن رحیم تک، مگر زیادہ تر وہ تارکینِ وطن کے ذریعے پھیلے۔ ایک بڑے یورپی ڈانس پروڈیوسر کا ریمکس “مجبور” کو ان کلب اور فیسٹیول سامعین تک لے جاتا ہے جنہوں نے کبھی کوک اسٹوڈیو کا نام بھی نہیں سنا۔ اس تحریر کے وقت ریمکس ویڈیو کے تقریباً 20 ہزار ویوز تھے، یعنی ابھی شروعات ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا یہ یورپ میں اسپاٹیفائی کی ڈانس پلے لسٹس تک پہنچتا ہے۔
ذرائع
یہ خبر اے آئی کی مدد سے تحقیق اور تحریر کی گئی، پھر شائع کرنے سے پہلے ہمارے ایڈیٹر نے اس کی جانچ اور تدوین کی۔




