ولیم گیمبورگ لاہور ویڈیو: الفاظ گانے والے سُر تال اکیڈمی کے بچے کون ہیں؟
کوئیک سٹائل کے نارویجن رکن کرشن نگر کی مفت میوزک اکیڈمی کے بچوں کے ساتھ بیٹھے۔ بچے کون ہیں، دورہ کیسے ہوا اور انڈیا میں کیا کہا گیا؟

اس ہفتے جو ویڈیو ہر واٹس ایپ گروپ میں گھوم رہی ہے، اس میں لاہور کے بچے پورے جوش سے ‘الفاظ’ گا رہے ہیں اور ان کے بیچ بیٹھا ایک نارویجن نوجوان پہلے سر ہلاتا ہے، پھر خود کو روک نہیں پاتا اور تالیاں بجانے لگتا ہے۔ یہ ولیم گیمبورگ ہیں، اور بچے کرشن نگر کی مفت میوزک اکیڈمی ‘سُر تال’ کے طالب علم ہیں۔ بی بی سی اردو کے مطابق منگل 27 اکتوبر تک یہ کلپ صرف انسٹاگرام پر تقریباً 90 لاکھ بار دیکھا جا چکا تھا۔
ولیم گیمبورگ کون ہیں؟
گیمبورگ ناروے کے گلوکار، نغمہ نگار اور ڈانسر ہیں۔ بی بی سی اردو کے مطابق وہ کوئیک سٹائل کے رکن ہیں، وہی نارویجن ڈانس گروپ جسے پاکستانی کیفی خلیل کے ‘کنا یاری’ پر شادی والے ڈانس سے جانتے ہیں۔ یہ گروپ پاکستانی نژاد نارویجن جڑواں بھائیوں سلیمان اور بلال ملک نے اپنے دوست ناصر سریخان کے ساتھ بنایا تھا۔
آج نیوز کے مطابق گیمبورگ نے ناروے کے میوزک ادارے LIMPI سے 2022 میں تعلیم مکمل کی اور 2014 میں ‘نورشکے تالینتر’ (ناروے گاٹ ٹیلنٹ) میں حصہ لیا۔ ان کے اپنے گانے نارویجن زبان میں ہیں، اس لیے یہ پنجابی موسیقی پر پلنے والے شخص نہیں۔ شاید اسی لیے کلپ دل کو لگتی ہے: صاف دکھائی دیتا ہے کہ وہ یہ سُر پہلی بار ٹھیک سے سن رہے ہیں۔
وہ سُر تال کیسے پہنچے؟
اکیڈمی کے بانی، موسیقار اور محققِ موسیقی ضیا الحق نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ویڈیو پچھلے ہفتے ریکارڈ ہوئی جب ‘کوک سٹوڈیو والے زلفی بھائی’ ولیم کو لے کر آئے۔ مراد پروڈیوسر زلفی ہیں جو کوک سٹوڈیو کے حالیہ سیزنز کے پیچھے ہیں۔ پھر گیمبورگ نے یہ کلپ اپنے انسٹاگرام اور ٹک ٹاک پر لگایا اور وہیں سے یہ پھیل گئی۔
سُر تال کے بچے کون ہیں؟
اکیڈمی کی مدد کرنے والی تنظیم ‘پلیئنگ فار چینج فاؤنڈیشن’ کے مطابق سُر تال 2019 میں اس مقصد سے بنی کہ کم وسائل والے گھرانوں کے بچوں کو مفت موسیقی سکھائی جائے اور فنکاروں کی نئی نسل تیار ہو۔ ضیا الحق کے مطابق اس وقت 100 سے زیادہ بچے یہاں سیکھ رہے ہیں۔ وہ کبھی کبھی لاہور کے آس پاس کے دیہات میں جا کر ٹیلنٹ ڈھونڈتے ہیں، وظائف دیتے ہیں، اور کئی بچے سکول کے بعد روزانہ چار سے پانچ گھنٹے ریاض کرتے ہیں۔ ویڈیو والے بچے اکیڈمی کے منتخب طلبہ تھے۔
یہ ان کی پہلی وائرل ویڈیو بھی نہیں۔ ضیا الحق کے مطابق پی ایس ایل کی ایک تقریب میں ان کی پرفارمنس بھی خوب پھیلی تھی، اور علی ظفر نے ایک بار بچوں اور لاہور قلندرز کا اشتراک بھی کروایا تھا۔
گانا ‘الفاظ’ ہی کیوں؟
یہ حمزہ ملک اور زین زوہیب کا پنجابی گیت ہے جو کئی ہفتے سپاٹیفائی پاکستان پر پہلے نمبر پر رہا (اس کی چارٹ کہانی یہاں پڑھیں)۔ جس مصرعے پر بچے سب سے زیادہ زور لگاتے ہیں اس کا مطلب کچھ یوں ہے کہ تم ستاروں سے بھی سوہنے ہو اور تم جیسا کوئی نہیں ہوگا۔ سٹوڈیو کے بجائے بچوں سے بھرے کمرے میں گایا جائے تو یہ پاپ گانا کم اور محفل زیادہ لگتا ہے، اور لوگ اسی پر فدا ہیں۔
انڈیا اور باقی دنیا کا ردعمل
کلپ تیزی سے سرحد پار پہنچی۔ بی بی سی اردو کے مطابق انسٹاگرام پیج ‘انڈیا ٹیلنٹس’ نے اسے اس کیپشن کے ساتھ شیئر کیا کہ پاکستان صرف موسیقی نہیں بناتا بلکہ ایسے احساسات بناتا ہے جو روح کو چھو لیں۔ بنگالی فلم اور ٹی وی اداکار روہان بھٹاچارجی نے دل والا ایموجی بنا کر اپ لوڈ کرنے کا شکریہ ادا کیا۔ ایک انڈین صارف نے لکھا کہ انھوں نے ویڈیو چار بار دیکھی۔
اس سال امریکہ ایران مذاکرات کی کوریج کے لیے اسلام آباد آنے والی امریکی صحافی کیٹلین ڈورنبوس نے ایکس پر لکھا کہ اس ویڈیو نے انھیں بہت سکون دیا اور پوچھا کہ اگلی بار پاکستان آئیں تو کیا ایسا سیشن پھر ہو سکتا ہے۔ ایک پاکستانی صارف نے مزے کا جملہ کسا: بچوں کا اپنا ‘ڈائٹ کوک سٹوڈیو’ ہے۔
آگے کیا؟
سُر تال کے انسٹاگرام پر اسی دورے کی مزید ویڈیوز ہیں جن میں گیمبورگ دوسرے گیتوں پر بھی جھوم رہے ہیں۔ اگر زلفی انھیں لائے تھے تو سب کے ذہن میں سوال یہی ہے کہ کیا یہ بچے کوک سٹوڈیو کے سٹیج تک پہنچیں گے۔ ابھی کسی نے ایسا نہیں کہا، اس لیے فی الحال اسے خواہش سمجھیں، خبر نہیں۔
ذرائع
- BBC Urdu: William Gamborg and Surtaal Academy, the young Lahore musicians whose videos are viral in India too
- Gulf News: Norwegian singer William Gamborg goes viral singing Pakistani songs in Lahore
- Aaj English TV: Norwegian singer William Gamborg goes viral singing Pakistani songs in Lahore
- Playing For Change Foundation: Surtaal Music Academy
یہ خبر اے آئی کی مدد سے تحقیق اور تحریر کی گئی، پھر شائع کرنے سے پہلے ہمارے ایڈیٹر نے اس کی جانچ اور تدوین کی۔



