درِ نجات قسط 27: کلینک میں زریاب کا ٹوٹنا اور ابوبکر کا گلے لگانا، مداح دیوانے

زریاب کا سامنا زامل کی حاملہ بیوی سے ہوا تو وہ بکھر گئی، اور سہارا بنا ابوبکر۔ قسط 27 کا خلاصہ اور یہ منظر وائرل کیوں ہوا۔

Dar-e-Nijaat stills - the drama poster, Zaryab in tears, and Abu Bakr holding Zaryab in episode 27
تصویر: ARY Digital
ARY Digitalاصل ویڈیو دیکھیں (YouTube)

خبردار: اس تحریر میں درِ نجات کی قسط 27 کی کہانی موجود ہے، جو ہفتہ 31 اکتوبر کو اے آر وائی ڈیجیٹل پر نشر ہوئی۔

چھبیس قسطوں تک درِ نجات نے ناظرین کو انتظار کروایا کہ زریاب کب ابوبکر کو اپنے دل تک آنے دے گی۔ قسط 27 میں آخرکار وہ لمحہ آ گیا، اور وہ بھی سب سے غیر رومانوی جگہ پر: ایک لیڈی ڈاکٹر کے کلینک میں۔ اتوار تک زریاب اور ابوبکر کے پہلی بار گلے ملنے کا کلپ انسٹاگرام اور ٹک ٹاک پر ہر طرف تھا۔

قسط 27 میں کیا ہوا

زریاب (دُرِفشاں سلیم) اپنی بہن فریال کے ساتھ کلینک جاتی ہے، جہاں اس کا سامنا حمنہ سے ہوتا ہے، جو زامل کی حاملہ بیوی ہے۔ وہی زامل جس نے کبھی زریاب کو توڑ دیا تھا۔ زریاب خود کو سنبھال نہیں پاتی، زمین پر بیٹھ جاتی ہے اور اٹھ نہیں پاتی۔

پھر قسط کا سب سے خوبصورت حصہ آتا ہے۔ زریاب کے تصور میں ابوبکر (شہریار منور) آتا ہے اور اسے سہارا دے کر اٹھاتا ہے۔ کچھ لمحے ہم بھی اسے حقیقت سمجھتے ہیں۔ پھر جب ابوبکر واقعی سامنے ہوتا ہے تو زریاب اسے تھام لیتی ہے، اور پہلی بار پرسکون نظر آتی ہے۔

یہ منظر اس لیے اثر کرتا ہے کہ ڈرامے نے اس کی بنیاد رکھی تھی۔ ابوبکر کا صبر اتنا لمبا رہا کہ کچھ ناظرین اسے غیر حقیقی کہنے لگے تھے۔ یہاں وہ صبر بغیر کسی لمبی تقریر کے رنگ لاتا ہے۔

اداکاری اور تحریر

دُرِفشاں نے یہ منظر بغیر کسی بناوٹ کے کیا۔ ان کی زریاب خوبصورتی سے نہیں روتی، وہ سمٹ جاتی ہے، سانس اکھڑ جاتی ہے اور ساکت ہو جاتی ہے۔ شہریار منور، جو اس سیریل کے پروڈیوسر بھی ہیں، اس قسط میں زیادہ تر آنکھوں سے اداکاری کرتے ہیں، اور مداحوں نے یہی بات پکڑی۔ ایک تبصرے میں انہیں “مرد سجل علی” تک کہا گیا۔

عمیرہ احمد کی کہانی حمنہ کو ولن نہیں بناتی۔ وہ بس وہاں موجود ہے، بے خبر، اور یہی بات منظر کو دردناک بناتی ہے۔ ہدایتکار ثاقب خان خاموشی کو بولنے دیتے ہیں۔

مداحوں کا ردِعمل

ردِعمل تقریباً یکطرفہ تھا۔ اے آر وائی کے کلپس کے نیچے جوڑی کی کیمسٹری کی تعریف ہوئی، اور بہت سے لوگوں نے کہا کہ وہ ہفتوں سے اسی منظر کا انتظار کر رہے تھے۔ فین پیجز نے چند گھنٹوں میں اس کی ایڈٹس بنا ڈالیں۔ قسط پر کوئی سنجیدہ تنقید نظر نہیں آئی، شکایت صرف اگلی قسط کے انتظار کی تھی۔

پچھلی کہانی کے لیے ہماری قسط 25 کی ریویو اور ابوبکر کون ہے پڑھیں۔

آگے کیا ہوگا

قسط 28 کا آفیشل پرومو اے آر وائی کے یوٹیوب چینل پر آ چکا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا زریاب ابوبکر کو بتائے گی کہ حمنہ کو دیکھ کر اس پر کیا گزری، یا پھر سب کچھ دل میں دفن کر دے گی۔ درِ نجات رات 8 بجے اے آر وائی ڈیجیٹل پر نشر ہوتا ہے۔

مزید پڑھیں