درِ نجات قسط 25: لمبا سفر، زریاب کا حسد اور بند دروازہ
درِ نجات کی قسط 25 میں زریاب اور ابوبکر سفر پر نکلتے ہیں۔ کہانی، سست رفتاری پر بحث، ایک ارب 70 کروڑ ویوز کا دعویٰ اور اگلی قسط کب آئے گی۔


اس تحریر میں درِ نجات قسط 25 کی کہانی بتائی گئی ہے۔
درِ نجات کی قسط 25 ہفتہ 24 اکتوبر کو اے آر وائی ڈیجیٹل پر نشر ہوئی اور اس کا زیادہ حصہ سفر میں گزرا۔ زریاب (درِ فشاں سلیم) اور ابوبکر (شہریار منور) ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتے ہیں، زریاب ادھر ادھر جھانکتی ہے، حسد کرتی ہے اور جھگڑا کرتی ہے، اور قسط ایک چھوٹے مگر معنی خیز لمحے پر ختم ہوتی ہے: ابوبکر نیچے آ کر اس کے لیے دروازہ نہیں کھولتا۔
یہ قسط اس کے ایک دن بعد آئی جب قسط 24 میں ہاتھ چومنے کے منظر نے مداحوں کو دیوانہ کر دیا تھا، اس لیے توقعات بہت زیادہ تھیں۔ یہ قسط اس کے مقابلے میں دھیمی رہی۔
درِ نجات قسط 25 کی کہانی
قسط دوائیں بانٹنے والے منظر سے شروع ہوتی ہے۔ زریاب کہتی ہے کہ “اتنی عام سی دوائیاں ہیں”، اور خوش بخت جواب دیتی ہیں کہ مسئلہ جس پر گزرتا ہے اس کے لیے بڑا ہوتا ہے، دوسروں کو چھوٹا لگتا ہے۔ بلاگر شبانہ مختار نے نشاندہی کی کہ یہی بات پچھلی قسط میں بھی ہو چکی تھی۔
پھر زریاب اس ارادے سے ابوبکر کے گھر جاتی ہے کہ ہمیشہ کے لیے اپنے گھر والوں کے پاس لوٹ جائے۔ ابوبکر انتظار کر رہا ہوتا ہے اور خود دروازہ کھولتا ہے۔ یہ اہم ہے، کیونکہ ڈرامے نے اسی دروازے کو اس بات کی علامت بنا دیا ہے کہ وہ زریاب سے کیسا سلوک کرتا ہے۔
اس کے بعد زیادہ تر وقت سفر کا ہے۔ زریاب کو جھانکنے کا موقع ملتا ہے، اسے حسد ہوتا ہے اور وہ حسبِ معمول ابوبکر سے الجھ پڑتی ہے۔ گھر واپسی پر ابوبکر اوپر ہی رہتا ہے اور اسے اکیلے دروازہ کھولنے دیتا ہے۔ پورے ہفتے کی نرمی کے بعد یہ چھوٹی سی سرد مہری خاصی چبھتی ہے۔
کیا درِ نجات کو کھینچا جا رہا ہے؟
مداح آج کل اسی سوال پر بحث کر رہے ہیں۔ شبانہ مختار نے قسط 25 کے زیادہ حصے کو پھیکا کہا، اور ریویو اٹ کے مطابق ڈرامہ تبصرہ نگار نادیہ خان نے اس ہفتے کہا کہ پہلی بار انہیں یہ ڈرامہ “بورنگ، سست اور بار بار ایک ہی بات” لگا۔ ان کا خیال ہے کہ گاؤں کے مناظر سردیوں کے لیے رکھے گئے ہیں اور ابھی شوٹ نہیں ہوئے، اس لیے کہانی کو تب تک کھینچا جا رہا ہے۔
ہماری رائے میں دہرایا گیا مکالمہ اس دباؤ کی سب سے واضح نشانی ہے۔ عمیرہ احمد کے اسکرپٹ عموماً اپنی دھیمی رفتار کو جاندار مکالموں سے سہارا دیتے ہیں، مسلسل دو قسطوں میں ایک ہی بات دہرانا ان کا انداز نہیں۔ پھر بھی یہ سفر ایک کام کرتا ہے: یہ وہ حسد بوتا ہے جو اس وقت اہم ہوگا جب زریاب کو حمنہ (رومیسہ خان) کا راز معلوم ہوگا، جسے ڈرامہ اب تک چھپائے ہوئے ہے۔
اداکاری
شہریار منور نے ابوبکر کے لیے ایک اچھا انداز ڈھونڈ لیا ہے: صابر، تھوڑا جھجکتا ہوا، گرم جوش مگر میٹھا نہیں۔ درِ فشاں سلیم زریاب کے شک کو بےچین آنکھوں اور تیز جوابوں سے نبھاتی ہیں، اور یہی ایک ہلکی قسط کو دیکھنے کے قابل بناتا ہے۔
مداحوں کا ردعمل
قسط 24 کی معافی اب بھی ہر جگہ چھائی ہوئی ہے۔ 24 نیوز کے مطابق ایک مداح نے لکھا: “مردو، عورت سے ایسے معافی مانگتے ہیں”۔ اے آر وائی نیوز کے مطابق کامیڈین اویس ریاض نے اس منظر پر پریشان سنسر افسر کی ایک مزاحیہ ریل بنائی، جسے شہریار منور نے “لول” لکھ کر شیئر کیا اور اپنی اہلیہ ماہین صدیقی کو ٹیگ کیا۔
اے آر وائی ڈیجیٹل کا یہ بھی کہنا ہے کہ ڈرامہ 23 قسطوں میں سوشل میڈیا پر ایک ارب 70 کروڑ سے زیادہ ویوز حاصل کر چکا ہے۔ یہ دعویٰ چینل کا اپنا ہے اور آزادانہ طور پر اس کی تصدیق نہیں ہوئی، مگر قسط 26 کا ٹیزر ہی چند گھنٹوں میں یوٹیوب پر 21 لاکھ سے زیادہ بار دیکھا گیا، جو اس تحریر کے وقت قسط 25 کی یوٹیوب ویڈیو کے 6 لاکھ 18 ہزار ویوز سے تین گنا سے زیادہ ہے۔
درِ نجات قسط 26 کب آئے گی؟
درِ نجات ہر جمعہ اور ہفتے کو رات 8 بجے اے آر وائی ڈیجیٹل پر نشر ہوتا ہے، اس لیے قسط 26 جمعہ 30 اکتوبر کو آئے گی۔ یوٹیوب پر ہر قسط کا صرف کچھ حصہ ہوتا ہے، پوری قسط اے آر وائی پلس ایپ پر دستیاب ہے۔
ذرائع
- The Other Me Unfolded: Dar-e-Nijaat Episode 25
- Reviewit: Nadia Khan reveals why Dar e Nijaat is being dragged
- ARY News: Dar-e-Nijaat becomes most-watched Pakistani drama during airing
- ARY News: Sheheryar Munawar, wife Maheen join the fun as Abu Bakr-Zaryab's romance breaks internet
- 24 News: Abu Bakr's romantic move in Dar-e-Nijaat leaves fans swooning
یہ خبر اے آئی کی مدد سے تحقیق اور تحریر کی گئی، پھر شائع کرنے سے پہلے ہمارے ایڈیٹر نے اس کی جانچ اور تدوین کی۔




