مائیکروسافٹ کی رضاکارانہ علیحدگی آفر: امریکہ، برطانیہ، کینیڈا اور بھارت کے 60 ہزار ملازمین اہل
مائیکروسافٹ اپنے تقریباً ایک چوتھائی ملازمین کو بائے آؤٹ کی پیشکش کر رہا ہے۔ کون اہل ہے، اے آئی کا کیا کردار ہے، اور جنوبی ایشیا کی ٹیک نوکریوں پر اثر۔

مائیکروسافٹ نے امریکہ، کینیڈا، برطانیہ اور بھارت کی منتخب ٹیموں کے ملازمین کو “رضاکارانہ علیحدگی آفر” دی ہے۔ ٹیک کرنچ کے مطابق کمپنی نے پیر 26 اکتوبر کو تصدیق کی کہ تقریباً 60 ہزار لوگ، یعنی کمپنی کا لگ بھگ ایک چوتھائی حصہ، اس کے اہل ہیں۔
یہ برطرفی نہیں، کم از کم ابھی نہیں۔ ملازمین خود فیصلہ کریں گے کہ پیکج لینا ہے یا نہیں، اور یہ مائیکروسافٹ کے معمول کے سیورنس جیسا ہے۔ مگر تقریباً 2 لاکھ 23 ہزار ملازمین والی کمپنی میں ہر چار میں سے ایک کو یہ پیشکش اس سال ٹیک انڈسٹری کے سب سے بڑے فیصلوں میں سے ایک ہے۔
کون اہل ہے؟
چیف پیپل آفیسر ایمی کولمین نے ملازمین کے نام نوٹ میں یہ پروگرام متعارف کرایا، جو مائیکروسافٹ نے اپنے سرکاری بلاگ پر بھی شائع کیا۔ اہم نکات:
- ممالک: امریکہ، کینیڈا، برطانیہ اور بھارت کی شریک ٹیمیں۔
- عہدہ: “لیول 70 اور اس سے نیچے”، یعنی نائب صدر تک۔
- ٹیمیں: ہر شعبے نے خود فیصلہ کیا۔ ٹیک کرنچ کے مطابق بلومبرگ نے رپورٹ کیا کہ ایکس باکس، ونڈوز، کوپائلٹ اور فنانس شامل ہیں، جبکہ ڈیٹا سینٹر، سیلز اور کچھ مارکیٹنگ و انجینئرنگ ٹیمیں شامل نہیں۔
- پیکج: کے یو او ڈبلیو کے مطابق عام سیورنس جیسا، جو ملک کے لحاظ سے مختلف ہوتا ہے اور عموماً سروس کے سالوں کے حساب سے تنخواہ، اسٹاک، ہیلتھ کور اور کیریئر سپورٹ پر مشتمل ہوتا ہے۔
کولمین نے لکھا کہ “ہر ٹیم اور ہر ملازم کے لیے ایک ہی طریقہ نہیں ہو سکتا” اور کہا کہ یہ آفر “ہمارے لیے نئی ہے”۔ بلاگ میں کوئی آخری تاریخ نہیں دی گئی، صرف یہ کہا گیا کہ آفر محدود وقت کے لیے ہے۔
کیا اس کے پیچھے اے آئی ہے؟
مائیکروسافٹ کہتا ہے نہیں۔ کمپنی کے ترجمان نے سیئٹل کے پبلک ریڈیو کے یو او ڈبلیو کو بتایا کہ بائے آؤٹ کی وجہ اے آئی نہیں۔ کولمین کے نوٹ میں لچک اور “بدلتی ضروریات” کی بات ہے، اے آئی کا ذکر ہی نہیں۔
میڈیا نے اسے مختلف انداز میں دیکھا۔ ٹیک کرنچ نے اسے اے آئی کے دور کے لیے لاگت کم کرنے اور افرادی قوت نئے سرے سے ترتیب دینے کی کوشش کا حصہ کہا، اور کے یو او ڈبلیو نے لکھا کہ کمپنی کئی سال سے عملہ کم کر رہی ہے جبکہ اے آئی ماڈلز کے ڈیٹا سینٹرز پر اربوں ڈالر خرچ کر رہی ہے۔ دونوں باتیں سچ ہو سکتی ہیں: شاید یہ نوکریاں اے آئی نہیں لے رہا، مگر اے آئی پر لگنے والا پیسہ کمپنی کہیں اور سے بچانا چاہتی ہے۔
اس سال کا دوسرا بائے آؤٹ
اپریل میں مائیکروسافٹ نے پرانے ملازمین کو قبل از وقت ریٹائرمنٹ کی پیشکش کی تھی۔ بلومبرگ کے مطابق تقریباً 8,750 اہل ملازمین میں سے 30 فیصد سے زیادہ نے اسے قبول کیا۔ کے یو او ڈبلیو کے مطابق کمپنی کو اس بار کم لوگوں کے قبول کرنے کی توقع ہے، کیونکہ پچھلی شرائط زیادہ فراخ دلانہ تھیں۔
پاکستان کے لیے اس کا مطلب
پاکستان فہرست میں نہیں، مگر بھارت ہے، اور یہ بات یہاں اہم ہے۔ مائیکروسافٹ کی بھارتی ٹیمیں اسی جنوبی ایشیائی ٹیلنٹ مارکیٹ کا حصہ ہیں جس میں پاکستانی ڈویلپرز ریموٹ کام اور آؤٹ سورسنگ کمپنیوں کے ذریعے مقابلہ کرتے ہیں۔
- بڑی کمپنی کی نوکری اتنی محفوظ نہیں جتنی لگتی ہے۔ اگر بہت منافع بخش مائیکروسافٹ اپنے ایک چوتھائی عملے سے پوچھ رہا ہے کہ کیا وہ جانا چاہتے ہیں، تو کارپوریٹ ٹیک کیریئر ہر جگہ بدل رہے ہیں۔
- مارکیٹ میں زیادہ تجربہ کار لوگ۔ پیکج لینے والوں میں سے کچھ فری لانسنگ یا کنسلٹنگ کریں گے، یعنی انہی ریموٹ کنٹریکٹس پر مقابلہ بڑھے گا جن کے پیچھے پاکستانی فری لانسرز ہیں۔ وزیر خزانہ کے مشیر کے مطابق پاکستانی فری لانسرز نے ستمبر میں ریکارڈ 19 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کمائے، یعنی مانگ موجود ہے، مگر مقابلہ بھی۔
- پیسہ کہاں جا رہا ہے، دیکھیں۔ ڈیٹا سینٹر کا عملہ، جو مائیکروسافٹ کی اے آئی مہم کے پیچھے مشینیں بناتا اور چلاتا ہے، اس آفر سے باہر رکھا گیا۔ یہ اشارہ ہے کہ کمپنی کو اب بھی کہاں لوگوں کی ضرورت ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ کتنے لوگ آفر قبول کرتے ہیں۔ مائیکروسافٹ نے ابھی نہیں بتایا کہ ونڈو کب بند ہوگی، اور کوئی حتمی تعداد سامنے نہیں آئی۔
ذرائع
یہ خبر اے آئی کی مدد سے تحقیق اور تحریر کی گئی، پھر شائع کرنے سے پہلے ہمارے ایڈیٹر نے اس کی جانچ اور تدوین کی۔



