اوپن اے آئی کی فنڈنگ کا ہدف 10 ارب ڈالر کم: اب 20 ارب، قیمت 1250 ارب ڈالر

میڈیا رپورٹس کے مطابق اوپن اے آئی نے فنڈنگ کا ہدف اور اپنی قیمت دونوں کم کر دیے ہیں۔ کیا بدلا، سرمایہ کار کیوں گھبرائے ہوئے ہیں اور پاکستان کے لیے اس کا کیا مطلب ہے۔

The OpenAI logo on a smartphone resting on a computer circuit board
تصویر: Reuters

میڈیا رپورٹس کے مطابق اوپن اے آئی نے اپنی تازہ فنڈنگ کا ہدف 10 ارب ڈالر کم کر دیا ہے۔ جمعہ 30 اکتوبر کی رپورٹس کے مطابق چیٹ جی پی ٹی بنانے والی کمپنی اب تقریباً 20 ارب ڈالر اکٹھے کرنا چاہتی ہے اور اپنی قیمت 1250 ارب ڈالر لگا رہی ہے، جبکہ چند ہفتے پہلے یہ 30 ارب ڈالر اور 1400 ارب ڈالر کی بات کر رہی تھی۔

اوپن اے آئی نے اس پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے اور حتمی شرائط ابھی طے ہو رہی ہیں، اس لیے یہ اعداد و شمار رپورٹس پر مبنی ہیں، تصدیق شدہ نہیں۔

اصل میں کیا بدلا؟

دو چیزیں ایک ساتھ بدلیں۔ فنڈنگ کا حجم ایک تہائی کم ہوا اور کمپنی کی اپنی لگائی گئی قیمت تقریباً 150 ارب ڈالر گر گئی۔ جو کمپنی پورا سال تاریخ کی تیز ترین رفتار سے پیسہ اکٹھا کرتی رہی، اس کے لیے کم رقم مانگنا ایک غیر معمولی قدم ہے۔

رپورٹس کے مطابق یہ رقم اسٹاک مارکیٹ میں آنے سے پہلے کا عارضی انتظام ہے، اور رپورٹس کے مطابق چیف ایگزیکٹو سیم آلٹمین کہہ چکے ہیں کہ اس سال شیئرز مارکیٹ میں نہیں آئیں گے۔

ابھی کیوں؟

وقت کو وال اسٹریٹ کے ماحول سے الگ کرنا مشکل ہے۔ ٹیکنالوجی کمپنیوں والا نیسڈیک انڈیکس مارچ 2025 کے بعد اپنے بدترین مہینے کی طرف جا رہا ہے، انٹیل کی کمزور پیشگوئی کے بعد چپ کمپنیوں کے شیئرز گرے، اور سرمایہ کار پوچھنے لگے ہیں کہ بڑی کمپنیاں ڈیٹا سینٹرز پر سالانہ تقریباً ایک ہزار ارب ڈالر کب تک خرچ کرتی رہیں گی جب منافع ابھی واضح نہیں۔

اوپن اے آئی اسی خرچ پر سب سے بڑا داؤ ہے۔ چیٹ جی پی ٹی کی سبسکرپشنز اور کاروباری معاہدوں سے بہت آمدن ہوتی ہے، مگر کمپیوٹنگ پر خرچ اس سے کہیں زیادہ ہے۔ جب پورے اے آئی کاروبار پر خدشات بڑھتے ہیں تو سب سے بڑے بل والی کمپنی پر اثر سب سے پہلے پڑتا ہے۔

یہ خبر اسی ہفتے آئی جب حریف کمپنی اینتھروپک نے نیسڈیک پر شیئرز لانے کے کاغذات جمع کرائے، یوں سرمایہ کاروں کے سامنے موازنے کے لیے ایک اور راستہ آ گیا۔

کیا اے آئی کا عروج ختم ہو گیا؟

ان شواہد سے ایسا نہیں لگتا۔ 20 ارب ڈالر اکٹھے کرنا اب بھی تاریخ کی سب سے بڑی نجی فنڈنگز میں سے ایک ہے، اور 1250 ارب ڈالر کی قیمت اوپن اے آئی کو دنیا کی زیادہ تر لسٹڈ کمپنیوں سے بڑا بنا دے گی۔ فرق لہجے کا ہے: ایک ماہ پہلے سرمایہ کار شامل ہونے کے لیے مقابلہ کر رہے تھے، اب سخت سودے بازی کر رہے ہیں۔

سیم آلٹمین خود کہہ چکے ہیں کہ اے آئی مارکیٹ کے کچھ حصے بلبلے جیسے لگتے ہیں، مگر ان کا کہنا ہے کہ اس کے نیچے ٹیکنالوجی حقیقی ہے۔

پاکستان کے لیے اس کا مطلب

یہاں کے فری لانسرز، ڈویلپرز اور طلبہ جو روزانہ چیٹ جی پی ٹی، کلاڈ اور جیمنائی استعمال کرتے ہیں، ان کے لیے فوری طور پر کچھ نہیں بدلتا۔ یہ ٹولز چلتے رہیں گے اور قیمتیں مقابلے سے طے ہوتی ہیں، جو بہت سخت ہے: اوپن اے آئی اور اینتھروپک کاروباری صارفین کے لیے قیمتیں کم کر رہی ہیں۔

طویل مدتی خطرہ الٹی سمت میں ہے۔ اگر پیسہ تنگ ہوا تو اے آئی کمپنیاں صارفین سے زیادہ وصولی کی کوشش کر سکتی ہیں، یعنی کم مفت فیچرز اور مہنگے پلان۔ جو پاکستانی فری لانسر اپنا کام ان ٹولز پر چلاتے ہیں، انہیں سبسکرپشن کے اخراجات پر نظر رکھنی چاہیے اور کسی ایک کمپنی پر مکمل انحصار سے بچنا چاہیے۔

یہ معلومات ہیں، سرمایہ کاری کا مشورہ نہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ فنڈنگ 1250 ارب ڈالر کی قیمت پر مکمل ہوتی ہے یا قیمت مزید گرتی ہے۔

مزید پڑھیں