کلاڈ اسمارٹ رپورٹس: کیا باس دیکھ سکتا ہے آپ نے اے آئی سے کیا "غیر متعلقہ" باتیں کیں؟
اینتھروپک کی نئی کلاڈ انٹرپرائز رپورٹس "ذاتی یا غیر متعلقہ" چیٹس کی تعداد اور خرچ بتاتی ہیں۔ مینیجر کیا دیکھتا ہے اور کیا چھپا رہتا ہے؟

کلاڈ انٹرپرائز استعمال کرنے والی کمپنیاں اب کلاڈ سے اپنے ملازمین کی اے آئی گفتگو کا ایک نمونہ پڑھوا کر رپورٹ بنوا سکتی ہیں کہ ہر ٹیم نے کس کام پر اے آئی استعمال کیا، اس پر کتنا خرچ آیا اور اس میں سے کتنا “ذاتی یا غیر متعلقہ” تھا۔ اینتھروپک نے یہ “اسمارٹ رپورٹس” بدھ 28 اکتوبر کو تمام انٹرپرائز صارفین کے لیے جاری کیں، اور غیر متعلقہ چیٹس گننے والے حصے کو فوراً دفتری نگرانی کی ایک نئی شکل کہہ کر تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔
ملازمین کے لیے مختصر جواب: آپ کا مینیجر ٹیم کے مجموعی اعداد اور خرچ دیکھتا ہے، آپ کے نام کے ساتھ آپ کی چیٹس نہیں، جب تک کمپنی ایک خاص سیٹنگ آن نہ کرے جو پہلے سے بند ہوتی ہے۔
اسمارٹ رپورٹ میں کیا ہوتا ہے
ایڈمن، یا وہ ٹیم لیڈ جسے کمپنی اجازت دے، ایک ٹیم، زیادہ سے زیادہ 28 دن کا عرصہ اور کلاڈ کی پروڈکٹس منتخب کرتا ہے۔ پھر کلاڈ اس ٹیم کی گفتگو کا ایک نمونہ پڑھ کر کام کو مختلف حصوں میں تقسیم کرتا ہے، ہر حصے کا خرچ، تیار ہونے والا کام اور عام رکاوٹیں بتاتا ہے، جیسے کوئی کنیکٹر موجود نہ ہونا یا کسی ٹول کا ناکام ہونا۔ ہر کمپنی مہینے میں 10 رپورٹس بغیر اضافی خرچ کے بنا سکتی ہے۔
جن سیشنز سے کوئی کارآمد نتیجہ نہیں نکلا، یا جنہیں کلاڈ نے ذاتی یا غیر متعلقہ قرار دیا، وہ “غیر مؤثر” خانے میں اپنے خرچ سمیت گنے جاتے ہیں۔ یہی حصہ سب کی توجہ کا مرکز بنا، کیونکہ کیا غیر متعلقہ ہے، اس کا فیصلہ انسان نہیں، مشین کرتی ہے۔
کیا چھپا رہتا ہے
اینتھروپک کے ہیلپ پیجز کئی پابندیاں بتاتے ہیں جو کمپنی کے مطابق بند نہیں کی جا سکتیں:
- غیر مؤثر سیشنز صرف تعداد اور خرچ کی صورت میں دکھتے ہیں، نہ خلاصہ، نہ کسی ایک سیشن کو کھولنے کا راستہ۔ ذاتی گفتگو بھی نام یا سیشن کی تفصیل کے بغیر ہوتی ہے۔
- صحت، حمل، دوا یا تھراپی، سیاسی یا مذہبی خیالات اور یونین سرگرمی (بشمول ساتھیوں کا تنخواہ یا کام کے حالات پر بات کرنا) کے بارے میں سوال نہیں پوچھے جا سکتے، اور ایسی گفتگو صرف مجموعی اعداد میں شامل ہوتی ہے۔
- انفرادی صارفین کے نام دکھانا پہلے سے بند ہوتا ہے۔ اگر کمپنی اسے آن کرے تب بھی نام عام لیبلز کے پیچھے رہتے ہیں جب تک کوئی کلک کر کے نہ کھولے، اور ہر بار نام کھولنے کا ریکارڈ رکھا جاتا ہے۔
اینتھروپک کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ رپورٹس اے آئی کے استعمال کو سمجھنے اور خرچ کی منصوبہ بندی کے لیے ہیں، کسی فرد کی کارکردگی جانچنے یا ملازمت سے متعلق فیصلوں کے لیے نہیں۔ لانچ پوسٹ میں منڈے، وکس اور ڈیلوئٹ جیسی کمپنیوں نے اس کی تعریف کی ہے۔
ہماری رائے
یہ حفاظتی اقدامات حقیقی ہیں اور بہت سے دفتری نگرانی والے سافٹ ویئر سے سخت ہیں، جن میں سے کچھ ہر کی اسٹروک ریکارڈ کرتے ہیں۔ لیکن دو باتیں واضح رہنی چاہئیں۔ پہلی، “کارکردگی جانچنے کے لیے استعمال نہ کریں” ایک پالیسی ہے، تکنیکی تالا نہیں: جب مینیجر دیکھے کہ ٹیم نے اے آئی بجٹ کا ایک حصہ غیر متعلقہ چیٹس پر خرچ کیا تو اس کا اثر اس کے رویے پر پڑ سکتا ہے۔ دوسری، کوئی ناکام سیشن محض تجربہ بھی ہو سکتا ہے، اور لوگ یہ ٹولز ایسے ہی سیکھتے ہیں۔
اسی لانچ میں ملازمین سے پوچھنے والے ان ایپ سروے اور ٹیموں کے لیے مشترکہ ماہانہ بجٹ بھی شامل ہیں۔ اصل خبر یہ ہے کہ کمپنیاں اب اے آئی کو بھی کسی دوسرے خرچ کی طرح ناپنے لگی ہیں۔
پاکستانی ملازمین اور فری لانسرز کے لیے مطلب
یہ سہولت صرف کلاڈ انٹرپرائز پر ہے، جو بڑی کمپنیاں خریدتی ہیں، اس لیے ذاتی کلاڈ اکاؤنٹس پر اس کا اثر نہیں۔ لیکن ملٹی نیشنل کمپنیوں، بینکوں اور آئی ٹی ایکسپورٹ فرموں میں کام کرنے والے پاکستانی یہ سمجھ کر چلیں کہ آجر مجموعی طور پر دیکھ سکتا ہے کہ ٹول کیسے استعمال ہو رہا ہے۔ آسان اصول: ذاتی باتیں، سی وی اور نوکری کی تلاش دفتری اکاؤنٹ پر نہ کریں، اور ایچ آر یا آئی ٹی سے پوچھ لیں کہ نام دکھانے کی سیٹنگ آن ہے یا نہیں۔ کلائنٹ کے اے آئی ورک اسپیس میں کام کرنے والے فری لانسرز بھی یہی احتیاط کریں۔



