اوپن اے آئی بمقابلہ اینتھروپک: 90 فیصد تک رعایت، بڑی کمپنیاں کلاڈ چھوڑ رہی ہیں
رپورٹس کے مطابق رپلنگ، ریپلٹ اور ڈیٹا کیمپ بھاری رعایت کے بعد کوڈنگ کا کام اوپن اے آئی پر لے گئیں۔ سستا اے آئی پاکستانی ڈویلپرز کے لیے بھی فائدہ مند ہو سکتا ہے۔

دی انفارمیشن کی رپورٹ کے مطابق، جس کا خلاصہ دی ڈیکوڈر نے اتوار 25 اکتوبر کو شائع کیا، اوپن اے آئی بھاری رعایتیں دے کر اینتھروپک کے بڑے کوڈنگ گاہک اپنی طرف کھینچ رہی ہے۔ کچھ کمپنیوں کا کہنا ہے کہ تبدیلی کے بعد ان کا اے آئی بل 80 سے 90 فیصد کم ہو گیا، تاہم یہ ان کے اپنے اندازے ہیں اور معاہدوں کی پوری شرائط سامنے نہیں آئیں۔
کون سی کمپنیاں اینتھروپک چھوڑ کر اوپن اے آئی پر گئیں؟
رپورٹس میں تین نام نمایاں ہیں:
- رپلنگ، ایچ آر اور تنخواہوں کا سافٹ ویئر بنانے والی کمپنی۔ سی ای او پارکر کونراڈ کے مطابق کمپنی کے کوڈنگ کام میں اوپن اے آئی کا حصہ 16 سے بڑھ کر 52 فیصد ہو گیا، جبکہ اینتھروپک کا حصہ 57 سے گر کر 18 فیصد رہ گیا۔
- ریپلٹ، براؤزر میں کوڈنگ کا پلیٹ فارم۔ رپورٹ کے مطابق اوپن اے آئی نے سالانہ 10 کروڑ ڈالر سے زیادہ کے معاہدے پر 30 فیصد سے زیادہ رعایت دی۔
- ڈیٹا کیمپ، آن لائن تعلیم کی کمپنی۔ سی ای او جوناتھن کورنیلیسن کے مطابق اوپن اے آئی کی قیمتوں سے ان کے اخراجات 80 سے 90 فیصد کم ہوئے۔
دی ڈیکوڈر نے ایک امریکی بینک کا بھی ذکر کیا جس نے بغیر اضافی خرچ کے چیٹ جی پی ٹی کی سیٹیں دگنی کر کے 500 ملازمین تک پہنچا دیں، اور فی صارف معمول کے 20 ڈالر یا زیادہ کے بجائے 7 ڈالر سے کم ادا کیے۔
ریپلٹ کا معاملہ تھوڑا الجھا ہوا ہے۔ دی ٹیک بز کے مطابق سی ای او امجد مسعد نے اکتوبر کے وسط میں ٹیک کرنچ ڈسرپٹ میں کہا کہ کمپنی کئی ماہ سے اینتھروپک کے ساتھ کام نہیں کر رہی، اور کئی وجوہات میں قیمت کو بھی ایک وجہ بتایا۔ مگر جب ریپلٹ نے اگست میں اوپن اے آئی کے ساتھ شراکت کا اعلان کیا تھا تو اسے توسیع کہا تھا اور کلاڈ چھوڑنے کی کوئی بات نہیں کی تھی۔
اوپن اے آئی کلاڈ سے سستا کیسے دے پا رہی ہے؟
ایک وجہ سیدھی سیدھی مارکیٹ خریدنا ہے: دی ڈیکوڈر کے مطابق اوپن اے آئی گاہک جیتنے کے لیے کم منافع قبول کر رہی ہے۔ دوسری وجہ سستے ماڈل اور انفراسٹرکچر ہیں۔
معاہدوں کی شرائط بھی اہم ہیں۔ ستمبر میں دی انفارمیشن نے رپورٹ کیا تھا کہ معاہدے کے ٹوکن ختم ہوتے ہی اینتھروپک رعایت بند کر دیتی ہے، اور سافٹ ویئر خریداروں کے مطابق یہ رعایت تقریباً 15 فیصد ہوتی ہے۔ اس کے برعکس اوپن اے آئی مہینے کے باقی دن اور ایک اضافی مہینہ دیتی ہے تاکہ نیا معاہدہ ہو سکے۔ کوڈ ریبٹ کے سی ای او ہرجوت گِل نے بتایا کہ اب اوپن اے آئی ان کی کمپنی کا مرکزی اے آئی سپلائر ہے۔
اینتھروپک نے ان رپورٹس پر عوامی طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا، اور معاہدوں کے اعداد گاہکوں اور مشیروں سے آئے ہیں، کسی کمپنی سے نہیں۔
پاکستان کے لیے اس کا کیا مطلب ہے؟
پاکستانی ڈویلپرز، فری لانسرز اور اسٹارٹ اپس زیادہ تر اے پی آئی کی عام قیمت ادا کرتے ہیں، کروڑوں ڈالر کے کارپوریٹ معاہدے نہیں کرتے، اس لیے یہ رعایتیں براہِ راست ان تک نہیں پہنچیں گی۔ مگر اصل قیمتوں کی جنگ عام قیمتیں بھی نیچے لاتی ہے۔ دی نیکسٹ ویب کے مطابق دونوں کمپنیاں حال ہی میں قیمتیں کم کر چکی ہیں: اینتھروپک نے سستا اوپس ماڈل دیا اور اوپن اے آئی نے جی پی ٹی 6 کی قیمت آدھی کر دی۔
لاہور یا پشاور میں بیٹھ کر ڈالر میں کلائنٹ کے لیے چیٹ بوٹ بنانے والے کے لیے سستا اے پی آئی ہر پراجیکٹ کا منافع بڑھاتا ہے۔ رپلنگ اور ریپلٹ سے عملی سبق یہ ہے کہ اپنی پروڈکٹ کو ایک ماڈل سے باندھ کر نہ رکھیں: ایسا کوڈ لکھیں جو کمپنی بدل سکے، تاکہ اگلے مہینے جو سودا بہتر ہو وہ لے سکیں۔
آگے کیا دیکھنا ہے؟
رپورٹس کے مطابق اینتھروپک اسٹاک مارکیٹ میں آنے کی تیاری کر رہی ہے، اور سرمایہ کار دیکھیں گے کہ وہ جواب میں قیمتیں کم کرتی ہے یا کوڈنگ میں کلاڈ کے معیار پر بھروسہ کرتی ہے۔ ڈیپ سیک اور کیمی جیسے چینی ماڈلز بہت کم قیمت پر نیچے سے دباؤ بڑھا رہے ہیں۔
ذرائع
یہ خبر اے آئی کی مدد سے تحقیق اور تحریر کی گئی، پھر شائع کرنے سے پہلے ہمارے ایڈیٹر نے اس کی جانچ اور تدوین کی۔



