ایلوس پریسلی کے گانوں کے مالکان نے اینتھروپک پر مقدمہ کر دیا: 274 گانے، کلاڈ کی ٹریننگ

ایلوس پریسلی کے گانوں کی مالک کمپنیوں نے اینتھروپک پر کاپی رائٹ مقدمہ کیا ہے، فی گانا ڈیڑھ لاکھ ڈالر یعنی کل تقریباً 4 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کا مطالبہ۔

Elvis Presley in a black leather jacket playing guitar on stage
تصویر: Rolling Stone (via Yahoo)

ایلوس پریسلی کی موسیقی کے حقوق رکھنے والی کمپنیوں نے کلاڈ چیٹ بوٹ بنانے والی کمپنی اینتھروپک پر مقدمہ دائر کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اینتھروپک نے ان کے 274 گانے اجازت کے بغیر اپنے اے آئی کی ٹریننگ میں استعمال کیے۔ رولنگ اسٹون کے مطابق جمعہ 23 اکتوبر کو دائر اس مقدمے میں فی گانا زیادہ سے زیادہ ڈیڑھ لاکھ ڈالر، یعنی کل تقریباً 4 کروڑ 10 لاکھ ڈالر مانگے گئے ہیں۔

مقدمے کی مرکزی مدعی آتھینٹک برینڈز گروپ کی ایک کمپنی ہے جو ایلوس کے گانوں کے بڑے حصے اور ان کے نام اور تصویر کے حقوق کی مالک ہے۔ عدالتی مقدمات پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ کے مطابق کیس کا نام “اے بی ای ای پی ای ایل ایل سی بنام اینتھروپک” ہے۔

مقدمے میں کلاڈ کے بارے میں کیا کہا گیا ہے؟

شکایت صرف یہ نہیں کہتی کہ گانے ٹریننگ ڈیٹا میں ڈالے گئے۔ اس کا کہنا ہے کہ جب کلاڈ سے “آل شُک اپ”، “کانٹ ہیلپ فالنگ اِن لو” اور “ڈونٹ بی کرول” جیسے مشہور گانے “آج کے سامعین کے لیے” دوبارہ بنانے کو کہا گیا تو اس نے اصل سے بہت ملتے جلتے ورژن بنا دیے، حالانکہ اینتھروپک نے حفاظتی پابندیاں لگا رکھی ہیں۔

رولنگ اسٹون کے مطابق مقدمے میں خود کلاڈ کا یہ جملہ بھی نقل کیا گیا ہے کہ اس کے ورژن “بار بار اصل کے بہت قریب پہنچ جاتے ہیں”۔ مدعیوں نے انہیں بغیر لائسنس کے نقلی کام قرار دیا ہے۔

ان کے وکیل رچرڈ بش نے لکھا کہ اینتھروپک نے اپنا “پورا کاروباری ماڈل اتنے بڑے پیمانے کی کاپی رائٹ خلاف ورزی پر کھڑا کیا ہے جو پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی”۔ رچرڈ بش وہی وکیل ہیں جنہوں نے مارون گے کے خاندان کی طرف سے “بلرڈ لائنز” کا مشہور مقدمہ جیتا تھا۔

اس خبر کے لکھے جانے تک اینتھروپک نے اس مقدمے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا تھا۔

اینتھروپک پر موسیقی کے کئی مقدمات

یہ اکیلا کیس نہیں۔ اسی ٹریکر کے مطابق بش کی فرم ایڈمز اینڈ ریز کا اس سال اے آئی کے خلاف موسیقی کا یہ آٹھواں مقدمہ ہے، اور اے آئی کمپنیوں کے خلاف کاپی رائٹ کے کل 157 مقدمات چل رہے ہیں۔

یونیورسل میوزک، کونکورڈ اور ابکو نے 2023 میں گانوں کے بولوں پر اینتھروپک کے خلاف مقدمہ کیا تھا جو اب بھی جاری ہے۔ الجزیرہ کے مطابق اگست میں سونی اور وارنر کی پبلشنگ کمپنیوں نے بھی بیٹلز سے ٹیلر سوئفٹ تک کے گانوں کے بول اور نوٹس ڈاؤن لوڈ کرنے کا الزام لگا کر مقدمہ کیا۔ اینتھروپک نے اس کے جواب میں کہا تھا کہ اے آئی کی ٹریننگ “فیئر یوز” یعنی جائز استعمال ہے اور وہ بھرپور دفاع کرے گی۔

کمپنی پہلے بھی ادائیگی کر چکی ہے: 2025 میں اس نے کتابوں کے مصنفین کے ساتھ ڈیڑھ ارب ڈالر میں تصفیہ کیا تھا، جو اے آئی کاپی رائٹ کا پہلا بڑا تصفیہ تھا۔

ہماری رائے

اس مقدمے کی خاص بات یہ ہے کہ یہ کسی ریکارڈ لیبل کی بجائے موسیقی کی دنیا کی سب سے قیمتی میراثوں میں سے ایک کی طرف سے آیا ہے۔ ایلوس کے گانے دنیا میں سب سے زیادہ لائسنس ہونے والے گانوں میں شامل ہیں، اس لیے اگر عدالت یہ طے کرتی ہے کہ ٹریننگ جائز استعمال ہے یا نہیں، اور چیٹ بوٹ کے بنائے “نئے ورژن” نقل ہیں یا نہیں، تو اس کا اثر صرف ایک کیٹلاگ تک محدود نہیں رہے گا۔

وقت بھی اہم ہے۔ روئٹرز سمیت کئی اداروں کی رپورٹس کے مطابق اینتھروپک اسٹاک مارکیٹ میں آنے کی تیاری کر رہی ہے، اور کاپی رائٹ مقدمات کا ڈھیر وہ خطرہ ہے جس کے بارے میں سرمایہ کار سب سے پہلے پڑھتے ہیں۔ کمپنی نے ابھی کسی آئی پی او فائلنگ کی تصدیق نہیں کی۔

پاکستان کے لیے اس کا مطلب

پاکستانی موسیقاروں کے لیے سوال سیدھا ہے: جب اے آئی آپ کے کام سے سیکھے تو پیسے کون دے گا؟ کوک اسٹوڈیو سے لے کر نورجہاں کی پرانی ریکارڈنگز تک پاکستانی موسیقی آن لائن بہت سنی جاتی ہے، مگر یہاں کے فنکاروں یا لیبلز کے پاس کسی امریکی ٹیک کمپنی پر مقدمہ کرنے کے وسائل نہیں۔ ایسے بڑے مقدمات ہی وہ اصول طے کریں گے جن پر باقی سب کو چلنا ہوگا۔

جو لوگ اے آئی سے گانے لکھواتے ہیں ان کے لیے بھی بات واضح ہے: کسی مشہور گانے کی دھن یا مکھڑا چیٹ بوٹ سے بدلوانا بھی نقل ہی ہے، بٹن کسی نے بھی دبایا ہو۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اینتھروپک عدالت میں باقاعدہ جواب کیا دیتی ہے۔

ذرائع

  1. Rolling Stone (via Yahoo): Elvis Presley rightsholders sue Anthropic for training on 274 songs without permission
  2. ChatGPT Is Eating the World: Copyright owners to Elvis songs sue Anthropic
  3. Al Jazeera: Sony, Warner Music sue Anthropic, saying it pirated songs to train its AI

یہ خبر اے آئی کی مدد سے تحقیق اور تحریر کی گئی، پھر شائع کرنے سے پہلے ہمارے ایڈیٹر نے اس کی جانچ اور تدوین کی۔

مزید پڑھیں