سری لنکا کے خلاف پاکستان ٹیسٹ اسکواڈ: سلمان آغا کی واپسی، 3 نئے بلے باز، رضوان باہر
سری لنکا کے خلاف نومبر کی ٹیسٹ سیریز کے لیے پاکستان کا 14 رکنی اسکواڈ: بابر اعظم کپتان برقرار، سلمان آغا کی واپسی اور تین نئے بلے باز شامل۔

پاکستانی سلیکٹرز نے سری لنکا کے خلاف ہوم ٹیسٹ سیریز کے لیے 14 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا ہے۔ سلمان علی آغا کی واپسی ہوئی ہے، تین ایسے بلے باز منتخب ہوئے ہیں جنہوں نے ابھی تک ٹیسٹ نہیں کھیلا، جبکہ محمد رضوان، شان مسعود، امام الحق اور صائم ایوب اسکواڈ کا حصہ نہیں۔ انگلینڈ میں 0-3 کی شکست کے باوجود بابر اعظم کپتان برقرار ہیں۔
ڈان اور اے ایف پی کے مطابق اسکواڈ کا اعلان ہفتہ 24 اکتوبر کو کیا گیا۔ پہلا ٹیسٹ 9 سے 13 نومبر تک راولپنڈی میں اور دوسرا 17 سے 21 نومبر تک لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں ہوگا۔ دونوں میچ ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کا حصہ ہیں۔
سری لنکا کے خلاف پاکستان ٹیسٹ اسکواڈ
بابر اعظم (کپتان)، عبداللہ فضل، علی عثمان، عرفات منہاس، اذان اویس، محمد عباس، غازی غوری (وکٹ کیپر)، محمد سلیمان، محمد طہٰ، رضا اللہ، سعد بیگ (وکٹ کیپر)، سلمان علی آغا، سمیر منہاس اور سعود شکیل۔
تین نئے بلے باز کون ہیں؟
تینوں نے پریذیڈنٹ ٹرافی گریڈ ون میں کارکردگی کی بنیاد پر جگہ بنائی ہے، جو ملک کا سب سے بڑا فرسٹ کلاس ٹورنامنٹ ہے۔
- محمد طہٰ آل راؤنڈر ہیں اور سات میچوں میں 730 رنز کے ساتھ ٹورنامنٹ کے سب سے کامیاب بلے باز ہیں۔
- محمد سلیمان 652 رنز کے ساتھ فہرست میں پانچویں نمبر پر ہیں۔
- سمیر منہاس پاکستان انڈر 19 کی نمائندگی کر چکے ہیں اور اپنے پہلے ہی فرسٹ کلاس سیزن میں سات میچوں میں 405 رنز بنا چکے ہیں۔
ڈان کے مطابق وکٹ کیپر سعد بیگ کا ٹیسٹ ڈیبیو بھی متوقع ہے۔ وہ 4 سے 6 نومبر تک اسلام آباد میں سری لنکا کے خلاف تین روزہ وارم اپ میچ میں پی سی بی پیٹرنز الیون کی قیادت کریں گے۔
سلمان آغا کی واپسی کیوں ہوئی اور رضوان کیوں نہیں؟
سلمان آغا اور اسپنر علی عثمان ان سات کھلاڑیوں میں شامل تھے جنہیں اگست میں انگلینڈ کے خلاف تیسرے ٹیسٹ سے پہلے وطن واپس بھیج دیا گیا تھا۔ آغا نے راولپنڈی میں جاری سہ ملکی ون ڈے سیریز میں سری لنکا کے خلاف میچ جتوانے والی سنچری بنا کر واپسی کا راستہ بنایا۔
رضوان کا معاملہ مختلف ہے۔ اے ایف پی کے مطابق ان کے خلاف نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کی تحقیقات جاری ہیں۔ ڈان کے مطابق انگلینڈ کے دورے کے بعد این سی سی آئی اے نے رضوان اور امام الحق سے مبینہ جوئے اور بیٹنگ کے بارے میں پوچھ گچھ کی تھی، تاہم پی سی بی نے بعد میں دونوں کو ڈومیسٹک فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلنے کی اجازت دے دی۔ دونوں پر کوئی الزام عائد نہیں ہوا، اور شان مسعود یا صائم ایوب کو باہر رکھنے کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی۔
ہماری رائے
یہ واضح طور پر نئی شروعات ہے۔ 14 میں سے کئی کھلاڑی ٹیسٹ کرکٹ میں نئے ہیں، اور سلیکٹرز نے ناموں کی بجائے ڈومیسٹک کارکردگی کو ترجیح دی ہے۔ انگلینڈ میں ہر ٹیسٹ میں مات کھانے کے بعد یہی درست پیغام ہے۔
خطرہ بیٹنگ کی گہرائی کا ہے۔ شان، امام اور صائم کے بغیر بابر اعظم اور سعود شکیل کو ایک بہت نوجوان بیٹنگ لائن کا بوجھ اٹھانا ہوگا۔ بولنگ زیادہ مستحکم لگتی ہے، جس کی قیادت تجربہ کار محمد عباس کریں گے اور عرفات منہاس سہ ملکی سیریز میں انگلینڈ کے خلاف چھ وکٹیں لے کر آ رہے ہیں۔
اے ایف پی کے مطابق ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں پاکستان نویں اور آخری جبکہ سری لنکا ساتویں نمبر پر ہے، اس لیے ہوم سیریز میں فتح بہت ضروری ہے۔ نئے کھلاڑیوں کی پہلی جھلک پیٹرنز الیون کے وارم اپ میچ میں دیکھیں۔
ذرائع
یہ خبر اے آئی کی مدد سے تحقیق اور تحریر کی گئی، پھر شائع کرنے سے پہلے ہمارے ایڈیٹر نے اس کی جانچ اور تدوین کی۔



