ڈیپ سیک سپر ایجنٹ: چین کا مفت کوڈنگ ایجنٹ جو خود ہی بگ ٹھیک کرتا ہے
ڈیپ سیک کا مفت کوڈنگ ایجنٹ سپر ایجنٹ ڈویلپرز کی چیٹ اور گٹ ہب پر نظر رکھ کر خود بگ ٹھیک کرتا ہے۔ یہ کیا ہے اور پاکستانی پروگرامرز کے لیے کیا معنی رکھتا ہے۔

چینی اے آئی کمپنی ڈیپ سیک نے “سپر ایجنٹ” کے نام سے ایک تجرباتی کوڈنگ ایجنٹ جاری کیا ہے جو ٹیم کے گٹ ہب اور چیٹ چینلز میں بیٹھا رہتا ہے، بگز اور درخواستیں خود اٹھاتا ہے اور کسی کے حکم کا انتظار کیے بغیر ان پر کام شروع کر دیتا ہے۔ کمپنی کی ہارنیس ٹیم نے ہفتہ 31 اکتوبر کو وی چیٹ پر اس کا اعلان کیا اور اس کا کوڈ ایم آئی ٹی لائسنس کے تحت گٹ ہب پر رکھ دیا، یعنی کوئی بھی اسے مفت ڈاؤن لوڈ کر کے استعمال اور تبدیل کر سکتا ہے۔
اسے اینتھروپک کے کلاڈ کوڈ اور دوسرے مہنگے کوڈنگ ایجنٹس کا جواب سمجھا جا رہا ہے جو اس سال سافٹ ویئر کے بہت سے کام سنبھال چکے ہیں۔
سپر ایجنٹ کرتا کیا ہے
زیادہ تر کوڈنگ اسسٹنٹ آپ کے سوال کا انتظار کرتے ہیں، سپر ایجنٹ نظر رکھتا ہے۔ منصوبے کی اپنی دستاویزات کے مطابق یہ ایک گٹ ہب ریپوزٹری اور چاہیں تو ٹیم کی فیشو چیٹ (ایک چینی دفتری ایپ) پر نظر رکھتا ہے۔ جب کوئی مجاز شخص کچھ مانگے یا ٹیم کے طے کردہ اصول کے مطابق کوئی صورتحال بنے تو یہ ایک کام کھولتا ہے اور اسے اپنے الگ سیشن اور فولڈر میں انجام دیتا ہے۔
اس کے دو حصے ہیں۔ ایک “راؤٹر” فیصلہ کرتا ہے کہ کون سا کام لینا ہے، پھر الگ الگ “ورکرز” کام کرتے ہیں: بگ دوبارہ پیدا کر کے دیکھنا، اس کا حل لکھنا، کوڈ ریویو کے تبصروں کا جواب دینا۔ نتیجہ اسی گفتگو میں واپس آتا ہے، اکثر ایک پُل ریکویسٹ کی شکل میں جسے انسان منظور کرتا ہے۔ ایک ویب پینل ان چیزوں کی فہرست دکھاتا ہے جن پر انسان کا فیصلہ چاہیے۔
ڈیپ سیک کا مقصد سیدھا ہے: ڈویلپر کی توجہ کم سے کم لے اور کام زیادہ سے زیادہ کرے۔
یہ کتنا اچھا ہے؟
ڈیپ سیک کا کہنا ہے کہ اس کا اندرونی ورژن کمپنی کے روزانہ تحقیقی کام میں پہلے سے استعمال ہو رہا ہے، جیسے مسائل کی جانچ اور کوڈ ریویو کے جواب۔ کمپنی نے ابتدائی تجربات میں کام عام طریقے سے تیز مکمل ہونے کا دعویٰ کیا ہے، مگر یہ کمپنی کے اپنے اعداد ہیں جن کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی۔
کمپنی اس کی حدود کے بارے میں بھی صاف گو ہے۔ گٹ ہب صفحے پر لکھا ہے کہ یہ تحقیقی پروٹوٹائپ ہے، “سرکاری پروڈکٹ نہیں”، اس کا بہت سا کوڈ خود کوڈنگ ایجنٹس نے لکھا ہے اور اس میں بگز ہو سکتے ہیں، یہ ابھی اصل استعمال کے لیے تیار نہیں، اور عوامی ورژن کمپنی کے اندرونی ورژن سے مختلف ہے۔
یہ ڈیپ سیک ہارنیس پر چلتا ہے، وہ اوپن ایجنٹ ٹول کٹ جو کمپنی نے اگست میں جاری کی تھی اور جسے ڈیپ سیک خود تجرباتی سافٹ ویئر کہتی ہے جس کا سیکیورٹی آڈٹ نہیں ہوا۔
یہ کیوں اہم ہے
اے آئی کی دوڑ اب چیٹ بوٹس سے آگے بڑھ کر ایسے ایجنٹس تک آ گئی ہے جو کام خود کرتے ہیں، اور سب سے زیادہ پیسہ کوڈنگ میں ہے۔ امریکی کمپنیاں یہ ٹولز ماہانہ فیس پر بیچتی ہیں۔ ایک چینی لیب کا ایسے ایجنٹ کا خاکہ مفت دے دینا ان پر قیمت کم کرنے کا دباؤ ڈالتا ہے، بالکل جیسے پچھلے سال ڈیپ سیک کے سستے ماڈلز نے کیا تھا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈیپ سیک اسٹاک مارکیٹ میں آنے سے پہلے تقریباً 15 ارب ڈالر جمع کر رہی ہے۔
پاکستان کے لیے اس کا مطلب
پاکستان کے فری لانسرز اور سافٹ ویئر ہاؤسز کی روزی بالکل اسی قسم کے کام پر ہے جو یہ ایجنٹس اب خود کرنے لگے ہیں: بگ فکس، چھوٹے فیچرز، کوڈ ریویو۔ ایک مفت اوپن ٹول جو کوئی بھی ٹیم اپنے سرور پر چلا سکے، ڈالر میں ماہانہ فیس دیے بغیر ایجنٹس آزمانے کا خرچ کم کر دیتا ہے۔ مگر اس سے معیار بھی اونچا ہو جاتا ہے: کلائنٹس ایسے ڈویلپرز چاہیں گے جو صرف کوڈ لکھنا نہیں، ایجنٹ کے کام کو سنبھالنا بھی جانتے ہوں۔
آج اسے آزمانے والوں کے لیے ایک احتیاط: جو ایجنٹ خود پُل ریکویسٹ کھول سکتا ہو اسے اجازتیں سوچ سمجھ کر دیں۔ ڈیپ سیک خود کہتی ہے کہ اس کا سینڈ باکس مکمل علیحدگی کی ضمانت نہیں دیتا، اس لیے پہلے کسی آزمائشی ریپوزٹری پر چلائیں، کلائنٹ کے اصل کوڈ پر نہیں۔
فی الحال سپر ایجنٹ صرف گٹ ہب اور فیشو کے ساتھ کام کرتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ڈیپ سیک اس میں سلیک یا دوسرے ٹولز شامل کرتی ہے یا اسے باقاعدہ پروڈکٹ بناتی ہے۔



