اے آئی ایجنٹ نے چوہے کے دماغ میں دوا خود لگائی، پھر آگے بڑھنے سے انکار کر دیا

ایک اسٹارٹ اپ نے کلاڈ سونیٹ 5 کو زندہ چوہے کے دماغ کے لیے جین تھراپی چننے اور انجیکشن لگانے دیا، ویٹرنری ڈاکٹر ایمرجنسی بٹن پر تھا۔ ہوا کیا؟

A white laboratory mouse on food pellets in a cage
تصویر: Rama, Wikimedia Commons (CC BY-SA 2.0 fr)

اینتھروپک کے ماڈل کلاڈ سونیٹ 5 پر چلنے والے ایک اے آئی ایجنٹ نے مرگی کے شکار ایک چوہے کے لیے جین تھراپی چنی، طے کیا کہ دماغ کے کس حصے میں لگانی ہے، اور پھر روبوٹک سوئی کے ذریعے زندہ جانور کو انجیکشن لگا دیا۔ یہ تجربہ ایک چھوٹی بائیوٹیک کمپنی ایگزن تھیراپیوٹکس نے کیا، جس کے شریک بانی اور سی ای او گیبریل اوکانیا سانتیرو، جو آکسفورڈ یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کے طالب علم بھی ہیں، نے اکتوبر کے آخری ہفتے میں ایکس پر اس کی تفصیل بتائی۔

یہ حقیقی تجربہ ہے، اے آئی کے “بے قابو” ہونے کی کہانی نہیں۔ مگر یہ کمپنی کا اپنا بیان ہے، ایک چوہے پر ایک تجربہ، اور ابھی کسی سائنسی جریدے میں جانچا نہیں گیا۔ دونوں باتیں ذہن میں رکھیں۔

اے آئی نے کیا کیا، انسانوں نے کیا کیا

ٹیم نے ایجنٹ کو ایک ہی ہدف دیا: چوہے کے دورے کم کرو۔ اس کے پاس 19 ممکنہ جین تھراپیز کی فہرست، مرگی کا ماؤس ماڈل اور کیمروں والی ایک خاص موٹر سے چلنے والی سرجیکل مشین تھی۔

اوکانیا سانتیرو کے مطابق ایجنٹ نے:

  • ایسی تھراپی چنی جو دماغ کے “سکون دینے والے” سگنل کے نظام کو مضبوط کرتی ہے؛
  • دماغ کا وہ حصہ چنا جسے تحقیقی مقالے اس قسم کے دوروں کا نقطہ آغاز بتاتے ہیں، اور دوسرا آپشن رد کر دیا؛
  • انجیکشن کی جگہ کے نقاط تین شائع شدہ مقالوں سے لیے، آپس میں ملائے اور ان کا اوسط نکالا؛
  • دوا کی مقدار، رفتار اور انتظار کا وقت طے کیا، اور عمل کے دوران 32 مشاہدات درج کیے، جیسے “15 فیصد” انجیکٹ ہو گیا اور کوئی خون نظر نہیں آیا۔

خطرناک کام انسانوں کے ہاتھ میں رہے۔ ایک لائسنس یافتہ ویٹرنری ڈاکٹر نے ہر ناقابل واپسی قدم کی منظوری دی اور ہاتھ میں ایمرجنسی اسٹاپ رکھا۔ کھوپڑی ایک انسانی سرجن نے کھولی، کیونکہ ایجنٹ کو اس کی اجازت نہیں۔ مشین میں کچھ سخت حدیں تھیں، جیسے انجیکشن کی زیادہ سے زیادہ مقدار، جنہیں ایجنٹ بدل نہیں سکتا تھا۔

جب اس نے انکار کیا

آدھے راستے میں کنکشن ٹوٹ گیا۔ بحال ہونے پر ایجنٹ نے حساب لگایا کہ اس کا ہدف مشین کی پہنچ سے باہر ہے، اور آگے بڑھنے سے انکار کر دیا۔ دوبارہ کیلیبریشن اور تیسری کوشش کے بعد بھی وہ نہیں مانا۔ اوکانیا سانتیرو اسے قائل نہ کر سکے اور انہیں خود کوڈ ٹھیک کرنا پڑا۔

ایجنٹ درست تھا: پہلے ایک وقفے میں ہاتھ سے کی گئی تبدیلیوں نے نقاط کا نظام بگاڑ دیا تھا۔ تقریباً 45 منٹ کا آپریشن ایک گھنٹے سے کچھ زیادہ چلا۔ اوکانیا سانتیرو نے کہا کہ یہ تجربہ مایوس کن تھا مگر اس نے یہ بھی دکھایا کہ ہم ان ماڈلز پر کتنا انحصار کرنے لگ سکتے ہیں۔

کلاڈ کے دو بڑے ماڈلز نے زندہ جانور پر یہ عمل کرنے سے ہی انکار کر دیا۔ کلاڈ اوپس 5 نے کہا کہ وہ مکمل کرنے کی ضمانت نہیں دے سکتا اور درمیان میں رکنا شروع نہ کرنے سے بدتر ہو گا؛ تجربے کی تفصیلات کے مطابق اوپس 5.5 نے بھی دماغ میں سوئی لے جانے سے انکار کیا۔ صرف سونیٹ 5 شروع سے آخر تک کرنے پر راضی ہوا۔ اینتھروپک نے اس پر کوئی عوامی تبصرہ نہیں کیا۔

اوکانیا سانتیرو کے مطابق چوہا ٹھیک ہو گیا۔ تھراپی سے دورے واقعی کم ہوئے یا نہیں، یہ ابھی دیکھا جا رہا ہے اور تکنیکی رپورٹ کا وعدہ کیا گیا ہے۔

ہماری رائے: حقیقت کیا، مبالغہ کیا

حقیقت یہ ہے کہ ایک اے آئی سسٹم نے سائنسی مقالوں سے علاج، جگہ اور مقدار چن کر نگرانی میں زندہ جانور تک پہنچا دی۔ اوکانیا سانتیرو کے مطابق انہیں اس سے پہلے کی کوئی مثال معلوم نہیں۔ لیبارٹری آٹومیشن کے لیے یہ اصل پیش رفت ہے، جہاں دوا کی دریافت سست اور مہنگی ہے۔

مبالغہ یہ ہے کہ یہ ایک چوہا تھا، جس کے گرد ویٹرنری ڈاکٹر، سرجن اور پہلے سے طے شدہ حفاظتی حدیں تھیں۔ کوئی چیٹ بوٹ انسانوں کا آپریشن نہیں کر رہا۔ “اے آئی برین سرجری” والی سرخیاں یہ نہیں بتاتیں کہ نشتر اور اسٹاپ بٹن کس کے ہاتھ میں تھا۔

سب سے دلچسپ بات انکار ہے۔ جو ایجنٹ حساب غلط ہونے پر رک جائے، حفاظتی محققین یہی چاہتے ہیں، مگر اس سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ جب لوگ مشین پر انحصار کرنے لگیں تو اسے روکنا یا منانا کتنا مشکل ہو سکتا ہے۔

پاکستان کے لیے مطلب

بائیولوجی، فارمیسی اور کمپیوٹر سائنس کے پاکستانی طلبہ کے لیے سبق یہ ہے کہ اگلی نوکریاں درمیان میں ہیں: ایسے لوگ جو لیب کا کام بھی سمجھیں اور اے آئی ایجنٹس پر حدیں لگانا بھی جانیں۔ کم بجٹ والی ہماری تحقیقی لیبز کو مقالے پڑھنے اور تجربات کی منصوبہ بندی کرنے والے ٹولز سے سب سے زیادہ فائدہ ہو سکتا ہے، مگر انہیں بھی وہی چاہیے جو ایگزن کے پاس تھا: واضح اصول کہ اے آئی کس چیز کو چھو سکتا ہے اور کس کو نہیں۔ اب نظر تکنیکی رپورٹ اور اس نتیجے کو کسی آزاد ٹیم کے دہرانے پر ہے۔

مزید پڑھیں