سعودی عرب پر حوثی حملے: ریاض، دمام ایئرپورٹس اور ریفائنریز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
حوثیوں کا کہنا ہے کہ جمعرات کو چھ سعودی اہداف پر میزائل اور ڈرون داغے گئے۔ سعودی عرب کے مطابق ریاض کی طرف آنے والے میزائل گرا دیے گئے۔ پاکستانیوں کے لیے کیا مطلب ہے؟

یمن کی حوثی تحریک کا کہنا ہے کہ اس نے جمعرات 29 اکتوبر کو سعودی عرب پر چھ میزائل اور ڈرون حملے کیے، جن کا نشانہ دو بین الاقوامی ہوائی اڈے، تین آئل ریفائنریز اور ایک فوجی ہیڈکوارٹر تھے۔ سعودی قیادت والے اتحاد کے مطابق اس کے فضائی دفاع نے ریاض اور مشرقی صوبے کی طرف آنے والے بیلسٹک میزائل گرا دیے۔ سعودی عرب نے کسی نقصان کی تصدیق نہیں کی۔
یہ اس ہفتے مکہ اور مدینہ کو حوثی دھمکی پر ہماری خبر کے بعد کی صورتحال ہے۔ نیا یہ ہے کہ اس بار ہوائی اڈوں کے ساتھ تیل کی تنصیبات کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
حوثیوں نے کن جگہوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا؟
حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع کے مطابق:
- کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ، ریاض: کئی بیلسٹک میزائل
- کنگ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ، دمام: ایک ڈرون، جس سے گروپ کے مطابق فضائی ٹریفک متاثر ہوئی
- راس تنورہ ریفائنری اور مشرقی صوبے میں آرامکو کی ابقیق تنصیب: بیلسٹک میزائل
- بحیرہ احمر کے ساحل پر رابغ ریفائنری: ایک بیلسٹک میزائل
- نجران میں سعودی فورسز کا ہیڈکوارٹر: گروپ نے جانی نقصان کا دعویٰ کیا، جس کی کسی اور نے تصدیق نہیں کی
سریع کے مطابق یہ حملے یمن میں حوثیوں کے علاقوں پر حالیہ سعودی فضائی حملوں کا بدلہ تھے، جن میں گروپ کے بقول 27 افراد مارے گئے۔
سعودی عرب کیا کہتا ہے؟
اتحاد کے مطابق جمعرات کو پہلے تین بیلسٹک میزائل گرائے گئے، دو ریاض اور ایک مشرقی صوبے کی طرف، اور شام کو ریاض کی طرف آنے والے مزید دو میزائل۔ ریفائنریز یا دمام میں کسی نقصان پر کوئی بیان نہیں آیا۔ جب تک سعودی حکام مزید نہ بتائیں، حوثیوں کی فہرست کو دعویٰ ہی سمجھا جائے۔
پاکستانیوں کے لیے یہ کیوں اہم ہے
بیرون ملک پاکستانی کارکنوں کی سب سے بڑی تعداد سعودی عرب میں ہے اور ریاض اور دمام دونوں کے لیے پاکستانی شہروں سے روزانہ پروازیں جاتی ہیں۔ خطرہ حقیقی ہے: دفتر خارجہ نے اس ماہ بتایا تھا کہ 10 اکتوبر کے قریب ریاض ایئرپورٹ پر حوثی حملے میں ایک پاکستانی جاں بحق اور کئی زخمی ہوئے تھے۔ سعودی حکام کے مطابق اس حملے میں 12 افراد مارے گئے تھے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کا ذکر کیا تھا، اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا تھا کہ پاکستان سعودی حکام سے رابطے میں ہے۔
اگر آپ یا آپ کے گھر والے آنے والے دنوں میں ریاض یا دمام آ جا رہے ہیں:
- گھر سے نکلنے سے پہلے ایئرلائن سے پرواز کی صورتحال معلوم کریں۔
- ریاض میں پاکستانی سفارت خانے یا جدہ قونصل خانے کے سرکاری رابطہ نمبر فون میں محفوظ رکھیں۔
- سائرن بجیں تو سعودی سول ڈیفنس کی ہدایات پر عمل کریں اور حملوں کی غیر تصدیق شدہ ویڈیوز آگے نہ بھیجیں، اکثر وہ پرانی نکلتی ہیں۔
آگے کیا
یہ حملے اسی ہفتے ہوئے جب تہران میں سعودی اور ایرانی حکام کے درمیان غیر معمولی اعلیٰ سطح کی بات چیت ہوئی تھی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ سعودی عرب یمن میں مزید فضائی حملے کرتا ہے یا نہیں، اور پاکستان کوئی نیا بیان جاری کرتا ہے یا نہیں۔



