ہرمیت ڈھلن کا محکمہ انصاف کے شہری حقوق ڈویژن کی سربراہی سے استعفیٰ
ہرمیت ڈھلن نے امریکی محکمہ انصاف کے شہری حقوق ڈویژن کی سربراہی سے استعفیٰ دے دیا، وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی جیت کے بعد پہلی اعلیٰ افسر جو گئیں۔

ہرمیت ڈھلن نے امریکی محکمہ انصاف کے شہری حقوق ڈویژن کی سربراہی سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ انہوں نے جمعرات 5 نومبر کو ایکس پر اس کا اعلان کیا اور اس ذمہ داری کو “زندگی کا اعزاز” قرار دیا۔ اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانچے نے استعفیٰ قبول کر لیا اور گزشتہ 18 ماہ “پختہ یقین کے ساتھ” ڈویژن چلانے پر ان کی تعریف کی۔
اس ہفتے ڈیموکریٹس کے کانگریس کے دونوں ایوان جیتنے کے بعد وہ محکمہ انصاف کی پہلی اعلیٰ افسر ہیں جو رخصت ہو رہی ہیں، اگرچہ انہوں نے اپنے ساتھیوں کو پہلے ہی بتا دیا تھا کہ وہ وسط مدتی انتخابات کے بعد جانے کا ارادہ رکھتی ہیں۔
ہرمیت ڈھلن کون ہیں؟
ڈھلن کیلیفورنیا کی وکیل اور ریپبلکن کارکن ہیں۔ انہوں نے ڈھلن لا گروپ قائم کیا، جسے اب ان کے بھائی چلاتے ہیں۔ وہ بھارت میں ایک سکھ خاندان میں پیدا ہوئیں اور نارتھ کیرولائنا میں پلی بڑھیں۔ وہ ملک کی نمایاں ترین جنوبی ایشیائی ریپبلکنز میں شمار ہوتی ہیں اور اپریل 2025 میں سینیٹ نے امریکی شہری حقوق کے قوانین نافذ کرنے والے اس ڈویژن کی سربراہی کے لیے ان کی توثیق کی تھی۔
انہوں نے کیا بدلا؟
ڈھلن کے دور میں ڈویژن کی ترجیحات بدلیں۔ مذہبی آزادی کو کام کا مرکز بنایا گیا اور دوسری آئینی ترمیم (اسلحے کے حقوق) سے متعلق ایک نیا شعبہ بنایا گیا۔ ان کے دور کے ابتدائی مہینوں میں کئی پیشہ ور وکلا چھوڑ گئے، اور انہوں نے ان کی جگہ درجنوں نئے وکیل بھرتی کیے۔
پاکستان میں ان کا استعفیٰ کیوں سرچ ہو رہا ہے؟
جمعہ کو ڈھلن کا نام پاکستان میں سب سے زیادہ سرچ ہونے والے ناموں میں شامل تھا۔ ان کا استعفیٰ وسط مدتی انتخابات کے بعد واشنگٹن میں ہونے والی بڑی اکھاڑ پچھاڑ کا حصہ ہے۔ ایک دن بعد ٹرمپ نے اپنی چیف آف اسٹاف سوزی وائلز کی جگہ اسٹیفن ملر کو مقرر کر دیا۔
ابھی کسی جانشین کا نام سامنے نہیں آیا۔ ڈویژن کے اگلے سربراہ کے لیے سینیٹ کی توثیق ضروری ہوگی، اور جنوری سے سینیٹ ڈیموکریٹس کے کنٹرول میں ہوگی، اس لیے یہ عہدہ کئی ماہ تک قائم مقام سربراہ کے پاس رہ سکتا ہے۔



