زیادہ سوچنا کیسے چھوڑیں اور دباؤ سے کیسے نمٹیں: ہیوبرمین لیب پر ڈاکٹر ایلیسا ایپل کے طریقے
ذہنی دباؤ کی ماہر ڈاکٹر ایلیسا ایپل کے ساتھ ہیوبرمین لیب کی 30 منٹ کی قسط کا خلاصہ: اہم نکات، ٹائم اسٹیمپ اور آج آزمانے کے آسان قدم۔


ڈاکٹر ایلیسا ایپل کہتی ہیں کہ ذہنی دباؤ دشمن نہیں۔ وہ امریکا کی یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، سان فرانسسکو (UCSF) میں نفسیات کی پروفیسر ہیں اور برسوں سے اسی موضوع پر تحقیق کر رہی ہیں۔ مسئلہ تب شروع ہوتا ہے جب دباؤ کبھی بند ہی نہ ہو۔ ہیوبرمین لیب ایسینشلز کی اس آدھے گھنٹے کی قسط میں، جو اینڈریو ہیوبرمین کے ساتھ ان کی 2023 کی مکمل گفتگو کا مختصر حصہ ہے، وہ وجہ بھی بتاتی ہیں اور ایسے طریقے بھی جو آپ اسی دن آزما سکتے ہیں۔ پوری قسط اوپر موجود ہے۔
اہم نکات
- زیادہ تر دباؤ ہمارے خیالوں میں رہتا ہے۔ ایپل کے مطابق کسی مسئلے کو بار بار ذہن میں دہرانا دباؤ کو اس لمحے کے گزر جانے کے بعد بھی زندہ رکھتا ہے۔
- پہلے اپنے جسم کو محسوس کریں۔ بھنچی مٹھیاں، اکڑے کندھے، رکی ہوئی سانس: ان کے بقول تناؤ کو پہچاننا ہی اسے چھوڑنے کا پہلا قدم ہے۔
- مختصر دباؤ فائدہ بھی دیتا ہے۔ تھوڑی دیر کا دباؤ توانائی اور توجہ دیتا ہے۔ نقصان وہ دباؤ کرتا ہے جس کے بعد آرام کا وقفہ نہ ملے۔
- خطرہ یا چیلنج؟ ایک ہی صورتحال خطرہ بھی لگ سکتی ہے اور چیلنج بھی، اور جسم دونوں پر الگ ردعمل دیتا ہے (تفصیل نیچے)۔
- اپنی “اسٹریس شیلڈز” بنائیں۔ خود کو اپنے وسائل، پچھلی کامیابیاں اور مدد کرنے والے لوگ یاد دلائیں۔
- جو بدل نہیں سکتے اس سے لڑنا چھوڑیں۔ ایپل اسے “ریڈیکل ایکسیپٹنس” یعنی مکمل قبولیت کہتی ہیں، اور رسہ کشی میں رسی چھوڑ دینے کی مثال دیتی ہیں۔
- آہستہ سانس لینا جسم کو پرسکون کرنے کا سب سے تیز طریقہ ہے، اور زندگی میں مقصد کا احساس لمبے عرصے تک حفاظت کرتا ہے۔
قسط میں کیا کیا ہے
- 0:22 اچھا دباؤ، برا دباؤ اور جسم کا ردعمل
- 1:55 بار بار سوچنا، اور جسم پر توجہ کیوں مدد کرتی ہے
- 3:23 تین طرح کے طریقے: سوچ، جسم اور ماحول
- 4:51 مختصر اور طویل دباؤ، اور آرام کیوں ضروری ہے
- 9:27 صحت مند بڑھاپا، مقصد اور دماغ
- 10:54 مضبوطی: خطرے اور چیلنج کا ردعمل
- 14:40 دباؤ کو نئے زاویے سے دیکھنا اور “اسٹریس شیلڈز”
- 18:30 مائٹوکونڈریا، دیکھ بھال کا بوجھ اور روزمرہ کا موڈ
- 21:24 طویل دباؤ اور مکمل قبولیت
- 25:19 “رسی چھوڑ دیں”: وہ دباؤ جو آپ کے بس میں نہیں
- 26:48 غیر یقینی، بیٹھنے کا انداز اور آہستہ سانس
- 30:34 کب کوشش کریں اور کب چھوڑ دیں
- 32:55 ڈائری لکھنا، اپنی کہانی اور مقصد
خطرہ یا چیلنج: اصل خیال
ایپل بتاتی ہیں کہ جب کوئی بات آپ کی حفاظت یا عزتِ نفس کے لیے خطرہ لگے تو خون کی نالیاں سکڑ جاتی ہیں، کورٹیسول زیادہ رہتا ہے اور سنبھلنے میں دیر لگتی ہے۔ وہی بات اگر چیلنج لگے تو دل زیادہ خون پمپ کرتا ہے، دماغ کو زیادہ آکسیجن ملتی ہے اور سوچ صاف رہتی ہے۔
ان کے بیان کردہ لیبارٹری تجربات میں چیلنج والا ردعمل دینے والوں میں بعد میں سوزش کم پائی گئی۔ اچھی خبر یہ ہے کہ یہ فرق کسی حد تک ہمارے اپنے ہاتھ میں ہے۔
اسٹریس شیلڈز اور نیا زاویہ
کسی مشکل لمحے سے پہلے، جیسے امتحان، انٹرویو یا گھر میں کوئی مشکل بات، ایپل مشورہ دیتی ہیں کہ خود سے وہ باتیں کہیں جن پر آپ واقعی یقین رکھتے ہیں: آپ کے پاس کیا وسائل ہیں، پہلے آپ کس مشکل سے نکلے، کس کو فون کر سکتے ہیں۔ فاصلہ بھی مدد کرتا ہے: خود سے پوچھیں کہ کیا پانچ یا دس سال بعد اس بات سے کوئی فرق پڑے گا۔
وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ تیز دھڑکن کو مختلف نظر سے دیکھیں۔ یہ جسم کی تیاری ہے، کسی خرابی کی نشانی نہیں۔
مکمل قبولیت اور “رسی چھوڑ دیں”
کچھ دباؤ جلد ختم نہیں ہوتے، جیسے کسی بیمار والدین کی دیکھ بھال۔ یہاں ایپل مکمل قبولیت کا مشورہ دیتی ہیں: صورتحال کو ویسا ہی دیکھنا جیسی وہ ہے، بجائے اس کے کہ ہر وقت یہ خواہش رہے کہ کاش ایسا نہ ہوتا۔ ان کے مطابق یہ سوچ بھی کہ برا کچھ ہونا ہی نہیں چاہیے، ہمیں کمزور بنا دیتی ہے۔
ان کی مثال: اینٹوں کی دیوار سے بندھی رسی کو زور سے کھینچنے سے صرف ہاتھ چھلتے ہیں۔ تو کیوں نہ رسی چھوڑ دی جائے؟ جو بدل نہیں سکتے اسے چھوڑنے سے وہ توانائی بچتی ہے جو اُن کاموں پر لگ سکتی ہے جو آپ کے بس میں ہیں۔ جہاں محنت کا فائدہ ہو وہاں محنت کریں، جہاں دیوار ہو وہاں رسی چھوڑ دیں۔
غیر یقینی کے ساتھ جینا
مکمل گفتگو میں ایپل بتاتی ہیں کہ جن لوگوں کے لیے غیر یقینی برداشت کرنا سب سے مشکل تھا، کورونا کے دنوں میں ان میں بےچینی اور ڈپریشن زیادہ تھا۔ وہ غیر یقینی برداشت کرنے کی صلاحیت کو پٹھے کی طرح بڑھائی جا سکنے والی چیز سمجھتی ہیں: مختصر توجہ والے لمحات، پرسکون انداز میں بیٹھنا اور آہستہ سانس لینا۔
آج یہ آزمائیں
- 30 سیکنڈ جسم پر توجہ: مٹھیاں کھولیں، کندھے ڈھیلے چھوڑیں، آہستہ سانس باہر نکالیں۔
- اگلے مشکل کام سے پہلے تین اسٹریس شیلڈز لکھیں: ایک وسیلہ، ایک پچھلی کامیابی، ایک ایسا شخص جسے فون کر سکیں۔
- اپنی پریشانیوں کو دو حصوں میں بانٹیں: “اس پر کچھ کر سکتا ہوں” اور “اینٹوں کی دیوار”۔ پہلے حصے پر عمل کریں، دوسرے پر رسی چھوڑنے کی مشق کریں۔
- جب ذہن دوڑنے لگے تو چند منٹ آہستہ سانس لیں۔
یہ خلاصہ عام معلومات کے لیے ہے، طبی مشورہ نہیں۔ اگر دباؤ یا اداسی ہفتوں سے آپ کی نیند، کام یا رشتوں پر اثر ڈال رہی ہو تو کسی ڈاکٹر یا قابلِ اعتماد شخص سے بات کریں۔
ذرائع
یہ خبر اے آئی کی مدد سے تحقیق اور تحریر کی گئی، پھر شائع کرنے سے پہلے ہمارے ایڈیٹر نے اس کی جانچ اور تدوین کی۔



