توجہ بکھری رہتی ہے؟ ڈاکٹر کے کہتے ہیں 66 دن تک صرف ایک چھوٹی عادت بنائیں
ADHD میں توجہ کیسے بہتر کریں؟ سائیکاٹرسٹ ڈاکٹر الوک کنوجیا (ڈاکٹر کے) کہتے ہیں کہ ایک وقت میں ایک چھوٹی عادت بنائیں اور رکاوٹوں کی پہلے سے تیاری کریں۔


اگر آپ کی توجہ بار بار بکھر جاتی ہے اور ہر نیا معمول ایک ہفتے میں ٹوٹ جاتا ہے، تو سائیکاٹرسٹ ڈاکٹر الوک کنوجیا، جو آن لائن HealthyGamerGG کے “ڈاکٹر کے” کے نام سے مشہور ہیں، کہتے ہیں کہ حل بڑا منصوبہ نہیں۔ حل ایک چھوٹی سی عادت ہے، جو روز کے کسی موڑ سے جڑی ہو اور تقریباً 66 دن تک نبھائی جائے۔ ان کی 15 منٹ کی ویڈیو اوپر مکمل موجود ہے۔
مختصر بات
- عادتیں خودکار چلتی ہیں، اس لیے توجہ بھٹکنے پر بھی کام کرتی رہتی ہیں۔ ADHD میں یہی ان کی طاقت ہے۔
- انعام پر مبنی عام مشورے اکثر ADHD ذہن پر کام نہیں کرتے، کیونکہ بورنگ کاموں میں انعام بہت کم ہوتا ہے۔
- 21 دن والی بات بھول جائیں۔ ڈاکٹر کے ایک تحقیق کا حوالہ دیتے ہیں جس میں عادت بننے میں 18 سے 254 دن لگے، اور درمیانی مدت تقریباً 66 دن تھی۔
- ایک وقت میں ایک عادت بنائیں، اور اسے بہت چھوٹا رکھیں۔
- اسے کسی موڑ سے جوڑیں، جیسے گھر پہنچنا یا ایک کام سے دوسرے پر جانا، جہاں ADHD میں وقت سب سے زیادہ ضائع ہوتا ہے۔
- کامل منصوبے کے بجائے رکاوٹوں کی تیاری کریں۔
ڈاکٹر کے ADHD میں توجہ اور عادتوں کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟
وہ ایک تضاد سے بات شروع کرتے ہیں: اچھی عادتیں ADHD والے لوگوں کو روزمرہ کے بہت سے مسائل سے بچاتی ہیں، مگر ADHD ہی مستقل مزاجی کو مشکل بناتا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ ADHD میں دماغ کے اگلے حصے کی منصوبہ بندی اور خود پر قابو کی صلاحیت کمزور ہوتی ہے اور ڈوپامین کا انعامی نظام مختلف کام کرتا ہے۔ نئی چیز سے فوری جوش آتا ہے جو جلد ختم ہو جاتا ہے، اور پھیکے کاموں سے تقریباً کچھ نہیں ملتا۔
لیکن ان کے مطابق دماغ میں عادتیں بنانے والا نظام الگ ہے اور ADHD میں نسبتاً ٹھیک رہتا ہے۔ اسی نظام کو تربیت دینی ہے۔ جب کوئی کام عادت بن جائے تو اسے توجہ کی ضرورت نہیں رہتی، اور بکھرے ذہن کو بالکل یہی چاہیے۔
وہ Atomic Habits جیسی کتابوں کے مشہور “اشارہ، خواہش، ردِعمل، انعام” والے ماڈل پر تنقید کرتے ہیں۔ ADHD میں اشارے نظر انداز ہو جاتے ہیں، خواہش ڈوپامین پر منحصر ہوتی ہے، اور کام مکمل کرنے کا انعام کمزور لگتا ہے۔ اس لیے ان کے قدم مختلف ہیں۔
پہلا: مان لیں کہ عادت میں وقت لگتا ہے اور جلد نتیجے کی خواہش کو نظر انداز کریں۔ دوسرا: ایک بہت چھوٹی عادت چنیں۔ ان کی مثال ہے کہ چابیاں ہمیشہ ایک ہی جگہ رکھیں اور کہیں اور کبھی نہ رکھیں، کیونکہ ان کے مریضوں کو گم شدہ چابیوں سے حیرت انگیز حد تک پریشانی ہوتی ہے۔ تیسرا: موڑ کے لمحات پر توجہ دیں اور ماحول ترتیب دیں، جیسے دروازے کے پاس ایک ٹوکری۔ چوتھا: رکاوٹ کم کریں اور پہلے سے سوچ لیں کہ کون سی چیز آپ کو سب سے زیادہ پٹری سے اتارے گی۔ ان کے بقول ADHD میں پیچیدہ منصوبے اچھے نتائج نہیں دیتے۔
ان کا “بڑا راز” یہ ہے کہ بار بار ایسا کرنے سے عادت بنانے کی مہارت خود آ جاتی ہے، اور ہر نئی عادت آسان ہوتی جاتی ہے۔
ہماری رائے
66 دن والی بات یونیورسٹی کالج لندن کی 2009 کی مشہور تحقیق سے آئی ہے، جس میں مختلف لوگوں میں عادت بننے کا وقت بہت مختلف نکلا۔ رکاوٹوں کی پہلے سے منصوبہ بندی کو بھی رویہ بدلنے کی تحقیق میں اچھی تائید حاصل ہے۔ مختصر ویڈیو میں دماغی سائنس کو آسان کر کے بیان کیا گیا ہے، مگر مشورہ معقول اور بےخطر ہے۔
یہ طریقہ تشخیص ہو یا نہ ہو، دونوں صورتوں میں کام کرتا ہے۔ بہت سے پاکستانی طلبہ اور نوجوان ملازمین جس بکھری توجہ کو “ADHD جیسا” کہتے ہیں، وہ اصل میں کم نیند، فون کی زیادتی یا دباؤ ہوتا ہے۔ لیکن اگر توجہ کا مسئلہ بچپن سے ہے اور پڑھائی، کام اور رشتوں پر اثر ڈال رہا ہے تو کسی سائیکاٹرسٹ سے معائنہ کروانا فائدہ مند ہے۔ ہمارے ہاں بڑوں میں ADHD کو کم ہی پہچانا جاتا ہے۔
امتحانوں کے دنوں میں دس چیزوں کا ٹائم ٹیبل نہیں، ایک عادت چنیں۔ “پڑھائی کی میز پر بیٹھتے ہی فون دراز میں” ایک اچھی پہلی عادت ہے۔ مشترکہ خاندان کے مصروف گھر میں “اندر آتے ہی بیگ اور چابیاں ہمیشہ ایک ہی شیلف پر” کسی بھی پروڈکٹیویٹی ایپ سے زیادہ وقت بچا سکتا ہے۔
آج یہ کر کے دیکھیں
- ایک ایسا مسئلہ چنیں جو بار بار ہوتا ہے، جیسے گم شدہ چابیاں، غائب چارجر یا پڑھائی کی میز پر فون۔
- اسے کسی لمحے سے جڑے ایک چھوٹے عمل میں بدلیں: “دروازے سے اندر آتے ہی چابیاں ٹوکری میں۔”
- لکھیں کہ کون سی چیز اسے سب سے زیادہ توڑ سکتی ہے، اور اس لمحے کے لیے آپ کا منصوبہ کیا ہے۔
- کیلنڈر پر 66 دن نشان زد کریں اور اس سے پہلے دوسری عادت شامل نہ کریں۔
یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے، طبی مشورہ نہیں۔
ویڈیو کے اہم لمحات
ذرائع
یہ خبر اے آئی کی مدد سے تحقیق اور تحریر کی گئی، پھر شائع کرنے سے پہلے ہمارے ایڈیٹر نے اس کی جانچ اور تدوین کی۔



