کارل بشبی: 28 سال پیدل دنیا گھوم کر آخرکار ماں کے دروازے پر پہنچ گئے

کارل بشبی 1998 میں چلی سے پیدل نکلے اور 28 سال بعد ہل میں اپنی ماں کے گھر پہنچے۔ لوگ ان کا نام کیوں تلاش کر رہے ہیں، اور وہ دو اصول جو انہوں نے کبھی نہیں توڑے۔

Karl Bushby with his mother Angela outside her home in Hull, surrounded by cameras
تصویر: AFP

برطانوی فوج کے سابق پیراٹروپر 57 سالہ کارل بشبی نے پیدل دنیا کا چکر مکمل کر لیا ہے۔ پیر 2 نومبر کو وہ شمالی انگلینڈ کے شہر ہل میں اپنی ماں کے گھر کے دروازے تک پیدل پہنچے، ٹھیک 28 سال اور ایک دن بعد جب وہ جنوبی امریکا کے آخری سرے پر چلی کے شہر پنٹا ایریناس سے روانہ ہوئے تھے۔ اس ہفتے پاکستان میں ان کا نام گوگل پر سب سے زیادہ تلاش کیے جانے والے ناموں میں رہا۔

ان کی والدہ اینجلا نے “ویلکم ہوم سن” کے بینر کے نیچے دروازے پر انہیں گلے لگایا۔ بشبی نے کہا: “کہتے ہیں ایک کام کے لیے پورا گاؤں چاہیے ہوتا ہے، مگر مجھے یہاں تک پہنچانے میں پوری دنیا لگی۔”

دو اصول، 28 سال

بشبی نے اس سفر کو “گولائیتھ ایکسپیڈیشن” کا نام دیا اور یکم نومبر 1998 کو 29 سال کی عمر میں نکلتے وقت خود پر دو اصول لاگو کیے۔ آگے بڑھنے کے لیے کوئی گاڑی استعمال نہیں کریں گے، اور جب تک پیدل گھر نہ پہنچیں، واپس نہیں جائیں گے، چاہے اس دوران کسی پیارے کا انتقال ہی کیوں نہ ہو جائے۔

انہوں نے دونوں اصول نبھائے۔ یہ سفر تقریباً 50 ہزار کلومیٹر کا تھا، دس ہزار سے زیادہ دن لگے اور ایک اندازے کے مطابق ساڑھے سات کروڑ قدم۔

راستہ، مختصراً

  • امریکا براعظم: چلی سے شمال کی طرف جنوبی اور وسطی امریکا، جس میں کولمبیا اور پاناما کے درمیان ڈیرین گیپ کا خطرناک جنگل بھی شامل تھا جہاں مسلح گروہوں نے انہیں دھمکایا۔ پاناما میں وہ جیل بھی گئے۔
  • آبنائے بیرنگ: 2006 میں انہوں نے الاسکا سے روس تک جمے ہوئے سمندر پر پیدل سفر کیا، اور سائبیریا میں ان کا سامنا ایک قطبی ریچھ سے ہوا۔
  • روس اور ایشیا: روس میں داخل ہونے پر انہیں حراست میں لیا گیا اور ویزا پابندیوں کی وجہ سے وہ برسوں رکے رہے۔ پھر منگولیا اور چین سے ہوتے ہوئے وسطی ایشیا پہنچے۔
  • بحیرہ کیسپین: یوکرین جنگ سے بچنے کے لیے انہوں نے 31 دن میں تیر کر کیسپین پار کیا، جسے اپنی نوعیت کا پہلا سفر کہا جا رہا ہے۔
  • گھر واپسی: یورپ پار کر کے اکتوبر میں فرانس سے انگلش چینل تیر کر عبور کیا، ڈوور کے قریب ساحل پر اترے اور آخری حصہ پیدل چل کر ہل پہنچے۔

انہوں نے یہ سفر تقریباً 12 سال کا سوچا تھا۔ 2008 کے مالی بحران میں اسپانسرز کا ساتھ چھوڑ جانا، بیماری، ویزے اور دو جنگیں اسے 28 سال تک لے گئیں۔

سب تعریف نہیں کر رہے

ان کی واپسی پر سوشل میڈیا پر بحث بھی چھڑ گئی ہے۔ کچھ تبصرہ نگاروں نے اس سفر کو کامیابی کے بجائے ایک المیہ کہا ہے، کیونکہ اس میں خاندان سے دہائیوں کی دوری شامل تھیاور برسوں کی مشکلات شامل تھیں۔ حامیوں کا جواب ہے کہ انہوں نے اپنے اصول خود بنائے، نبھائے اور خیریت سے گھر لوٹے۔

ہل سٹی ہال میں ان کے اعزاز میں استقبالیہ دیا گیا۔ اس سفر پر ایک فیچر ڈاکیومنٹری بن رہی ہے اور وہ اب انگلینڈ بھر میں لیکچر ٹور کا ارادہ رکھتے ہیں۔

مزید پڑھیں