پاک بمقابلہ سری لنکا فائنل: فخر زمان کے 127، پاکستان نے 326 کا ہدف حاصل کر کے سہ ملکی سیریز جیت لی

لاہور میں فخر زمان کے 127 اور عرفات منہاس کے 31 گیندوں پر 61 رنز سے پاکستان نے سری لنکا کو تین وکٹوں سے ہرا دیا۔ ہدف کیسے حاصل ہوا اور شاہین کا فاتحانہ چھکا۔

Two Pakistan batters in green kits bump gloves in the middle at Gaddafi Stadium, Lahore
تصویر: Dawn

صرف چار دن پہلے سری لنکا نے پاکستان کو 110 رنز پر آؤٹ کیا تھا۔ ہفتہ 31 اکتوبر کو لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں اسی ٹیم کے خلاف پاکستان نے 326 رنز کا ہدف حاصل کر کے ون ڈے سہ ملکی سیریز کا فائنل جیت لیا۔ جیت تین وکٹوں سے اور نو گیندیں پہلے آئی، اسکور 48.3 اوورز میں 7 وکٹوں پر 331 رہا، اور آخری شاٹ کپتان شاہین شاہ آفریدی کا چھکا تھا۔

یہ منگل کے میچ کا بالکل الٹ تھا، جب پاکستان 25.3 اوورز میں آؤٹ ہو کر آٹھ وکٹوں سے ہارا تھا (اس میچ پر ہماری رپورٹ)۔ اس بار ٹاپ آرڈر جم کر کھیلا اور نچلے نمبروں نے کام ختم کیا۔

فائنل کا اسکور مختصراً

  • سری لنکا: 50 اوورز میں 8 وکٹوں پر 325 (کامندو مینڈس 128 گیندوں پر 131، پون رتنائیکے 77)
  • پاکستان: 48.3 اوورز میں 7 وکٹوں پر 331 (فخر زمان 99 گیندوں پر 127، سعد بیگ 75 گیندوں پر 74، عرفات منہاس 31 گیندوں پر 61)
  • نتیجہ: پاکستان تین وکٹوں سے جیت گیا

سری لنکا 325 تک کیسے پہنچا؟

اوپنر کامندو مینڈس نے 128 گیندوں پر 131 رنز بنائے، جو ان کی پہلی ون ڈے سنچری ہے، اور اویشکا فرنینڈو کے ساتھ پچاس رنز کی اوپننگ شراکت بنائی۔ سیریز میں سری لنکا کے سب سے کامیاب بیٹر پون رتنائیکے نے 77 رنز جوڑے۔

ایک موقع پر 350 کا اسکور ممکن لگ رہا تھا، مگر آخری پانچ اوورز میں پاکستان نے صرف 38 رنز دے کر تین وکٹیں لیں۔ وکٹیں برابر بٹیں: سلمان علی آغا، شاہین، حارث رؤف اور نسیم شاہ نے دو دو کھلاڑی آؤٹ کیے۔

فخر زمان اور سعد بیگ کی بنیاد

منگل کو فخر صرف 5 رنز بنا سکے تھے۔ ہفتے کو انہوں نے 11 چوکوں اور چھ چھکوں کی مدد سے 99 گیندوں پر 127 رنز بنائے، جو ان کی بارہویں ون ڈے سنچری ہے۔ سب سے اہم ان کی شراکت تھی: فخر اور سعد بیگ نے تیسری وکٹ کے لیے 149 رنز جوڑے، جس سے شروع سے چھ رنز فی اوور سے زیادہ مانگنے والے ہدف کا دباؤ کم ہو گیا۔

منگل کو جلد آؤٹ ہونے والے سعد بیگ نے 75 گیندوں پر 74 رنز بنائے، جو ان کی پہلی ون ڈے نصف سنچری ہے۔ لیگ میچ میں 34 رنز دے کر 5 وکٹیں لینے والے دلشان مدوشنکا نے آخرکار فخر کو اس وقت آؤٹ کیا جب اسکور 4 وکٹوں پر 220 تھا۔

عرفات منہاس نے میچ پلٹا، شاہین نے ختم کیا

230 پر پانچویں وکٹ گری تو پاکستان کو تقریباً 100 رنز درکار تھے اور سری لنکا میچ میں واپس آ چکا تھا۔ عرفات منہاس نے 31 گیندوں پر 61 رنز کی تیز اننگز کھیلی اور مطلوبہ رن ریٹ کا خوف ختم ہو گیا۔

عرفات پوری سیریز میں پاکستان کے نمایاں کھلاڑی رہے: لیگ مرحلے کے آخر تک وہ ٹیم کے سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے بولر تھے اور انگلینڈ کے خلاف 40 رنز دے کر 6 وکٹیں لے چکے تھے۔

اختتام کپتان کے نام رہا۔ شاہین نے 49ویں اوور میں مدوشنکا کو مڈ وکٹ کے اوپر سے چھکا مار کر ہوم کراؤڈ کے سامنے ٹائٹل پکا کیا۔

یہ جیت کیوں اہم ہے

یہ اپنی سرزمین پر پاکستان کا پہلا ون ڈے سہ ملکی ٹائٹل ہے۔ پوری سیریز میں چار مختلف بیٹرز نے میچ جتوائے: افتتاحی میچ میں سلمان آغا کی سنچری، انگلینڈ کے خلاف شاداب خان کے ناقابل شکست 113 اور اب فخر کی سنچری۔ منگل کے 110 رنز نے دکھایا تھا کہ ٹاپ آرڈر کتنا کمزور پڑ سکتا ہے؛ ہفتے نے دکھایا کہ جب دو بیٹر لمبا کھیلیں تو کیا ہوتا ہے۔

اب اگلا امتحان سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ سیریز ہے، جس کے لیے پی سی بی نئے کھلاڑیوں سمیت اسکواڈ کا اعلان کر چکا ہے۔

مزید پڑھیں