پاک بمقابلہ سری لنکا: پاکستان 110 پر آؤٹ، سری لنکا 8 وکٹوں سے جیتا، انگلینڈ باہر
دلشان مدوشنکا کی 34 رنز کے عوض 5 وکٹوں نے پاکستان کو 110 پر سمیٹ دیا۔ سری لنکا 18.1 اوورز میں جیت گیا، ہفتے کو فائنل پاکستان اور سری لنکا کے درمیان۔

پاکستان منگل کا میچ کھیلنے سے پہلے ہی فائنل میں پہنچ چکا تھا، مگر میچ ختم ہوا تو ٹیم صرف 110 رنز پر آؤٹ تھی، جو ہوم گراؤنڈ پر اس کا دوسرا کم ترین ون ڈے اسکور ہے۔ لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں سری لنکا نے آٹھ وکٹوں سے میچ جیتا، انگلینڈ سہ ملکی سیریز سے باہر ہو گیا اور اب ہفتہ 31 اکتوبر کو فائنل پاکستان اور سری لنکا کے درمیان ہوگا۔
کل ہمارے پری ویو میں سوال یہ تھا کہ کیا سری لنکا جیت کر فائنل تک پہنچ پائے گا۔ اس نے 30 سے زیادہ اوورز باقی رہتے کام مکمل کر لیا۔
پاکستانی بیٹنگ کیسے بکھری؟
سری لنکن کپتان کوسال مینڈس نے ٹاس جیت کر پہلے بولنگ کی اور بائیں ہاتھ کے فاسٹ بولر دلشان مدوشنکا نے کیریئر کی بہترین بولنگ کرتے ہوئے 34 رنز دے کر 5 وکٹیں لیں۔ پاکستان کی پوری ٹیم 25.3 اوورز میں آؤٹ ہو گئی۔
- فخر زمان (5)، معاذ صداقت (8، اسیتھا فرنینڈو کی گیند پر ایل بی ڈبلیو) اور سعد بیگ (5) 46 کے اسکور تک پویلین لوٹ چکے تھے۔
- پھر سلمان آغا (9)، بابر اعظم (29) اور شاداب خان (2) تین اوورز کے اندر آؤٹ ہوئے اور اسکور 64 پر 6 ہو گیا۔
- یاہو اسپورٹس کے مطابق بابر ایشان ملنگا کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوئے، جبکہ پاکستان ایک ریویو پہلے ہی ضائع کر چکا تھا۔ اتوار کو انگلینڈ کے خلاف ناقابل شکست 113 بنانے والے شاداب صرف پانچ گیندیں کھیل سکے۔
- آخر میں حسن نواز (17) اور کپتان شاہین شاہ آفریدی (15) نے کچھ رنز جوڑے۔
ٹاپ پانچ میں سے چار بیٹر دہرے ہندسے تک نہ پہنچ سکے۔ ہوم گراؤنڈ پر پاکستان کا اس سے کم اسکور صرف ایک ہے: 2009 میں لاہور ہی میں سری لنکا کے خلاف 75 رنز۔
کامندو مینڈس کی تیز اننگز
سری لنکا نے ہدف 18.1 اوورز میں حاصل کر لیا۔ اسکائی اسپورٹس کے مطابق کامندو مینڈس نے 60 گیندوں پر آٹھ چوکوں اور دو چھکوں کی مدد سے ناقابل شکست 62 رنز بنائے۔ قسمت نے بھی ساتھ دیا: صفر پر وکٹ کیپر نے ان کا کیچ چھوڑا اور 44 پر ایل بی ڈبلیو کا فیصلہ ریویو پر بدل گیا۔ پاون رتنائیکے (23 ناٹ آؤٹ) کے ساتھ 52 رنز کی ناقابل شکست شراکت کے بعد سری لنکا 114 رنز 2 کھلاڑی آؤٹ پر جیت گیا۔
شاہین اور کوسال مینڈس نے کیا کہا
شاہین نے مسئلہ مانا: “بدقسمتی سے پچھلے تین چار میچوں میں ہماری ٹاپ آرڈر بیٹنگ بکھر رہی ہے۔” ان کا کہنا تھا کہ پاکستان فائنل میں “واپس آئے گا اور بہتر بیٹنگ کرے گا”۔ کوسال مینڈس نے مختصر بات کی: “ہم نے پاور پلے میں بہت اچھی بولنگ کی۔”
کیا فائنل سے پہلے فکر کی بات ہے؟
پوائنٹس ٹیبل کہتا ہے نہیں، پاکستان نے لیگ مرحلہ تین فتوحات اور چھ پوائنٹس کے ساتھ ختم کیا۔ مگر رجحان کہتا ہے ہاں۔ شاہین نے خود ٹاپ آرڈر کی بات کی، اور اس سیریز میں یہ دوسری بار تھا کہ شروع میں وکٹیں گریں، اتوار کو شاداب کی سنچری نے یہ کمزوری چھپا دی تھی۔
سری لنکا بھی فارم میں ہے۔ اسی سیریز میں اس نے راولپنڈی میں انگلینڈ کے خلاف 430 رنز کا ہدف حاصل کیا، جو ون ڈے تاریخ کا دوسرا سب سے بڑا کامیاب تعاقب ہے۔ ہفتے کو پاکستانی اوپنرز کا پہلا امتحان مدوشنکا کی نئی گیند ہوگی۔
آگے کیا ہے؟
انگلینڈ اور سری لنکا جمعرات 29 اکتوبر کو لاہور میں کھیلیں گے، مگر انگلینڈ تینوں میچ ہار چکا ہے اس لیے یہ میچ اب بے معنی ہے۔ فائنل ہفتہ 31 اکتوبر کو لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں ہوگا۔
ذرائع
یہ خبر اے آئی کی مدد سے تحقیق اور تحریر کی گئی، پھر شائع کرنے سے پہلے ہمارے ایڈیٹر نے اس کی جانچ اور تدوین کی۔



