پاک فوج نے جنوبی وزیرستان اور پاراچنار کے قریب افغان طالبان کی چوکیاں تباہ کر دیں
فوج کے مطابق انگور اڈہ میں فائرنگ سے ایک شہری کی شہادت کے بعد افغان طالبان کی سرحدی چوکیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ دونوں فریق کیا کہتے ہیں اور سرحد بار بار کیوں گرم ہوتی ہے۔

ریڈیو پاکستان نے جمعہ 30 اکتوبر کو سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ پاک فوج نے جنوبی وزیرستان اور پاراچنار کے قریب سرحد پر افغان طالبان کی کئی چوکیاں اور فوجی ٹھکانے تباہ کر دیے ہیں۔ فوج نے اسے انگور اڈہ کے علاقے میں “بلا اشتعال فائرنگ کا بھرپور جواب” قرار دیا۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق بھاری ہتھیاروں سے سرحدی چوکیوں، بنکروں اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد افغان طالبان اہلکار چوکیاں چھوڑ کر بھاگ گئے۔ ذرائع نے کہا کہ کئی طالبان اہلکار مارے گئے، مگر تعداد نہیں بتائی۔ ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
معاملہ کیسے شروع ہوا
کشیدگی منگل 27 اکتوبر کو لوئر جنوبی وزیرستان کے سرحدی قصبے انگور اڈہ سے شروع ہوئی، جہاں سے افغانستان کے صوبہ پکتیکا کا راستہ کھلتا ہے۔ پاکستانی فوجی حکام کے مطابق افغان طالبان نے پاکستانی چوکیوں اور شہری آبادی پر فائرنگ کی، اور ایک مارٹر گولہ ایک گھر پر گرا جس سے ایک شہری شہید اور ایک ہی خاندان کے پانچ افراد زخمی ہوئے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ اس نے اسی دن جواب میں افغان چوکیاں تباہ کیں، اور جمعہ کی کارروائی اس کے بعد ہوئی۔
سکیورٹی فورسز نے کہا کہ “قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا”۔ خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے کابل کو خبردار کیا کہ پاکستان اپنے لوگوں پر حملے یا اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی برداشت نہیں کرے گا۔
افغانستان کیا کہتا ہے
کابل کا موقف مختلف ہے۔ افغان وزارت دفاع نے 28 اکتوبر کو ایکس پر کہا کہ پاکستانی فورسز نے 27 اکتوبر کو دوپہر کے قریب چار ڈرون حملے کیے، جن میں انگور اڈہ کا ایک بازار اور پکتیکا میں ایک مقام نشانہ بنا۔ اس کے مطابق افغان فورسز نے جواب میں پاکستانی فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا اور پاکستانی فوجیوں کا جانی نقصان ہوا۔ پاکستان کی وزارت اطلاعات نے اس بیان کو من گھڑت قرار دیا۔ یہ رپورٹ لکھے جانے تک افغان حکام نے جمعہ کی کارروائی پر کوئی بیان نہیں دیا تھا۔
سرحد بار بار کیوں گرم ہوتی ہے
بنیادی تنازع وہی ہے۔ اسلام آباد کا کہنا ہے کہ افغان طالبان حکومت کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو افغان سرزمین سے پاکستان میں حملوں کی منصوبہ بندی کرنے دیتی ہے۔ کابل اس کی تردید کرتا ہے اور کہتا ہے کہ وہ کسی کو اپنی زمین کسی پڑوسی کے خلاف استعمال نہیں کرنے دیتا۔ فائرنگ کا ہر نیا دور سرحدی راستوں کو تاجروں اور دونوں طرف بسنے والے خاندانوں کے لیے مزید غیر یقینی بنا دیتا ہے۔
جنوبی وزیرستان اور کرم کے لوگوں کے لیے یہ غیر یقینی روز کی حقیقت ہے: گولہ باری سے اسکول اور بازار بند ہو جاتے ہیں، اور کھانے پینے کی اشیا لانے والے راستے اچانک بند ہو سکتے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا کوئی حکومت بات چیت کا اعلان کرتی ہے، یا فائرنگ سرحد کے دوسرے حصوں تک پھیلتی ہے۔



