اقرار الحسن کی ضمانت منظور: پیکا کیس میں تقریباً تین ہفتے بعد رہائی کا حکم

کراچی کی عدالت نے ہفتے کو اینکر اقرار الحسن کی دو لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔ کیس کیا ہے اور آگے کیا ہوگا۔

Iqrar ul Hassan smiling and holding a microphone at a public event
تصویر: Express Tribune

اینکر پرسن اور عوام راج تحریک کے سربراہ اقرار الحسن کی ہفتہ 31 اکتوبر کو اس مقدمے میں ضمانت منظور ہو گئی جس میں ان پر سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے مبینہ “ریاست مخالف” مواد پھیلانے کا الزام ہے۔ کراچی ایسٹ کے جوڈیشل مجسٹریٹ نے انہیں دو لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض رہا کرنے کا حکم دیا، جس کی تصدیق ان کے وکیل نے کی۔

12 اکتوبر کو لاہور میں گھر سے اٹھائے جانے کے بعد یہ ان کے لیے پہلا ریلیف ہے۔ اس سے پہلے دو بار ان کی درخواست ضمانت مسترد ہو چکی تھی۔

اقرار الحسن کو کیوں گرفتار کیا گیا؟

نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے پیکا قانون کے تحت مقدمہ درج کیا۔ ایف آئی آر کے مطابق انہوں نے اپنے ایکس، انسٹاگرام اور فیس بک اکاؤنٹس پر ایسا مواد پھیلایا جسے “ریاست مخالف، جھوٹا اور ہتک آمیز” کہا گیا ہے۔ ان پر قانون کی دفعات 9، 10، 24 اور 26-اے لگائی گئیں۔

ان کے وکلا کا مؤقف ہے کہ ان کی پوسٹس تبصرہ تھیں، جرم نہیں۔ الزامات پر ابھی کسی عدالت نے فیصلہ نہیں دیا؛ ضمانت صرف یہ طے کرتی ہے کہ مقدمے کا انتظار گھر پر ہوگا یا جیل میں۔

کیس کب کیا ہوا

  • 12 اکتوبر: گھر والوں کے مطابق سادہ کپڑوں میں اہلکار رات تقریباً تین بجے انہیں ڈی ایچ اے لاہور کے گھر سے لے گئے۔ ان کی اہلیہ کے مطابق فون، لیپ ٹاپ اور سی سی ٹی وی فوٹیج بھی لے لی گئی۔ ابتدا میں این سی سی آئی اے نے مجسٹریٹ کو بتایا تھا کہ وہ اس کی حراست میں نہیں۔
  • تقریباً 30 گھنٹے بعد: انہیں کراچی میں، جہاں مقدمہ درج ہے، جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا اور چار دن کے جسمانی ریمانڈ پر ایجنسی کے حوالے کر دیا گیا۔
  • ریمانڈ میں توسیع: ایجنسی نے مزید 10 دن مانگے، مجسٹریٹ نے دو دن دیے اور پھر جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔
  • 22 اکتوبر: پہلی درخواست ضمانت مسترد ہوئی؛ مجسٹریٹ نے کہا کہ اس مرحلے پر رہائی تفتیش میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔
  • 29 اکتوبر: دوسری درخواست بھی مسترد ہوئی اور وکلا نے سندھ ہائی کورٹ جانے کا اعلان کیا۔
  • 31 اکتوبر: ضمانت منظور۔

ہفتے کو کیا بدلا؟

سماعت کی رپورٹس کے مطابق این سی سی آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ اسے اقرار الحسن سے مزید تفتیش کی ضرورت نہیں، البتہ ان کے آلات کی فرانزک رپورٹ ابھی آنی ہے۔ تفتیش تقریباً مکمل ہونے سے انہیں حراست میں رکھنے کی بنیادی وجہ ختم ہو گئی۔ رپورٹس کے مطابق مجسٹریٹ نے لکھا کہ ٹرائل سے پہلے ضمانت روک کر سزا نہیں دی جا سکتی۔

مچلکے جمع ہوتے ہی ان کی رہائی ہو جائے گی۔ پیکا کے تحت مقدمہ بدستور چلے گا۔

لوگ اس کیس پر نظر کیوں رکھے ہوئے ہیں

اقرار الحسن برسوں “سرِعام” میں خفیہ کیمرہ رپورٹنگ کی وجہ سے پاکستان کے مشہور ترین ٹی وی چہروں میں سے ہیں، اور انہوں نے عوام راج تحریک کے نام سے سیاسی تحریک بھی شروع کی۔ 2025 میں قانون سخت ہونے کے بعد صحافیوں اور سوشل میڈیا صارفین پر درج پیکا مقدمات میں یہ بھی ایک ہے، جن پر ڈیجیٹل حقوق کی تنظیمیں قریب سے نظر رکھے ہوئے ہیں۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ رہائی کے بعد وہ عوامی طور پر کیا کہتے ہیں اور ٹرائل کورٹ چالان پر کب کارروائی شروع کرتی ہے۔

مزید پڑھیں