ہزارہ موٹروے حادثہ: حویلیاں کے قریب گلگت کی بس ڈمپر سے ٹکرا گئی، 8 جاں بحق
جمعے کو حویلیاں کے قریب گلگت سے راولپنڈی جانے والی بس ڈمپر سے ٹکرا گئی؛ ریسکیو 1122 کے مطابق ٹائر پھٹا، زخمی ایوب میڈیکل کمپلیکس منتقل۔

جمعے 6 نومبر کو ضلع ایبٹ آباد میں ہزارہ موٹروے پر حویلیاں انٹرچینج کے قریب گلگت سے راولپنڈی جانے والی مسافر بس ڈمپر ٹرک سے ٹکرا گئی، جس میں آٹھ افراد جاں بحق اور تقریباً 30 زخمی ہو گئے۔ ریسکیو 1122 کے مطابق ٹائر پھٹنے سے ڈرائیور بس کا کنٹرول کھو بیٹھا۔
دی نیوز اور ڈان میں ریسکیو حکام کے حوالے سے بتایا گیا کہ سات مسافر موقع پر جاں بحق ہوئے اور ایک اسپتال پہنچ کر دم توڑ گیا۔ چار زخمیوں کی حالت نازک بتائی گئی ہے۔
موٹروے پر کیا ہوا؟
بس موٹروے پر راولپنڈی کی طرف جا رہی تھی، جو قراقرم ہائی وے اور شمالی علاقوں کو اسلام آباد سے ملاتی ہے۔ ریسکیو حکام کے مطابق حویلیاں کے قریب ٹائر پھٹا اور بس لہرا کر ڈمپر ٹرک میں جا لگی۔ ریسکیو 1122 اور موٹروے پولیس کی ٹیموں نے مسافروں کو ملبے سے نکالا اور زخمیوں کو اسپتال پہنچایا۔
مقامی میڈیا میں ریسکیو حکام کے حوالے سے بتایا گیا کہ تمام زخمیوں کو، جن میں پانچ بچے اور چھ خواتین شامل ہیں، ایبٹ آباد کے ایوب میڈیکل کمپلیکس لے جایا گیا۔ جاں بحق افراد کا تعلق گلگت سے بتایا گیا ہے اور ان کی میتیں آبائی علاقوں کو بھجوائی جا رہی تھیں۔
کیا یہ اعداد و شمار حتمی ہیں؟
پوری طرح نہیں۔ ریسکیو 1122 کے حوالے سے زیادہ تر رپورٹس میں آٹھ ہلاکتیں اور 30 زخمی بتائے گئے ہیں۔ ڈیلی ٹائمز میں موٹروے پولیس کے ترجمان نے ہلاکتیں اتنی ہی بتائیں مگر زخمی 16 کہے، اور ٹرک کو ٹریلر جبکہ بس کو ہنزہ سے آنے والی بتایا۔ ہفتے کے آخر تک اسپتال کے اعداد و شمار سے تعداد واضح ہو سکتی ہے۔
شمالی لمبے راستوں کا جانا پہچانا خطرہ
یہ حادثہ پاکپتن کے قریب بس اور ٹرک کی ٹکر میں 11 افراد کی ہلاکت کے چند دن بعد پیش آیا ہے۔ گلگت بلتستان سے آنے والے لمبے رات کے راستوں پر ریسکیو اداروں کو ایسے حادثات اکثر دیکھنا پڑتے ہیں: کئی کئی گھنٹے چلتی بسیں، گھسے ہوئے ٹائر، اور بھاری مال بردار گاڑیاں ایک ہی لین میں۔ موٹروے پولیس ڈرائیوروں کو باقاعدگی سے مشورہ دیتی ہے کہ لمبے سفر سے پہلے ٹائروں کا پریشر اور گھساؤ ضرور دیکھیں، خاص طور پر جب شمال میں درجۂ حرارت گر رہا ہو۔
آگے دیکھنے کی بات: ایوب میڈیکل کمپلیکس سے حتمی فہرست، اور یہ کہ ٹرانسپورٹ کمپنی کا فٹنس سرٹیفکیٹ چیک کیا جاتا ہے یا نہیں۔



