بلوچستان: اے آئی حاضری نظام کے بعد مزید 72 ڈاکٹرز برطرف

بلوچستان میں طویل غیر حاضری پر ہفتے کو 72 سرکاری ڈاکٹرز نوکری سے فارغ، محکمہ صحت میں برطرفیاں 200 تک پہنچ گئیں۔ کارروائی کیسے ہو رہی ہے۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی
تصویر: PhotoNews Pakistan

بلوچستان کے محکمہ صحت نے ہفتہ 31 اکتوبر کو طویل عرصے سے ڈیوٹی سے غیر حاضر 72 سرکاری ڈاکٹروں کو برطرف کر دیا۔ یہ کارروائی صوبے کے نئے مصنوعی ذہانت پر مبنی حاضری نظام کے بعد ہوئی جو یہ ریکارڈ کرتا ہے کہ کون واقعی ڈیوٹی پر آ رہا ہے۔ اس کے ساتھ غیر حاضری پر برطرف ہونے والے محکمہ صحت کے ملازمین کی تعداد 200 ہو گئی ہے۔

وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے ایکس پر برطرفیوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ صحت میں متعارف کرائے گئے اے آئی حاضری نظام کے نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سرکاری ملازمین عوام کے خادم ہیں اور حکومت کسی کو ڈیوٹی سے غائب رہ کر تنخواہ لینے کی اجازت نہیں دے گی۔

کون برطرف ہوا

سیکرٹری صحت کے نوٹیفکیشن میں گریڈ 17 کے میڈیکل آفیسرز اور گریڈ 18 کے سینئر میڈیکل آفیسرز شامل ہیں۔ انہیں بلوچستان ایمپلائز ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن ایکٹ 2011 کے تحت فوری طور پر ملازمت سے فارغ کیا گیا۔

وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے کہا کہ ان ڈاکٹروں کو بار بار ڈیوٹی پر آنے کے نوٹس دیے گئے مگر انہوں نے جواب نہیں دیا، اس لیے حکومت کو کارروائی کرنا پڑی۔ ان کا کہنا تھا کہ طبی عملے کی غیر حاضری اور غفلت پر زیرو ٹالرنس ہے، اور یہ اصلاحات وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر ہو رہی ہیں۔

کارروائی کے اعداد و شمار

  • اس مرحلے میں 72 ڈاکٹرز برطرف
  • محکمہ صحت کے کل 200 ملازمین برطرف
  • حاضری اور نظم و ضبط کی خلاف ورزی پر تنخواہوں سے 41 کروڑ روپے کی کٹوتی
  • 11 ہزار ملازمین کو وضاحت کے نوٹس
  • مزید 800 ملازمین کے خلاف محکمانہ کارروائی جاری

اے آئی حاضری نظام کیا ہے؟

حکومت کے مطابق یہ صوبے کے محکمہ صحت میں پہلا اے آئی حاضری نظام ہے جو سرکاری ہسپتالوں اور مراکز صحت میں عملے کی نگرانی کرتا ہے۔ حکام نے ابھی تک یہ نہیں بتایا کہ یہ حاضری کیسے ریکارڈ کرتا ہے، کن مراکز میں لگا ہے، یا غلط اندراج کی صورت میں ڈاکٹر کہاں شکایت کرے۔ جس نظام سے کسی کی نوکری جا سکتی ہو، اس کے بارے میں یہ سوال جائز ہیں۔

بلوچستان کے لیے یہ کیوں اہم ہے

بلوچستان کے نظام صحت میں غیر حاضر اور گھوسٹ ملازمین کی شکایت پرانی ہے۔ دور دراز اضلاع کے مریض اکثر گھنٹوں سفر کر کے بنیادی مرکز صحت پہنچتے ہیں اور وہاں ڈاکٹر نہیں ملتا۔ اس سال کے آغاز میں محکمے نے طویل غیر حاضری پر 26 لیڈی ڈاکٹرز کو بھی برطرف کیا تھا، اور وزیر اعلیٰ بارہا ضلعی افسران سے حاضری رپورٹس طلب کر چکے ہیں۔

دوسری طرف صوبہ پہلے ہی ڈاکٹروں کی کمی کا شکار ہے۔ دور دراز اضلاع میں تعینات ڈاکٹر سیکیورٹی، رہائش اور تنخواہ کی شکایت کرتے رہے ہیں، اور 200 ملازمین کی برطرفی کے بعد خالی آسامیاں پُر کرنا ہوں گی۔ حکومت نے ابھی نہیں بتایا کہ نئی بھرتیاں کب ہوں گی۔

اتوار تک ڈاکٹروں کی تنظیموں کا کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا تھا۔ برطرف ڈاکٹر اسی قانون کے تحت محکمانہ اپیل کر سکتے ہیں، اور وزیر صحت کا کہنا ہے کہ تادیبی کارروائی جاری رہے گی۔

مزید پڑھیں