رام لیلا میدان میں انڈیا اتحاد کا جلسہ: راہل گاندھی کا چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر وار
اتوار کو دہلی کے رام لیلا میدان میں اپوزیشن نے ووٹر لسٹوں سے نام کٹنے پر بھارت کے الیکشن چیف کے خلاف جلسہ کیا۔ راہل گاندھی نے کیا کہا اور بی جے پی کا جواب۔


بھارت کی اپوزیشن جماعتوں نے اتوار، یکم نومبر کو دہلی کے رام لیلا میدان میں بڑا جلسہ کیا، جس کا نشانہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار تھے۔ راہل گاندھی نے مجمع سے کہا کہ “گیانیش کمار کے بغیر نریندر مودی وزیر اعظم نہ بنتے” اور یہ کہ کمار کو عہدے سے ہٹایا جائے گا۔ بی جے پی نے جلسے کو ناکام قرار دیا اور جوابی مارچ نکالا۔
جھگڑا کس بات پر ہے
تنازعہ اسپیشل انٹینسو ریویژن (ایس آئی آر) پر ہے، یعنی الیکشن کمیشن کی جانب سے ملک بھر میں ووٹر لسٹوں کی دوبارہ جانچ۔ اپوزیشن کا الزام ہے کہ اس کے ذریعے بڑی تعداد میں اصل ووٹرز، کے نام کاٹ دیے گئے، اور وہ اسے “ووٹ چوری” کہتی ہے۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد دہرے اور پرانے اندراجات صاف کرنا ہے۔
جلسے سے ایک دن پہلے کانگریس کی قیادت میں انڈیا اتحاد کی 21 جماعتوں نے ایک “فرضی پارلیمنٹ” لگا کر علامتی طور پر کمار کا “مواخذہ” کیا اور چھ نکاتی قرارداد منظور کی جس میں انتخابی دھاندلی کا الزام لگا کر ان کی برطرفی کا مطالبہ کیا گیا۔
کس نے خطاب کیا
اسٹیج پر راہل گاندھی کے ساتھ پریانکا گاندھی، مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی، سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو، بہار کے تیجسوی یادو اور کانگریس کے جنرل سیکرٹری کے سی وینوگوپال موجود تھے۔
راہل گاندھی نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ انہیں افسوس ہے کہ گیانیش کمار “ڈرے ہوئے ہیں اور رات کو سو نہیں پاتے”۔ تیجسوی یادو نے اسے “دھوکے کا الیکشن” کہا۔
بی جے پی کا جواب
بی جے پی نے مجمعے کے دعووں کو چیلنج کیا۔ پارٹی کے رکن پارلیمنٹ سمبت پاترا نے صحافیوں سے کہا کہ میدان کی 28 ہزار کرسیوں میں سے دوپہر کو پانچ سے سات ہزار خالی تھیں، اور دس لاکھ لوگوں کے دعوے کو رد کر دیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق دہلی پولیس نے حاضری تقریباً 50 ہزار بتائی۔
وزیر داخلہ امت شاہ نے بی جے پی کے مارچ کو روانہ کرتے ہوئے راہل گاندھی سے کہا کہ “آپ کی باری کبھی نہیں آئے گی”، اور پارٹی نے اپوزیشن پر حکومت کو غیر مستحکم کرنے کی سازش کا الزام لگایا۔ وسطی دہلی میں سخت سیکیورٹی، رکاوٹیں اور ٹریفک کی تبدیلیاں رہیں۔
پاکستانی کیوں دیکھ رہے ہیں
ووٹ کے حق پر یہ لڑائی ریاستی انتخابات کے اگلے دور سے پہلے بھارتی اپوزیشن کا سب سے بڑا امتحان بن رہی ہے، اور اتوار کو یہ بھارت میں سب سے زیادہ دیکھی جانے والی لائیو اسٹریمز میں شامل تھا۔ پاکستان میں بھی 2024 سے پہلے ووٹر لسٹوں اور الیکشن کمیشن کے کردار پر لمبی بحث ہوئی تھی، اس لیے یہ بحث جانی پہچانی لگے گی۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ الیکشن کمیشن چھ نکاتی قرارداد کا کیا جواب دیتا ہے اور کیا ایس آئی آر کا شیڈول بدلتا ہے۔ بھارتی آئین کے تحت چیف الیکشن کمشنر کو صرف اسی طریقے سے ہٹایا جا سکتا ہے جیسے سپریم کورٹ کے جج کو، یعنی پارلیمنٹ کے ذریعے۔



