دیا مرزا کی دیوالی ویڈیو: بمبئی ہائیکورٹ کا بی ایم سی کو ویڈیو بحال کرنے کا حکم
بی جے پی رہنماؤں کے اعتراض پر ممبئی کے بلدیاتی ادارے نے دیا مرزا کی آتش بازی سے پاک دیوالی ویڈیو ہٹا دی تھی۔ ہائیکورٹ نے پوچھا: کیا ہم سیکولر ملک نہیں؟

بمبئی ہائیکورٹ نے منگل 3 نومبر کو ممبئی کے بلدیاتی ادارے بی ایم سی کو حکم دیا کہ اداکارہ دیا مرزا کی دیوالی آگاہی ویڈیو دوبارہ لگائی جائے، جو بی جے پی رہنماؤں کے اعتراض کے بعد ہٹا دی گئی تھی۔ سماعت کے دوران بینچ نے پوچھا: “کیا ہم سیکولر ملک نہیں ہیں؟”
ویڈیو میں لوگوں سے آتش بازی کے بغیر دیوالی منانے اور سڑکوں پر پٹاخے نہ چلانے کی اپیل کی گئی تھی، جو فضائی آلودگی پر ہائیکورٹ کے پہلے حکم کے مطابق تھی۔ یہ ویڈیو بی ایم سی نے خود دیا مرزا سے بنوائی تھی۔
ویڈیو کیوں ہٹائی گئی؟
اعتراض مہاراشٹر کی حکمران جماعت کی طرف سے آئے۔ ممبئی کی میئر ریتو تاؤڑے نے کہا کہ دیا مرزا نے “ہمیشہ ہندو مخالف اور حکومت مخالف موقف” اپنایا، جبکہ ریاستی وزیر نتیش رانے نے سوال اٹھایا کہ بلدیہ ان کی تشہیر کیوں کر رہی ہے اور کہا کہ “ان جیسے لوگ سناتن ہندو دھرم کے خلاف ہیں۔”
تنازع بڑھنے پر بی ایم سی نے ویڈیو اپنے سوشل میڈیا سے ہٹا دی، جبکہ دوسری مشہور شخصیات کی ایسی ہی ویڈیوز لگی رہیں۔
ہائیکورٹ نے کیا کہا؟
جسٹس گریش کلکرنی اور جسٹس نیلا گوکھلے پر مشتمل بینچ نے یہ معاملہ فضائی آلودگی اور آتش بازی کے مقدمے کے دوران سنا۔ عدالت میں رپورٹ ہونے والے ریمارکس کے مطابق ججز نے کہا:
- “تہوار سب کے منانے کے لیے ہوتا ہے۔”
- “کسی کے حصہ لینے پر صرف اس لیے اعتراض کیسے کیا جا سکتا ہے کہ وہ کسی اور مذہب سے ہے؟”
- ماحولیات کے مسئلے کو فرقہ وارانہ رنگ نہیں دینا چاہیے۔
بینچ نے کہا کہ سیاستدانوں کے بیانات پریشان کن ہیں اور دیا مرزا نے آلودگی پر “بہت اچھا پیغام” دیا جو عدالت کے اپنے حکم کے مطابق ہے۔ جسٹس کلکرنی نے سپریم کورٹ کی اس رائے کا حوالہ دیا کہ دیوالی ذات یا مذہب سے بالاتر ہو کر منائی جاتی ہے۔
عدالت نے بی ایم سی سے کہا: “اسے دوبارہ لگائیں اور آئین پر لوگوں کا اعتماد بحال کریں۔”
پاکستان میں دلچسپی کیوں؟
44 سالہ دیا مرزا کے پاکستان میں بھی بہت مداح ہیں۔ دیوالی کے دنوں میں ممبئی کی ہوا بھی اسی طرح خراب ہوتی ہے جیسے اسموگ کے موسم میں لاہور کی، اسی لیے وہاں کی عدالتیں آتش بازی پر پابندیوں پر زور دے رہی ہیں۔
منگل کی شام تک بی ایم سی، میئر یا نتیش رانے کی طرف سے کوئی ردعمل نہیں آیا تھا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ویڈیو کب دوبارہ لگتی ہے۔



