سائیکلون مراسو اونگول کے قریب ساحل سے ٹکرایا: 110 کلومیٹر فی گھنٹہ ہوائیں
سائیکلون مراسو منگل کی رات ایک بجے آندھرا پردیش میں اونگول کے قریب ساحل سے ٹکرایا۔ حکام کے مطابق اب تک کسی ہلاکت کی تصدیق نہیں ہوئی۔ نقصان، پروازیں اور اوڈیشہ۔

بھارتی محکمہ موسمیات کے مطابق سائیکلون مراسو منگل 3 نومبر کی رات تقریباً ایک بجے جنوبی آندھرا پردیش کے ضلع پرکاسم میں اونگول کے قریب ساحل سے ٹکرایا۔ ہوا کی رفتار 110 کلومیٹر فی گھنٹہ اور جھکڑ 120 کلومیٹر فی گھنٹہ تک تھے۔ ایک ہفتے سے کم عرصے میں یہ ریاست سے ٹکرانے والا دوسرا طوفان ہے، اس سے پہلے سائیکلون ارنب آیا تھا۔
ہماری پچھلی خبر طوفان سے پہلے کے ریڈ الرٹ پر تھی، یہ اس کے آنے کے بعد کی صورتحال ہے۔
نقصان کتنا ہوا؟
پرکاسم اور ساتھ والا ضلع باپٹلہ سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔ ہزاروں درخت گرے، بجلی کے سینکڑوں کھمبے ٹوٹے، ماہی گیروں کی کشتیاں تباہ ہوئیں اور کھڑی فصلیں بچھ گئیں، جبکہ نشیبی علاقے پانی میں ڈوب گئے۔ محکمہ موسمیات نے ساحل پر عام لہروں سے ایک سے ڈیڑھ میٹر اونچی سمندری لہروں کی وارننگ دی تھی۔
پرکاسم کے گاؤں کوتھاپٹنم کے ماہی گیر کرشنمّا نے کہا: “یہ پچھلے 14 سال میں ہمارا دیکھا ہوا سب سے خطرناک طوفان ہے۔” ان کے گاؤں سے تقریباً 400 خاندان پہلے ہی منتقل کر دیے گئے تھے۔
کیا ہلاکتیں ہوئیں؟
آندھرا پردیش ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے سربراہ پرکھر جین نے منگل کو کہا کہ اب تک کسی ہلاکت یا زخمی کی اطلاع نہیں۔ بعد میں بھارتی میڈیا کی کچھ لائیو رپورٹس میں دو اموات کا ذکر آیا، مگر ریاستی حکام نے اس کی تصدیق نہیں کی، اس لیے یہ تعداد غیر مصدقہ ہے۔
حکام نے تقریباً 30 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا منصوبہ بنایا۔ بھارتی وزیر داخلہ امت شاہ نے ایکس پر لکھا کہ انہوں نے وزیر اعلیٰ چندرابابو نائیڈو سے بات کی ہے اور مرکزی حکومت ہر طرح کی مدد کرے گی۔
پروازیں، تامل ناڈو اور اوڈیشہ
- پروازیں: پیر کو وجے واڑہ، وشاکھاپٹنم اور تروپتی کے ہوائی اڈوں پر کم از کم 19 اندرون ملک پروازیں منسوخ ہوئیں۔
- تامل ناڈو: چنئی، چنگل پٹو اور تروولور میں اتوار کی رات سے شدید بارش ہو رہی ہے۔
- اوڈیشہ: ایک لاکھ 60 ہزار سے زیادہ افراد محفوظ مقامات پر منتقل کیے گئے۔ ریاست ابھی پچھلے ہفتے کے سائیکلون ارنب سے سنبھل رہی ہے، جس میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے کم از کم چھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔
پاکستان کے لیے
مراسو خلیج بنگال کا طوفان ہے اور پاکستان پر اس کا کوئی اثر نہیں، کیونکہ پاکستان بحیرہ عرب کی طرف ہے۔ مگر ایک ہفتے میں دو طوفان بتاتے ہیں کہ یہ موسم کتنا شدید رہا ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ اندرون علاقے کمزور ہوتے طوفان کے ساتھ ساحلی آندھرا پردیش میں شدید بارش کب تک جاری رہتی ہے، اور ڈیزاسٹر اتھارٹی ہلاکتوں اور فصلوں کے نقصان پر کیا بتاتی ہے۔



