آندھرا پردیش بلدیاتی انتخابات: ٹی ڈی پی اتحاد کا کلین سویپ، پولیویندولا بھی جیت لیا

ٹی ڈی پی کی قیادت میں اتحاد نے آندھرا پردیش کے بلدیاتی انتخابات میں کلین سویپ کیا اور جگن موہن ریڈی کا گڑھ پولیویندولا بھی جیت لیا۔

Officials sorting ballot boxes at a vote counting centre in Andhra Pradesh
تصویر: Eenadu

بھارتی ریاست آندھرا پردیش کے شہری بلدیاتی انتخابات میں تیلگو دیشم پارٹی (ٹی ڈی پی) کی قیادت میں اتحاد نے بھاری کامیابی حاصل کی ہے، اور سب سے علامتی جیت پولیویندولا میں ملی، جو اپوزیشن جماعت وائی ایس آر سی پی کے سربراہ وائی ایس جگن موہن ریڈی کا آبائی حلقہ ہے۔ ووٹوں کی گنتی منگل 3 نومبر کو ہوئی۔

حکمران اتحاد، یعنی وزیر اعلیٰ این چندرابابو نائیڈو کی ٹی ڈی پی، پون کلیان کی جنا سینا اور بی جے پی، گنتی کے دوران 13 میں سے 10 میونسپل کارپوریشنز اور 83 میں سے 62 میونسپلٹیز میں آگے تھا۔ وائی ایس آر سی پی کسی ایک کارپوریشن میں بھی برتری حاصل نہ کر سکی۔

اب تک کے نتائج

منگل کی شام تک اعلان شدہ نتائج:

  • ٹی ڈی پی: 41 میونسپلٹیز
  • جنا سینا: 14
  • بی جے پی: 3
  • وائی ایس آر سی پی: نندی کوٹکور
  • ادونی: جنا سینا کی باغی امیدوار سوپنا نے جیتی

ابتدائی رجحانات میں آزاد امیدوار تین میونسپلٹیز میں آگے تھے۔ وشاکھاپٹنم سمیت کارپوریشنز کے حتمی نتائج ابھی مرتب ہو رہے تھے۔

پولیویندولا کیوں اہم ہے

کڈپا ضلع کا پولیویندولا دہائیوں سے ریڈی خاندان کا گڑھ رہا ہے۔ اس بار اتحاد نے پولنگ والے 20 میں سے 17 وارڈز جیتے، اور بلا مقابلہ نشستیں ملا کر کل 37 وارڈز۔ اتحاد کی چیئرپرسن امیدوار گیتا کماری 13,875 ووٹوں سے جیتیں۔ وائی ایس آر سی پی صرف تین وارڈز جیت سکی۔

انتخاب اعداد میں

  • 92 شہری بلدیاتی ادارے: 13 میونسپل کارپوریشنز اور 79 میونسپلٹیز و نگر پنچایتیں
  • پولنگ اتوار یکم نومبر کو؛ ٹرن آؤٹ 60.96 فیصد
  • تقریباً 60 لاکھ ووٹرز؛ کونسلر کی نشستوں کے لیے 10 ہزار سے زیادہ اور میئر و چیئرپرسن کے لیے 520 امیدوار
  • 138 مراکز پر گنتی، پرکاسم اور باپٹلا اضلاع میں سمندری طوفان مراسو کی وجہ سے تاخیر

وائی ایس آر سی پی نے تمام 13 میئر اور تمام 70 مقابلے والی چیئرپرسن نشستوں پر امیدوار کھڑے کیے تھے، اس لیے یہ نتیجہ واقعی طاقت کا امتحان تھا۔

یہ کیوں اہم ہے

بلدیاتی ادارے شہروں میں سڑکیں، پانی اور نکاسی چلاتے ہیں، مگر آندھرا میں ان انتخابات کو ریاستی حکومت کی آدھی مدت پر عوامی فیصلہ بھی سمجھا جاتا ہے۔ جگن کے اپنے گڑھ سمیت اتنی بڑی جیت سے نائیڈو مضبوط ہوئے ہیں اور بی جے پی کے ساتھ ان کا اتحاد، جو وزیراعظم نریندر مودی کی مرکزی حکومت کا حصہ ہے، مزید پکا ہوا ہے۔

اگلا مرحلہ نئے منتخب کونسلرز کی جانب سے میئرز اور چیئرپرسنز کا انتخاب ہے۔

مزید پڑھیں