اسٹاک مارکیٹ کریش: ایس اینڈ پی 500 میں 4.4 فیصد کمی، اے آئی شیئرز بیٹھ گئے
جمعرات کو اے آئی اور چپ کمپنیوں کے شیئرز گرنے سے وال اسٹریٹ کا اپریل 2025 کے بعد بدترین دن رہا۔ اعداد و شمار، وجوہات اور پاکستان پر ممکنہ اثر جانیں۔

جمعرات 5 نومبر کو وال اسٹریٹ کا ڈیڑھ سال میں سب سے برا دن رہا۔ ایس اینڈ پی 500 انڈیکس 4.4 فیصد یعنی 334.89 پوائنٹس گر کر 7,353.73 پر بند ہوا۔ یہ اپریل 2025 کے “لبریشن ڈے” ٹیرف جھٹکے کے بعد ایک دن کی سب سے بڑی کمی ہے۔ ٹیکنالوجی کمپنیوں والا نیسڈیک 5.5 فیصد گر کر 24,315 پر آ گیا اور اب پچھلے مہینے کے ریکارڈ سے 11.9 فیصد نیچے ہے، جسے مارکیٹ کی زبان میں “کریکشن” کہا جاتا ہے۔
ڈاؤ جونز 1,833 پوائنٹس یعنی 3.4 فیصد گر کر 51,523.06 پر بند ہوا۔ اس کمی نے ایک دن پہلے کا وہ اضافہ بھی ختم کر دیا جو تین مہینوں میں مارکیٹ کا سب سے اچھا دن تھا۔
سب سے زیادہ کون سے شیئرز گرے؟
سب سے زیادہ فروخت ان کمپنیوں میں ہوئی جو مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے بوم سے اوپر گئی تھیں:
| شیئر | جمعرات کی کمی |
|---|---|
| اے ایم ڈی | 17.3 فیصد |
| کور ویو | 9.8 فیصد |
| اینویڈیا | تقریباً 9.3 فیصد |
| جی ای ورنووا | 7.5 فیصد |
اینویڈیا ایس اینڈ پی 500 کو سب سے زیادہ نیچے کھینچنے والا شیئر رہا اور اب اس سال 2.6 فیصد خسارے میں ہے، حالانکہ پچھلے تین برسوں میں یہ تقریباً 39، 171 اور 239 فیصد بڑھا تھا۔ ایس اینڈ پی 1500 کی 50 سے زیادہ ٹیک کمپنیوں کے شیئرز ایک ہی دن میں 10 فیصد یا اس سے زیادہ گرے۔ گنتی کے فائدے میں رہنے والوں میں ایپ لووِن تھی، جس کا شیئر اچھے نتائج اور 3.2 ارب ڈالر تک کے بائی بیک کے بعد 31 فیصد بڑھا۔
مارکیٹ کیوں گری؟
ایک ساتھ کئی خدشات سامنے آئے:
- امریکی مڈٹرم انتخابات: منگل کے انتخابات میں ڈیموکریٹس نے اچھی کارکردگی دکھائی، اور بہت سے ووٹر اے آئی اور بڑے ڈیٹا سینٹرز کی وجہ سے بڑھتے بجلی کے بلوں سے پریشان ہیں۔ سرمایہ کاروں کو ڈر ہے کہ کچھ حکومتیں نئے ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر سست یا روک سکتی ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس کمی کا ذمہ دار ڈیموکریٹس کو ٹھہرایا۔
- اے آئی ببل کی بحث: ناقدین مہینوں سے کہہ رہے ہیں کہ اے آئی شیئرز کی قیمتیں اصل منافع سے بہت آگے نکل گئی ہیں۔
- مہنگا قرض: زیادہ شرح سود کی وجہ سے ڈیٹا سینٹرز بنانا مہنگا ہو گیا ہے۔
- مشرقِ وسطیٰ کی جنگ: جس کی وجہ سے تیل کی قیمتیں اوپر نیچے ہو رہی ہیں۔
ٹرواسٹ ایڈوائزری سروسز کے چیف انویسٹمنٹ آفیسر کیتھ لرنر نے کہا کہ ٹیک شیئرز میں “خریداروں کی ایک طرح کی ہڑتال” نظر آ رہی ہے۔
یہ گراوٹ نیویارک تک محدود نہیں رہی۔ جنوبی کوریا کا کوسپی 5.3 فیصد اور جاپان کا نکئی 1.8 فیصد گرا۔ برینٹ خام تیل 3.9 فیصد بڑھ کر 98.29 ڈالر فی بیرل ہو گیا، جو ایک دن پہلے تقریباً 9 فیصد گرا تھا، اور بٹ کوائن تقریباً 76 ہزار ڈالر تک آ گیا۔
پاکستان کے لیے اس کا مطلب
پاکستان اسٹاک ایکسچینج جمعرات کی اس گراوٹ کا حصہ نہیں تھی: نیویارک کھلنے سے پہلے ہی کے ایس ای 100 انڈیکس 3,366 پوائنٹس بڑھ کر 175,379.87 پر بند ہو چکا تھا۔ جمعہ کا سیشن بتائے گا کہ عالمی ماحول کراچی تک پہنچتا ہے یا نہیں، جیسا کہ سیول اور ٹوکیو میں ہوا۔
پاکستان کے لیے ٹیک شیئرز سے زیادہ اہم تیل ہے۔ اب پیٹرول کی قیمتوں کا جائزہ پہلے سے کہیں زیادہ جلدی ہوتا ہے، اس لیے 100 ڈالر کے قریب برینٹ کا اثر پیٹرول پمپ پر پڑتا ہے۔ اے آئی پر خرچ کم ہوا تو امریکی کلائنٹس کے لیے اے آئی کا کام کرنے والے پاکستانی فری لانسرز اور آئی ٹی کمپنیوں پر بھی اثر پڑ سکتا ہے، اگرچہ ابھی اس کی کوئی علامت نہیں۔
اے آئی شیئرز کا اگلا بڑا امتحان اینتھروپک کی اسٹاک مارکیٹ لسٹنگ ہے، جس کے بارے میں سرمایہ کار اب کہہ رہے ہیں کہ وہ مؤخر ہو سکتی ہے۔
یہ معلومات ہیں، سرمایہ کاری کا مشورہ نہیں۔



