سعودی عرب کا 3 ارب ڈالر رول اوور: اورنگزیب کی تصدیق، امریکی 10 ارب غیر یقینی

سعودی عرب نے 31 اکتوبر کو واجب الادا 3 ارب ڈالر کی مدت بڑھا دی۔ وزیر خزانہ نے امریکا سے 10 ارب ڈالر کی سہولت پر توقعات کم کر دیں۔

A hand holding US 100-dollar banknotes in a counting machine
تصویر: Reuters

سعودی عرب نے اپریل میں پاکستان کو دیے گئے 3 ارب ڈالر کی واپسی کی مدت بڑھا دی ہے۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بدھ 4 نومبر کو اسلام آباد میں اس کی تصدیق کی۔ یہ رقم 31 اکتوبر کو واپس ہونی تھی، اور وزیر خزانہ نے صرف اتنا بتایا کہ مدت “مناسب عرصے” کے لیے بڑھائی گئی ہے، نئی تاریخ نہیں بتائی۔

صحافیوں کے سوال پر انہوں نے کہا: “جی، اس کی مدت بڑھا دی گئی ہے۔” انہوں نے اسے دونوں ملکوں کے “اسٹریٹجک تعلقات” کا نتیجہ قرار دیا اور اس بات کی تردید کی کہ پاکستان نے سعودی عرب سے کوئی اضافی رقم مانگی ہے۔

یہ 3 ارب ڈالر کس لیے تھے؟

یہ رقم اپریل میں تین ماہ کے لیے آئی تھی، تاکہ متحدہ عرب امارات کو تقریباً ساڑھے 3 ارب ڈالر کی واپسی سے پیدا ہونے والا خلا پُر کیا جا سکے۔ یہ سعودی عرب کے اس پرانے 5 ارب ڈالر کے ڈپازٹ سے الگ ہے جو اسٹیٹ بینک میں رکھا ہے اور جس کی مدت پہلے ہی 2028 تک بڑھائی جا چکی ہے۔

اورنگزیب کے مطابق انہوں نے بنکاک میں عالمی بینک اور آئی ایم ایف کے اجلاس کے دوران سعودی وزیر خزانہ محمد الجدعان سے اس پر بات کی۔

امریکا کے 10 ارب ڈالر کا کیا ہوا؟

جولائی میں پاکستان نے امریکا سے 10 ارب ڈالر کی “ایکسچینج اسٹیبلائزیشن سپورٹ فیسلٹی” مانگی تھی، یعنی حکومت کے لیے ڈالر کا ایک حفاظتی سہارا۔ بدھ کو وزیر خزانہ نے اس پر توقعات کم کر دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جولائی میں اصل مقصد عالمی منڈیوں تک دوبارہ رسائی تھا، جو ان کے بقول اب حاصل ہو چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر یہ سہولت مل جائے تو “بہت اچھا”، ورنہ پاکستان اس کے بغیر بھی آگے بڑھے گا۔ ان کے مطابق امریکی ایکسپورٹ امپورٹ بینک اور ڈیولپمنٹ فنانس کارپوریشن پاکستان میں کام کرنے والے امریکی سرمایہ کاروں کو “حقیقی قرض” دے سکتے ہیں۔

پیسہ کہاں سے آئے گا؟

وزیر خزانہ نے حکومت کا منصوبہ یوں بتایا:

  • ستمبر میں 3 ارب ڈالر کا عالمی بانڈ بیچا گیا جس کے لیے 6 ارب ڈالر کی پیشکشیں آئیں۔
  • مزید یورو بانڈ، چین کی منڈی میں پانڈا بانڈ، اور ایک نیا روپے سے منسلک بانڈ جس کی ادائیگی ڈالر میں ہوگی۔
  • بنکاک میں 70 سے 80 بڑے سرمایہ کار اداروں سے پانچ اور دس سال کے قرض پر بات چیت۔
  • دسمبر میں آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کا جائزہ، جس سے 7 ارب ڈالر کے پروگرام میں سے تقریباً 1.2 ارب ڈالر ملنے کی توقع ہے۔

اورنگزیب کے مطابق زرمبادلہ کے ذخائر 21.5 ارب ڈالر سے بڑھ گئے ہیں، جسے انہوں نے ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح کہا۔ یہ تین ماہ سے زیادہ کی درآمدات کے لیے کافی ہیں، اور ہدف سال کے آخر تک چار ماہ کا ہے۔

قرض کے اعداد و شمار

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ میں سیکریٹری خزانہ امداد اللہ بوسال نے بتایا کہ جون 2026 کے آخر تک سرکاری قرض جی ڈی پی کے 68.6 فیصد پر آ گیا، جو 2022-23 میں 75.1 فیصد تھا۔ بیرونی قرض 98.2 ارب ڈالر پر برقرار ہے۔ اس سال رول اوور کے بعد بھی 11 ارب ڈالر کی ضرورت ہے: 5 ارب ڈالر پہلے چار ماہ میں ادا ہو چکے ہیں اور 6 ارب اگلے سات ماہ میں ادا کرنے ہیں۔

اورنگزیب نے کہا: “ہمارا مقصد بالکل واضح ہے، ہم بیرونی قرض نہیں بڑھانا چاہتے۔” حکومت کو امید ہے کہ اس مالی سال کے آخر یا اگلے سال کے شروع تک کریڈٹ ریٹنگ بی پلس ہو جائے گی۔

آپ کے لیے اس کا مطلب

رول اوور کا مطلب ہے کہ پاکستان کو ابھی 3 ارب ڈالر نقد ادا نہیں کرنے پڑیں گے۔ اس سے روپے اور اسٹیٹ بینک کے ذخائر پر دباؤ کم ہوتا ہے، اور اس کا اثر پیٹرول سے دواؤں تک درآمدی چیزوں کی قیمتوں پر پڑتا ہے۔ اس ہفتے اسٹاک مارکیٹ بھی اوپر جا رہی ہے: بدھ کو کے ایس ای 100 انڈیکس 2.38 فیصد اضافے سے 172,013 پر بند ہوا اور جمعرات کی صبح بھی تقریباً 2 فیصد اوپر تھا۔

اب نظریں دسمبر کے آئی ایم ایف اجلاس اور ان سعودی ڈپازٹس پر ہیں جو دسمبر 2026 اور مارچ 2027 میں واجب الادا ہیں۔

یہ معلومات ہیں، سرمایہ کاری کا مشورہ نہیں۔

مزید پڑھیں