بائنانس پر رقم نکلوانا بحال: بٹ کوائن، ایتھر، یو ایس ڈی ٹی اور ایکس آر پی واپس
بائنانس نے اتوار کو مرحلہ وار ودڈرال کھول دیے، آغاز بٹ کوائن سے۔ کون سے کوائن نکالے جا سکتے ہیں اور چوری شدہ رقم کتنی پوری ہوئی۔

بائنانس نے اتوار یکم نومبر کو صارفین کے لیے رقم نکلوانے (ودڈرال) کی سہولت دوبارہ کھول دی، جس کا آغاز پاکستانی وقت کے مطابق صبح 11 بجے کے کچھ بعد بٹ کوائن سے ہوا۔ ہماری آج صبح کی رپورٹ کے بعد نئی بات یہ ہے کہ ایکسچینج نے اپنا وعدہ پورا کیا، اور اب کہتا ہے کہ جمعرات کی رات چوری ہونے والے تقریباً 6.3 ارب ڈالر میں سے 95 فیصد پورے کر دیے گئے ہیں۔ ایک دن پہلے یہ شرح 90 فیصد تھی۔
ابھی کون سے کوائن نکالے جا سکتے ہیں؟
بحالی مرحلہ وار ہے۔ پہلے مرحلے میں 15 اثاثے شامل ہیں، جن میں بٹ کوائن، ایتھر، ٹیتھر (USDT)، یو ایس ڈی کوائن (USDC)، بی این بی، ایکس آر پی اور ڈوج کوائن شامل ہیں۔ بائنانس کے مطابق باقی کوائن اور نیٹ ورک تب کھلیں گے جب وہ سیکیورٹی جانچ پاس کر لیں گے، اور اگلے مرحلے کی تاریخ نہیں دی گئی۔
بائنانس کے ترجمان نے کہا کہ صارفین کو ان کی رقم تک رسائی دینا ترجیح ہے اور یہ کام احتیاط سے کیا جا رہا ہے۔ کمپنی نے دہرایا کہ یہ نقصان صارفین پر نہیں ڈالا جائے گا اور وہ ذخائر کی مکمل رپورٹ (پروف آف ریزرو) جاری کرے گی۔
بائنانس نے نقصان کیسے پورا کیا
بائنانس کے مطابق اس نے اپنے پیسوں سے تقریباً 6 ارب ڈالر کے متبادل کوائن خریدے۔ یہ رقم صارفین کے لیے بنے ایک ارب ڈالر کے ہنگامی فنڈ (SAFU)، فیوچرز انشورنس فنڈ کے ایک حصے اور کمپنی کے خزانے سے آئی۔ شریک سی ای او یی ہی نے ہفتے کو کہا کہ SAFU کا آدھا حصہ استعمال ہوگا اور اسے دوبارہ ایک ارب ڈالر تک بھرا جائے گا۔ باقی 5 فیصد چھوٹے کوائنز میں ہے جو بڑی مقدار میں خریدنے میں وقت لیتے ہیں۔
چوری شدہ رقم میں سے تقریباً 3 ارب ڈالر، زیادہ تر USDT اور USDC، منجمد کیے جا چکے ہیں۔ بٹ کوائن اور ایتھر اس طرح منجمد نہیں ہو سکتے، اسی لیے ایف بی آئی کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کا ہیکنگ یونٹ ٹریڈر ٹریٹر انہیں آگے منتقل کرتا رہے گا۔
پاکستانی صارفین کیا کریں
- رقم نکالنے سے پہلے نیٹ ورک دیکھیں۔ اگر آپ کا کوائن پہلے مرحلے میں نہیں تو بٹن بند رہے گا، اس کا مطلب یہ نہیں کہ رقم ختم ہو گئی۔
- چند دن قطاریں اور تاخیر متوقع ہے۔
- واٹس ایپ یا ڈی ایم میں فیس لے کر فنڈز “کھلوانے” کی پیشکش کرنے والوں سے بچیں۔ بائنانس ایسا نہیں کرتا۔
- پاکستان میں کرپٹو کے قواعد ابھی نیا ریگولیٹر پی وی آر اے اور اسٹیٹ بینک طے کر رہے ہیں، اس لیے مقامی قانونی تحفظ محدود ہے۔
اتوار کی سہ پہر بٹ کوائن تقریباً 77,800 ڈالر پر تھا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ باقی کوائن کب کھلتے ہیں اور ذخائر کی رپورٹ کب آتی ہے۔
یہ معلومات ہیں، سرمایہ کاری کا مشورہ نہیں۔



