بائنانس ہیک: جعلی جاب انٹرویو سے 6.3 ارب ڈالر کی کرپٹو چوری کیسے ہوئی
بائنانس کی اپنی رپورٹ کے مطابق حملہ مہینوں پہلے ایک زہریلے ڈاؤن لوڈ اور جعلی ریکروٹر سے شروع ہوا۔ مرحلہ وار تفصیل اور پاکستانی فری لانسرز کے لیے سبق۔

نئی بات: بائنانس نے منگل کو اپنی رپورٹ جاری کی ہے کہ 29 اکتوبر کو ہیکرز نے اس سے تقریباً 6.3 ارب ڈالر کیسے چرائے، اور کہانی کسی کوڈ کی خرابی سے نہیں بلکہ ایک جعلی جاب انٹرویو سے شروع ہوتی ہے۔ کمپنی کے شریک سی ای او رچرڈ ٹینگ نے کہا کہ حملہ آوروں نے “اندر گھسنے میں مہینے لگائے”۔ (ہماری پچھلی خبر: بائنانس نے نکلوانے کی سہولت بحال کر دی)
ایف بی آئی پہلے ہی اس کا الزام شمالی کوریا کے ہیکر گروپ ٹریڈر ٹریٹر پر لگا چکی ہے۔ ٹینگ نے خود کسی ملک کا نام نہیں لیا مگر منگل کو ٹی وی انٹرویو میں ایف بی آئی کے نتیجے کا ذکر کیا۔
حملہ مرحلہ وار
بائنانس کی منگل 3 نومبر کو جاری کردہ سیکیورٹی رپورٹ کے مطابق:
- جون: بائنانس والٹ ٹیم کے ایک انجینئر نے انٹرنیٹ پر اے آئی کوڈنگ ٹول ڈھونڈتے ہوئے ہوم بریو نامی مشہور سافٹ ویئر کی چھیڑی ہوئی کاپی انسٹال کر لی۔ بائنانس نے اسے پکڑ لیا، لیپ ٹاپ بدلا اور پاس ورڈ تبدیل کیے، مگر وہ انجینئر اور اس کے ساتھی حملہ آوروں کی نظر میں رہے۔
- ستمبر: ایک اور سافٹ ویئر انجینئر سے ایک اصلی جاب پلیٹ فارم پر کسی نے خود کو پروجیکٹ ڈائریکٹر ظاہر کر کے رابطہ کیا۔ ایک جعلی ایچ آر نمائندے نے ویڈیو انٹرویو لیا، پھر ایک جعلی “سی ای او” نے دوسرا انٹرویو لیا اور کوڈنگ اسائنمنٹ ڈاؤن لوڈ کرنے کو کہا۔ انجینئر نے اسے دفتر کے کمپیوٹر پر کھولا۔ اس کے اندر ایسا میل ویئر چھپا تھا جسے بائنانس کا سیکیورٹی سافٹ ویئر نہ پکڑ سکا۔
- 20 اکتوبر: اسی کمپیوٹر سے حملہ آوروں نے بائنانس کے ایک اندرونی اے آئی ٹول کے ذریعے والٹ کے دو انجینئرز کے کمپیوٹرز تک رسائی حاصل کی۔
- 29 اکتوبر: چوری شدہ لاگ ان سے انہوں نے بائنانس کے سسٹم میں ایک پروگرام چلایا اور نقصان دہ اسکرپٹ چلائی۔ رقم 20:05 یو ٹی سی (پاکستان میں 30 اکتوبر رات 1:05 بجے) نکلنا شروع ہوئی۔ انہوں نے ایتھریم کے ایک نئے فیچر EIP-7702 کے ذریعے ایک ہاٹ والٹ کا کنٹرول لیا، یعنی وہ آن لائن والٹ جس سے روزانہ کی رقوم نکلتی ہیں۔ بائنانس کے مطابق تقریباً چار گھنٹے بعد 00:10 یو ٹی سی پر حملہ روک دیا گیا۔
رقم کی صورتحال
- بائنانس کے مطابق متاثرہ اثاثے 6.34 ارب ڈالر کے تھے اور کمپنی نے اپنے فنڈز سے تقریباً 98 فیصد پورے کر دیے ہیں، اس لیے صارفین کا نقصان نہیں ہوگا۔
- کمپنی کے مطابق ٹیتھر اور سرکل جیسے شراکت داروں کی مدد سے تقریباً 3 ارب ڈالر کی چوری شدہ کرپٹو منجمد کر دی گئی ہے۔ باقی رقم اب بھی منی لانڈرنگ کے راستوں سے گھمائی جا رہی ہے۔
- بائنانس کا کہنا ہے کہ اس سال اس نے شمالی کوریا سے منسلک 57 مشتبہ کوششیں ناکام بنائیں۔
کمپنی نے والٹ سسٹم اور غلط استعمال ہونے والا اے آئی ٹول دوبارہ بنایا ہے، متاثرہ کمپیوٹرز بدلے ہیں، انجینئرز کے لاگ ان ختم کیے ہیں اور ایک آزاد ماہر کو جائزے کے لیے بلایا ہے۔
پاکستان کے لیے یہ کیوں اہم ہے
ہزاروں پاکستانی ڈویلپرز اور فری لانسرز روزانہ جاب پلیٹ فارمز پر ریموٹ کام ڈھونڈتے ہیں، اور “پہلے یہ کوڈنگ ٹیسٹ کر دیں” ایک عام فرمائش ہے۔ یہی دروازہ یہاں استعمال ہوا۔ چند اصول جو اس حملے کو روک سکتے تھے:
- کوئی بھی ٹیسٹ یا “سیمپل پروجیکٹ” اس کمپیوٹر پر نہ چلائیں جس پر آپ کام، بینکنگ یا کرپٹو والٹ استعمال کرتے ہیں۔ الگ کمپیوٹر یا عارضی ورچوئل مشین استعمال کریں۔
- سافٹ ویئر صرف آفیشل ویب سائٹ سے ڈاؤن لوڈ کریں، سرچ اشتہار سے نہیں۔
- اگر ریکروٹر بہت جلدی کرے، اس کی پروفائل نئی ہو یا پہلے ہی راؤنڈ میں “سی ای او” آ جائے تو ہوشیار رہیں۔
- اگر کال پر “زوم کا مسئلہ” بتا کر کوئی اپ ڈیٹ یا فائل انسٹال کرنے کو کہا جائے تو رک جائیں۔
پاکستان میں بائنانس صارفین کو کچھ نیا کرنے کی ضرورت نہیں: بیلنس محفوظ ہیں اور یکم نومبر سے رقم نکلوانے کی سہولت مرحلہ وار بحال ہو رہی ہے۔ پاکستان میں کرپٹو کے قواعد ابھی پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی (پی وی اے آر اے) طے کر رہی ہے، اس لیے ایکسچینج صارفین کو مقامی قانونی تحفظ محدود ہے۔
یہ معلومات ہیں، سرمایہ کاری کا مشورہ نہیں۔



